📱

Get Our Mobile App

Take your business learning on the go!

Download on the App StoreGet it on Google Play

Why Surah Al-Ma’un was revealed

Really Maktoob28:55

Transcription

یہ بات ہے قرآن کی۔ اے محمد کے ماننے والو ذرا سوچ کر جواب دو۔ کیا دیا ہے تمہارے اللہ نے تمہیں بھوک اور غربت کے علاوہ؟ کاش تم سمجھ پاتے۔ عُقبہ! ہمارے اللہ نے ہمیں عزت دی ہے۔ برابری کا درجہ دیا ہے۔ اللہ اکبر۔ یہ بات ہے اس انسان کی جس کی عبادت اس کے لیے جہنم بن گئی۔ یا اللہ، یا اللہ۔ کیا تم اسی طرح جاؤ گے طواف کرنے؟ ہاں بالکل ایسے ہی جاؤں گا۔ دماغ ٹھکانے ہیں تمہارے؟ یہ کپڑے پہن کر جاؤ گے کہاں؟ ان کپڑوں میں کوئی پریشانی ہے کیا؟ ارے اتارو یہ گناہ والے کپڑے۔ اللہ کے گھر کا طواف ویسے کرو جیسے تم دنیا میں آئے تھے۔ تمہارا مطلب بغیر کپڑوں کے۔ ہاں بالکل۔ یہ بات ہے اللہ کے اس احکام کی جس نے دین اور دنیا کو ایک ایسی گانٹھ میں باندھ دیا جس کو قیامت تک کھولا نہیں جا سکتا۔ چل بیٹا شاباش۔ جلدی سے وہ خراب والی کھجوریں ان اچھی کھجوروں کے نیچے لگا دے۔ یہ تو غلط ہے نا بابا۔ ارے بیٹا کاروبار میں یہ سب چلتا ہے۔ چل جلدی لگا دے۔ میں نماز پڑھ کر آتا ہوں۔

یہ بات ہے سورہ ماؤن کی۔ بچپن میں قرآن کی آخری 10 سورتوں کو یاد کرنے کے باوجود بھی ہم میں سے نہ جانے کتنے لوگ اکثر سورہ ماؤن کو بھول جاتے ہیں۔ سعدیہ، آپ سنائیں سورہ ماؤن۔ کل یا ایھا الکافرون۔ سورہ کافرون نہیں، سورہ ماؤن۔ اور آج ہماری سوسائٹی میں نہ جانے کتنے ایسے مسلمان ہیں جو اکثر یہ سوال پوچھتے نظر آتے ہیں۔ اوکے، ان اسلام دین اور دنیا کو لے کر۔ چلو، واٹ از مورینٹ؟ دین اور دنیا۔ پر افسوس ہم میں سے بہت تھوڑے ہیں جو یہ جانتے ہیں کہ دین اور دنیا کو بیلنس کیا ہی نہیں جا سکتا۔ کل ایک صحابی بتا رہے تھے کہ سورہ ماؤن میں اللہ اور اس کے نبی نے بتا دیا کہ دین میں ہی دنیا ہے۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ایک ہی ہیں؟ اور نہیں تو کیا؟ کیا ہے سورہ ماؤن کے نازل ہونے کے پیچھے کا واقعہ اور کس طرح یہ سورت ہماری دنیا کو ہمارے دین سے جوڑتی ہے۔ اور ہاں، ایک اور امپورٹنٹ بات کہ سورت ہمیں ایسا کون سا لٹمس ٹیسٹ سکھاتی ہے جس سے ہم بڑی آسانی سے پتہ کر سکتے ہیں کہ کہیں نماز اور تہجد کا پابند ہونے کے باوجود بھی ہم جہنم کی آگ کا ایندھن تو نہیں۔ سلام حافظ جی۔ تین مہینے ہو گئے اگر آپ پیمنٹ کر دیتے تو مہربانی ہوتی۔ اوئے سن، مل جائے گی تیری پیمنٹ۔ ابھی کام ٹھنڈا پڑا ہے۔ اگلی بار فون کرے تو گالی بک کر فون کاٹ دینا۔ پریشان کر رکھا ہے۔ اور سب سے زیادہ امپورٹنٹ 1400 سال پرانی اس سورت کا آج ہماری زندگی میں کیا کام ہے؟ ان سب سوالوں کے جواب جانیں گے اس ویڈیو میں۔

یتیم، ولا مسکین۔ سکالرز کہتے ہیں کہ سورہ ماؤن مکہ کے اس دور میں نازل ہوئی جب آس بن وائل، ابو لہب، ابو جہل جیسے لوگ کعبہ کے ذمہ دار تھے۔ وہ کعبہ کی دیکھ بھال کرتے۔ حاجیوں کے حج کا انتظام کرتے۔ یمن اور شام کے سفر کو مینج کیا کرتے۔ اور ان دنیا بھر میں کیے جانے والے تجارتی سفروں سے، مکہ میں کیے جانے والے حجوں سے ہونے والی کمائی کو مکہ کے عام لوگوں کی ترقی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اے غلامو! یاد رہے حاجیوں کی خاطر داری میں کوئی کمی نہیں رہنی چاہیے۔ پانی، قالین اور عطر سب وقت پر تیار ہونا چاہیے۔ اور ہاں، کچھ لکڑی والوں کو بول کے کعبہ کے دروازوں کی لکڑی ٹھیک کرواؤ۔ مگر یