📱

Get Our Mobile App

Take your business learning on the go!

Download on the App StoreGet it on Google Play

Surah 2: Surah Baqarah Ayat 285 Tafseer by Dr. Farhat Hashmi

Ayat to Ayat Quran Tafseer25:31

Transcription

اے آمدِ رسول، بلاؤز لُٹ، رسول، رسول لے آیا ہے کو اشارہ ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف، جن پر یہ کتاب نازل ہوئی ہے، مشترکہ خاندان، لہو، ڈبکی کی کوشش پر توجہ، اس کی طرف اتاری گئی تھی کہ چوٹالہ کیا کہ قرآن میں مذکور مشہور، قرآن میں یاد رکھیے، سورۃ انصار، ون منتری میں آتا ہے، وہ جل لالا ہوا، نکل، کتاب اور حکمت، پرکار، تو گھوم، ضلع کا مطلب کیا ہے، وہ سب کچھ جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا تھا، کہ تیگ مانشو ضروری ہے، اور اس پر عمل ہونا کیوں ضروری ہے، جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری گئی تھی، کہ قرآن اور سنت پر، کتاب، حکمت پر، ایمان لانا کیوں ضروری ہے، کچھ بتائے گا آپ میں سے، کہ جو کرے، اس کا پوچھ لیا، اس دن ہوتا کیا ہے، ایمان ہوتا ہے کسی چیز پر ایسا یقین، کہ جسم میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہ ہو، اے وِکٹم، مکمل، مکمل، اعتماد ہے، بھرپور اقرار، پوری پوری طبیعت، کیا ہے اس میں، اتنا یقین، اقرار اور قبولیت، یہ تینوں درج ہیں، ان افراد کے پاس، نہیں بول رہی ہوں میں، پہلے ہے تب، بعد، یقین مان جانا، کسی چیز کو، عام، کا، کچھ، کر، ارے یہ کہاں کا کام ہے، دل کا، دوسرا ہے، پھر یہ کس کا کام ہے، جب کا، اور تیسرا، قبول ہے، کہ عمل سے، عادوی رویہ کو، بھول کر لینا، تو پھر اپنے عمل، ویسے، شن کر لینا، جیسے اس کتاب نے کہا تھا، کہ قبولیت، جس کو جو پکڑ ہو جائے، کہ میں انتظار میں ہوں، اور میں نے، الارم، کاؤ، ہاؤس میں ہو رہا ہے، میرے کمال کا حساب ہوگا، کیا، پورا، چین سے بیٹھ سکتا ہے، وہ کیا چاہے گا، کچھ کرنا چاہے گا، چلی، کسی کے بارے میں، چھوڑی، اپنا سوچئے، آپ اپنے آپ کو، تو سفر کیجئے، کیسی زمین پر، جس کا مالک اللہ ہے، اور اس کے اوپر، ایسے چھت، آسمان کی، جس کا مالک کرنا ہے، کہ یہ جو شرم، اللہ کا ہے، یہاں پر، واپسی بھی اسی کی طرف ہے، اور جو کچھ، کر رہی ہے، سب کچھ لکھا جا رہا ہے، ریکارڈ ہو رہا ہے، بس اب کھلے گا، مجھے دکھایا جائے گا، اب کچھ تو پہنچاؤ، سزا کا دن ہوگا، وہ، کہ شارو، سارا فیصلہ، اللہ کے ہاتھ میں ہوگا، جس چوہان، کام کرے گا، جسے چاہے، 10,000 دے گا، تو بتائیے، کیا کرنا چاہیں گے، کہ آپ اس زمین پر، اپنا وقت، کیسے گزاریں، کس کی مرضی کے مطابق، اللہ کی مرضی کے مطابق، مشین کہاں سے معلوم ہوگی، تو، قرار، محبت سے اٹھانے کے لیے، کیا ضروری ہے، سب سے پہلے، ایمان، وِکٹم، اسی لیے تو، کیا کروں، میں، سورۃ البقرہ کے، پردھان، راہ، نکل، کتاب، ہو، نا رہی، بپی، کس لیے آئی ہے، یہ کتاب، جس میں کوئی شک نہیں، پورا، उत्पाद، رکھی، یہ تین، رکھ، کو، ادھر، मृतक ہیں، وِداؤٹ کے لیے آئی، کھانے کے لیے آئی، اور آج، آپ کی، किशोर، بقرہ، مکمل ہو رہی ہے، گیا، رہنمائی کا، ایک بات، مدھبن ہوا ہے، کہ کس میں، کتنی، موبائل، پہلے، کتنے، وِدھائک ہیں، اس کے انوسار، اس شخص پر، یقین، کس طرف پر، امام کی، اس کرتی، اپنے زیادہ، آپ کو، اسپرے، ٹماٹر کی، سب کچھ سچ ہے، اتھا، زیادہ، آپ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، پُش، کسی ڈاکٹر کے پاس جائیں، اور وہ آپ کو، دو، دوا دے، اور آپ کے، धर्म، विशेष، کے نہیں، اس میں کچھ صحیح سمجھا نہیں ہے، میرا کیس، اب تک، یہ تو آپ ٹھیک بھی ہے، یا نہیں، چھپا نہیں ہو سکتا ہے، ہاں، بس ادھر سے، ٹیسٹ بھی کیے گئے ہیں، کہ دیش میں، مریضوں کو، دوا دینے کی بجائے، سر، سادہ پانی دیا گیا ہے، لیکن یہ شخص، یہی آپ کے، فادر کا ہے، اور وہ بھی، کی، قوت کے ساتھ، پانی میں، ان کے لیے، سپا بن گیا ہے، کہ یقین کی، بہت، بہت، بہت، بہت ہے، انہوں نے کوئی بات نہیں ہے، ہمارے حالات کی، دلوں کی، زبان کی، امن کی، درست کی، کی بنیاد، ایمان پر ہے، اللہ پر، اس بات پر ہے، جتنا زیادہ، پکا، تین ہوگا، اتنا زیادہ، ہم اپنے آپ کو، اس کے حوالے کر دیں گے، اپنی خوشی کے ساتھ، تو، یار، چندن کی، تو بات ہے، مشکل بھی ہوگی، تو ابھی، میں وہی کروں گا، جو تو چاہتا، کہ تجھے پسند ہے، اس لیے بات، ایمان پر آ گئی ہے، مگر، روز، صبح، ان، جلا، یودھیشٹیر، دروپدی، ڈیم، رسول، اس پر، جو اس کی طرف اتاری گئی، اس کے رب کی طرف سے، کم ہوتا ہے، حالِک، مالک، مدھور، اس نے، اس کو پیدا کیا ہے، رَسُخ، والے کی، نہیں ہوتا ہے، جو اس کا مالک ہے، یہاں پر، جو اس کو، سب کچھ اچھا کر رہا ہے، جو اس کا راج، ایک دوست کی طرح، وہی بھیج رہا ہے، تو شاید، اس پر، ایمان لے آیا ہے، اور صرف، سورج کی، پور، ون، اور ساری، بھن ہے، تیرے بھون کی، موت، کیوں، اس لیے کہ، یہ موومنٹ، کہلائی نہیں سکتا، جب تک کہ، وہ اس چیز کو، نہ مانے، جو رسول کی طرح، بھیجی گئی ہے، ایمان کے ساتھ، میں، کچھ شامل نہیں ہو سکتا، جب تک کہ، کوئی شخص، اس بات پر، پکا، یتیم نہ کر لے، اس میں کوئی شک نہ ہو، کہ جو کچھ، اللہ نے اس کتاب میں، بھیجا ہے، وہ بالکل سچ ہے، میری سمجھ میں آتا ہے، یا نہیں آتا، لیکن میں اس کو، سچا مانتا ہوں، کیونکہ اس کی طرف سے، دیش نے، یہ دنیا بنائی، جسے مجھے بنایا، جس سے یہ سب کچھ بنایا، اگر اس کی بنائی ہے، کائنات میں، کوئی پرابلم نہیں، تو اس کتاب میں، خلل نہیں ہو سکتا، کنڈان، سارے کے سارے، سارے کے سارے، کام، وے، رَسلر ہے، باقی سب، موومنٹ، آف، بنا، ایمان لائے ہو، ممبئی، اللہ پر، سپنا، خاندان رکھتے ہیں، اس کا کیا مطلب ہے، انمول کی، جانچ پر، ایمان رکھتے ہیں، कलाकार، خوبصورت ہے، اس کی صفائی پر، دھیان رکھتے ہیں، کہ بہترین، انتخاب، اور کام، ماڈل، اچھی صفائی، پُشتی کی ہے، وہ خوبیوں کا مالک ہے، تو پھر، اس کے علاج ہونے پر، طرح کی، کی، الٰہی، گیلا ہونے پر، ایمان رکھتے ہیں، کہ اسما، بھی، دُکھی ہے، کہ اگر اس، خراب ہونے پر، کہ وہ ہمارا، خالق، مالک، کر رہا ہے، ان، ان چار چیزوں کو، ماننا، جو ہے، وہ ایمان لانے کا، تقاضا ہے، کون سی چار چیزیں، اللہ کی، ساتھ کو، ماننا، اللہ کی، شروعات کو، ماننا، اس کو، ایک، ما، भूत، ماننا، اور اسی، خراب، ماننا، تھا، کہ یہ، وِیاضی، چیز ہے، میں تجھے، گھوم گیا، پڑھتے، انو، شِت، اپنے، جائز، لے کر، جانچ کریں، کہ کیا آپ یہ سب مانتے ہیں، کیونکہ مومن، تو ہے ہی، وہ، جو، لاکھوں، پانڈیا، اس طرح، بہانے، ورن، کرتی ہوئی، اور اس کے، परिचितوں کو بھی، مانتے ہیں، اس کے، فرشتے، پر، ایمان رکھتے ہیں، پر، رِشتے، روی، مکانوں کے، نور سے بنے ہوئے، سن وِدان کو، نہیں معلوم، سب کے نام بھی، ہم کو نہیں پتہ، تھا، میرے فون، ان کے بارے میں، اتنا ہی جانتے ہیں، جتنا اللہ نے، اپنی کتاب میں، یہ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے، اپنی شادی سے، بتا دیا، کچھ بڑے، فرشتے ہیں، کچھ اور کاموں پر، مقرر ہیں، ان کے نام بھی، میں، بتائیں گے، وہ اپنا، ہم جانتے ہیں، لیکن ہم ان کو بھی، مانتے ہیں، ہم کے بارے میں، ہمیں پتہ ہے، نام بتائے گا، اور ان کا، رِشتے، کو بھی، مانتے ہیں، جن کی تعداد، ہم کو نہیں معلوم تھا، میں اسی کے، سورۃ البقرہ، کیا، آواز ہے، آپ نے پڑھا تھا، ال، مدینہ، یُگمو، نا، بالکل بھی، اس کتاب سے، فائدہ اٹھا سکتا ہے، ڈرائڈ پر، अनुमान لگاتے، تو، فرشتے، پر، ایمان، ایمان، دُرگا، کا حصہ ہے، میں اس کو، بغیر، ایمان، وہ، کمبل، نہیں ہوتا، بھی، ہوں، تو بھی، اور اس کی، کتابوں کو بھی، مانتے ہیں، میں کچھ، کتابیں، تھوڑے، معلوم ہیں، کون سی، طرح، جگہ، منزل، کو رائنتھ، اور کچھ، کتابیں، ایسی ہے، یہی، کو، ایسے ہیں، جن کے بارے میں، ہم کچھ نہیں جانتے، ان کے نام بھی، نہیں پتہ، ان کو، کنٹینٹ، نہیں پتہ، کہ پیغمبر پر، یہ بھی نہیں پتہ، لیکن ہم سب، کتابوں کو، بعد، دیکھو، تو بھی، ہی، اس کی، کتابوں پر، کتابی، کیوں، اونچی، اللہ، عین وقت پر، وقت، لوگوں کی، ہدایت کے لیے، تالی بات ہے، یہ اس کے، یہ کیا بات ہے، وِردی ہوئی، اور اس کے، سارے، پرسنل، کو، مانتے ہیں، کچھ، سکول، ایسے ہیں، جن کے نام، ہمیں معلوم ہیں، اور کچھ، ایسا ہے، تو جن کے نام، ہمیں نہیں معلوم تھا، کہ قرآن پاک، مِلا، تھانہ، فرام، تھے، اور ہم، استر، کٹ، آپسی، پریم، نے بہت سے، سمجھائیں، ان میں سے، کچھ ایسے ہیں، جن کا ہم نے، آپ پر، جا کر، کر دیا، پرانی، پارٹی میں، تقریبا، 25 کے قریب، نا، باتیں، کچھ نام پر، وہ، جس میں، پر، نارمل، ہم، نق، سال، ایک، اور ان میں سے، کچھ ایسا ہے، تو جن کا، جا کر، بھی، نہیں کیا، मेले میں، پتہ بھی نہیں، نام بھی، نہیں معلوم تھا، لیکن ہمارا کام کیا ہے، کہ ہم سب، ان پر، ایمان رکھتے ہیں، تو اللہ کے بھیجے ہوئے، پرسنل، کا، کیا کام ہوتا ہے، رُک، کلیکشن، مانا، کیا، پرنام، لانے والے ہیں، نا، سمارت، جون، ترل، ہن، وہی، اتاری، اپنی، ہدایت، اتاری، جو چاہتا، کیا، اور ان کو، یہ حکم دیا، کہ واٹ، چاہے، ان کو، روکا جاتا ہے، کون ہے، تیرا، فون نمبر، ایک بار، دھوتے ہیں، اور تو نہیں ہوتی، نمبر دو، ہم پر، انا کی طرف سے، بڑھیا ٹی، نمبر تین، ہم کو، یہ کم ہوتا ہے، کہ وہ اس، وہیں کو، آگے، پہنچائے، کہ، کے، انوپات میں، त्यौहार، رسول، بن، لگنا، ان، جلے، کبیر، اول، ہم، تکال، پر، بھا لگتا، رِسالت، روشن، لال، سلام، پہنچا دیجئے، جو آپ کی طرف، کی طرف سے، اتارا گیا، اور اگر آپ نے ایسا کیا، تو آپ نے، رِسالت، کا حق، ادا نہیں کیا، تو اس آیت کی، ذمہ داری میں سے، کیا ہے، تو ہم کو، آگے بھی، پہنچانا تھا، تو کتنے، برس، سنائے، انہوں نے، اپنی، کو، پرنام، پہنچایا، ہم اسے، پیسوں پر، ایمان رکھتے ہیں، کہ میں نے، شریر کو، گنگا، درگوتس، لکھیے، ہم اس کو، رسولوں میں، کسی قسم کی، کی طرف، نہیں کرتے، ہم ان میں سے، کسی کا، درد، دانت، فرق نہیں کرتے، اس بات میں، فرق نہیں کرتے، ان کو، دیر، رات میں، نہیں، تم پر، ایمان لانے میں، یہ بات یاد رکھیے، اس میں، اگر سوال ہو، تو جواب صحیح لکھیے، اور یہ مت لکھیے، کہ انتظار میں، فرق نہیں کرتے، پگھلانے کو، الگ الگ، رکھیں، ان کے، کرانے، پاک میں، نکارم، تک، تیل، کر، لو، سنو، سب، دھن، لاب، بعد، یہ، اوبلا، بعد، تیسری، پاری کی، پہلی، آتا، پک، چکے ہیں، یہ، رسول، ہم، لے، میں، سبھا، اس کو، گیس پر، प्रतिबद्ध، تا، کی، وُمن، کلا، بَننا، ہو، بس، چلانے، کلام، کیا، وُفّا، وہ، ذرا، جات، اور، باس، کو، دَرسوں، میں، بلندیاں، تاکہ، تو، مر جاتی ہے، پانچ، من پسند ہو، روشن، مجھے، دُکان، کون ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم، ابراہیم علیہ السلام، حسین علیہ السلام، والے، کُم، سلام، و، اسلام، عید مبارک، وہ، اس طرح، سب سے، پہلا، آپشن، محمد رسول اللہ ہے، صلی اللہ علیہ وسلم، اس کے بعد، ابراہیم، لیسن، آف، اے، پون، کے، انوسار، خطرناک، حد، ضرور، لکھیے، ہم اس کو، رسولوں میں، کسی قسم کی، کی طرف، ٹھیک نہیں کرتے، یعنی، صاحب، رَسُولوں، پر، ایمان رکھتے ہیں، جن کو بھی، اللہ کے، رسول بنا کر، بھیجا، ان کو، نہیں مانتے، جو خود بخود، رُوشیل، بن گئے، جو لوگ، دعویٰ، کر دیا، پر، کار، ڈو، اور وہ سب، کہتے ہیں، کون کہتے ہیں، رسول، اور وہ، بن، سمے، نا، ہم نے سن لیا، وہ، بتانا، تُم، بن، کون ہوتا ہے، پھر، جو کہتا ہے، سمے نا، بتانا، جو ایک بات کرتا ہے، طاقت، یعنی، فرمانبرداری، ویڈیوز، بات، ماننا، یہ، ایمان کا، حصہ ہے، اس لیے، کرانے، مسجد میں، نُوو، نُوسان، ہٹایا ہے، وہ لوگ، جَزمان، لہروں میں، اچھے اچھے، کام بھی، کیے، تو یہ، ایمان والوں کی، شان ہے، آپ سوچیے، کہ ہم، ایمان، اُڑانے، اور پر، گولی، اُس، سمے، ہے، نا، وہ، ہٹانا، کیا، صبح، اب تک، آپ نے، پوری، سورۃ البقرہ، اور سُتُل، بقرہ، ایسی، سورت ہے، کہ جس میں، اکاؤنٹ سے، مُتَلِق بھی، آیات ہیں، جیسے، آیت الکرسی، اور اس کے علاوہ بھی، اور آیات، ڈیوٹی، اے، واردات سے پہلے، صلاۃ سے، بوتل، لکھ، زکوٰۃ سے، مُتَلِق، ہاتھ سے، وِدھایان، سے، مُتَلِق، اکسمات، مضبوط ہے، تو اسی طرح، معاملہ، جیسے، خاندانی، زندگی کے، معاملات، جس میں، طلاق، عزت، نکاح، کے بارے میں، پرافٹ، کی، اسٹوریز، بھی، موجود ہیں، جو معاملہ ہے، یا نہیں، واسطو، زندگی کے بارے میں، اور اُورک، کے بارے میں، کم، آٹھ، مضبوط، 150، سبھی، پہلوؤں کے بارے میں، پرواسیوں کے، کمزور، طبقہ، جیسے، یتیموں کی، حکومت، سکن، اس کے، اور مسافروں کے، اور خا، تین، رُک، آئی ڈی، زندگی کی، حفاظت میں، کا، طلاق، دَت، رَجَت، ان سب چیزوں کے بارے میں، تو زندگی کے، پاس، وقت، تو اس وقت، ایل، بم کی، یہ، کَمات ہیں، تم، مت، استُوت، کی، ذمہ داریاں، بتائی گئی، کہ بحث ہے، تم، ہمارا، کردار، کیا ہونا چاہیے، اور انہیں، تو وہ سب، کہہ کر، ہم کو، تو دال کی، تعلیم دی گئی، لوگ، اسٹریم، उत्तम، ورت، اور میں، پریت، یہ سب کچھ، ہم نے، ٹارچ، شروع، بقرہ، بقرہ، بقرہ، کو، اسپیشل، आतंकवादी، کہتے، پُستک، کاپی، پُستک، پر، سمپل، گُپتا، ہوں، تو اب، جو کچھ، آپ نے سنا، تو مومنوں کو، کیا کہنا چاہیے، اس، سمے نا، بتانا، دونوں، سونا، اب ہم بات کریں گے، ہم بات کریں گے، انشاء اللہ، سمے نا، وہ، ہٹانا، لیکن، پُور، کمی بیشی، تو ہو جاتی ہے، نا، جتنی کوشش کر لے، ٹھیک ہے، جو، سمے دینا، پڑتا، کر سکتا ہے، اگر ہم نے، سورۃ تک، بقرہ، پڑھی ہوئی، نا ہوتی، کیا ہم کہہ سکتے تھے، سمے میں، یہ، کب کہہ سکتے ہیں، جب ہم سنیں، تو دن کی، طرف میں، اور ایمان لانے کے بعد، پہلا کام، جو کرنے کا، وہ ہے، ان، भाषण، کرنا، سیکھنا، جاننا، اور سوچنا، کے لیے، استاد، چاہیے، اور وہ، شِشُوں، کی، ضرورت، جواب، سن، تو، آپ کہہ سکتے ہیں، سمے نا، اور اگر آپ نے سنا ہی نہیں، اور آپ کریں، سمے نا، کس بات پر، کریں، سمے نا، بتانا، اور ہمیں، اجازت کی، دشمن، رَوشَن، جو، تک، تو چلا جائے، اور کہیں، کہ بستی، کو، دو، سَجنا، سن لیا، اس کا، آتی ہے، سمے، آئجن، کو لے کر، کہ آپ نے، سنا ہوا ہے، ہم تو، پہلے سے ہی، جانتے ہیں، نہیں، صرف، سننا بھی، کافی نہیں، سمے، نظر آتا ہے، نا، یہ، وہ، کِسان، سبھا، میں، وِثانا، لوکا، یُت، کی، کوشش کے باوجود، انسان سے، بھول، چُوک، ہو جاتی ہے، تو اللہ، تالا، میں، اپنی، احمد کے ساتھ، ہم کو بھی، سکھا دیا، کہ کیا، کہاں پر، ہو، پران، تیری، بخشش، کہ یہ، سب، بتا، نَس، انو، قران کا، اللہ، ہم تجھ سے، سوال کرتے ہیں، تیری، بخشش، کا، کتنا، ڈُون، پلے، ہمارے، آپ، چھپا لے، ہماری، ہوتا ہے، اس، دُرگیش، شرما، وہ، پران، یوٹیوب، نے کہا، اللہ اکبر، لانا، و، بنا کر، لانا، کیوں کہا، خوب، رونق، فل کی بجائے، جب، استر، کا استعمال ہوتا ہے، تو معاملے میں، اور، شُدھتا، جاتی ہے، مطلب، آپ کسی سے کہیں، میں لیے، پانی لے، میں تم سے، پانی کا، سوال کرتی ہوں، اور دوسرا، کہے، پانی، پانی، پانی پر، خرچ، کون سا، زیادہ، ایفیکٹیو، پانی، پانی، پانی، تو، جمو کی، جگہ، جب، لپس، کافی ہو، تو زیادہ، ایفیکٹیو ہوتا ہے، لمبا، ہاتھوں کی، نسبت، مختصر، کلام، زیادہ، ایفیکٹ ہوتا ہے، تو کیا، سکھا دیا، جب، وہ، پرانوں پر، کتنا، بھر کے، منہ سے، نکلتا ہو، پران، وہ، پران، ک، تیری، بخشش، تیری، بَخْش دو، ہو چکے، گناہ، تو، دوست، دبا ہوتا ہے، جتنا، بجے ہوتا ہے، جتنا، شرمندہ ہوتا ہے، اپنے ہی، کم، لکش، بولتا ہے، تھینک یو، جب آپ، سنجیدہ ہوتا ہے، بخشش، مانگنا، میں، تو پھر، کیا ہوتا ہے، معاف کر دے، معاف، چاہیے، یا، LTE، بَخْش تو، بَخْش بس، اتنا ہے، تیری، بخشش، اور باقی، دل میں، ہمارے لیے، کہ جب، انسان کے، دن کے اندر، اک، طوفان ہوتا ہے، اور الفاظ، ساتھ نہیں دیتے، تو پھر، انسان، کیا کرتا ہے، تو ایک، لفظ، سُدھار، کافی سمجھتا ہے، آر، رحمان کے لیے، کلب، سِکارتی ہے، مرنے والے، تو بنو، کی، سُوجی، سے، بننے والے، بھون، و، پرگَنک، تیری، بَخْش دو، ہر انسان کو، بخشش کی، ضرورت ہے، یہ، روشن بھی، کہہ رہے ہیں، ایمان والے بھی، کہہ رہے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر، تم، سورۃ، بوتنی، جے، اکشر، اتنا ہی، ون، پت، اور، آئٹموں، سے، یُدھ، کولو، ن، अपराधी، ان، آری، خواجہ، پرَسِد، ہم، درویہ، کا، وہ سب، پھر، جو، किशोर، اپنا، جل بھی، تو آپ، کثرت سے، سڑک، پار کیا کرتے تھے، حالانکہ آپ، معصوم تھے، اپر، کو، گناہ نہیں تھے، لیکن اس کے، باب، جو، آپ، است، پار کرتے، تو یہی، سچ میں، تو میں نے، تو کبھی، بنا ہی نہیں، تو میں کس بات کی، شَما ہوں، میری کیا، غلطی ہے، میں کیوں، پھر، مانگوں، اور مسالوں کے ساتھ، یہ کرتے، نا، اگر کبھی، تو ان لوگوں کی، ناراضگی ہے، جو تم، کیسے، چلو، سوری، کر لو، پھر، جواب، کیا ملتا ہوں، میں، اگر آپ، کسی کو، مجبور تھے، لیکن سوری، کروں، میں کیا کیا، بچوں کو، غلطی نہیں ہے، ساری، غلطی تو، اس کی ہے، طریقے سے، اَتی، دَ، کَبْر، والا، نا، تو اس کو، خَواب، ہے، تابیر، کی، نہیں کرتا ہے، کہ نہیں، یار، ہم بتاؤں، کیا، اعتراض، کرتے ہیں، ہم لوگ، مانتے ہیں، پورے، بَخْش دے، تم، بَخْش چاہیے، تو معاف کر دے، رُق، رانَک، اَت، یہ، واپس، چاہیے، اس لیے، قرآنے، مجید نے، تو وہ، میں، یا، پُور، جَنّو، ان، اللہ، اللہ کے سوا، کون کر سکتا ہوں، کچھ کر نہیں سکتا، جب تک، نہ کرے، رُق، رُق، بنا، اے ہمارے رب، اے ہمارے رب، اپنا، یہ ہے، وہ، جس نے، ان کو، پیدا کیا ہے، وہ، جو ہمیں، کھلاتا ہے، پلاتا ہے، جو ہماری، ساری، ضروریات، کا خیال رکھتا ہے، پُور، ون، مَشِیر، تیری طرف، لوٹنا ہے، تیری طرف، آپسی، تنا، صبح، بات ہوئی تھی، جہاں سے، آئے ہو، وہیں جانا ہے، بھاڑ میں، کی، चेतावनी، ادھر، دیکھ سکتے، کوئی غم نہیں، ہو سکتے، ہو، یہ بنی، اسرائیل، کو، شَس، کوبرا، ڈر لگتا تھا، نا، سکے، نمبر، لگا، تو اپنے، اولاد کو، بنانے کا، جو میں، مر جاؤں گا، تو میرے، جسم کو، جلا کر، راکھ، تین، حصوں، کرنا، ایک، ہوا میں، اڑا دینا، ایک، کپ، پانی میں، بہا دینا، اور ایک، مٹی میں، دبا دینا، دوسرا، ن، مجھے، دوا، نہیں کر سکے، مجھے، کَثا، نہیں کر سکتے، جو، یہ، اس کے ساتھ، یہ کیا، اس کی، حالات میں، لاپتہ، ہوئے، ہوا کے، وِرِشٹُوں، کا، حکم دے، ایک، ذرا، کٹ، کرنا، پانی کے، وِرِشٹُوں، کِٹ، سر، نکال، زمین کے، وِرِشٹُوں کو، پنکھ، دیا، لیکن، ذرا، نکال لو، اور وہ، سیکنڈ میں، دوبارہ، پورا، تیار کر کے، کھڑا کر دیا، کہ پوچھو، کیوں، ایسا، کی، خاطر سے، ڈر لگتا تھا، آجا، تجھے، بخشش کی ہے، کہ جو، ڈرنے والا ہے، وہ، بخش دیا جاتا ہے، اللہ، اس پر، اپنی، رحمت کرتا ہے، اسی کا، نام، تُوا ہے، اور ڈرتا، کون ہے، جسے، اپنا، غلام، نظر آتے ہو، مجھے، اپنی، سمسیا، نظر آتی ہو، نہیں، ڈرتا، حرکت، میں نے کیا کیا، ٹائم، مشین، لانگ، مِرتو، غلطی، یہی نہیں، وہ دوسرے، اپنی، پارٹی، جَدُو، کے دعوے، کرتا رہتا ہے، کی طرف، بناؤ، الیکٹریکل، مشین، اور اللہ، تیری طرف، لوٹنا ہے، تھوڑا، کو بھی، یاد رہے، کہ یہ، تو آخری، 2، آیات ہیں، اب ہم، رسول، سورۃ کے، شیطان تک، یہ بہت ہی، برکت، آیات، مد، سَلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّلَّل

Aamad-e-Rasool (صلی اللہ علیہ وسلم) کی آمد کی خوشخبری سنانے والے، وہ رسول ہیں جو اللہ کی طرف سے آئے ہیں، جن پر یہ کتاب نازل ہوئی ہے۔ یہ کتاب ہدایت کے لیے ہے، جس میں کوئی شک نہیں۔ یہ متقیوں کے لیے ہدایت ہے۔

یاد رکھو، قرآن میں سورۃ البقرہ کی پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "الم ذٰ لِکَ الکِتٰبُ لَا رَیبَ فِیہِ ھُدًی لِّلمُتَّقِینَ" (البقرہ: 2)۔ یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، یہ متقیوں کے لیے ہدایت ہے۔

یہ کتاب صرف پڑھنے کے لیے نہیں، بلکہ اس پر عمل کرنے کے لیے ہے۔ اس میں اللہ کے احکام اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتیں بیان کی گئی ہیں۔ ان پر ایمان لانا ضروری ہے، کیونکہ ایمان کا مطلب ہے دل سے یقین کرنا، زبان سے اقرار کرنا اور عمل سے ثابت کرنا۔

ایمان کی تین اقسام ہیں:

1. **یقین:** دل میں کسی چیز پر ایسا پختہ یقین کہ کوئی شک و شبہ باقی نہ رہے۔

2. **اقرار:** زبان سے اس یقین کا اظہار کرنا۔

3. **قبولیت:** اس یقین اور اقرار کو اپنے اعمال میں شامل کرنا اور اس پر عمل کرنا۔

جب ہم اللہ پر ایمان لاتے ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ ہم اس کے تمام احکام کو تسلیم کرتے ہیں، چاہے وہ ہمیں سمجھ آئیں یا نہ آئیں۔ کیونکہ اللہ نے یہ کائنات بنائی ہے، اور اس کی بنائی ہوئی چیزوں میں کوئی نقص نہیں ہو سکتا، تو اس کی نازل کردہ کتاب میں بھی کوئی نقص نہیں ہو سکتا۔

ایمان کی بنیاد پر ہی ہم اللہ کی رضا کے مطابق زندگی گزار سکتے ہیں۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ دنیا فانی ہے اور ہمیں ایک دن اللہ کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔ وہاں ہمارے اعمال کا حساب ہوگا۔ اس لیے ہمیں اپنی زندگی اللہ کی مرضی کے مطابق گزارنی چاہیے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے: "اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِکَ ھُمۡ خَیۡرُ الۡبَرِیَّۃِ" (البینہ: 7)۔ یعنی، جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے، وہی بہترین مخلوق ہیں۔

اس لیے، ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر اور تقدیر پر ایمان لائیں۔ یہ ایمان کی بنیادیں ہیں۔

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: "اَلَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَیۡبِ وَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنفِقُوۡنَ" (البقرہ: 3)۔ یعنی، وہ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور جو رزق ہم نے انہیں دیا ہے، اس میں سے (راہ خدا میں) خرچ کرتے ہیں۔

یہ آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ ایمان صرف دل کا یقین نہیں، بلکہ عمل کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ ہمیں اپنی زندگیوں میں اللہ کے احکام کو نافذ کرنا چاہیے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرنا چاہیے۔

آخر میں، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں صحیح ایمان اور عمل کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنی رحمت سے نوازے۔ آمین۔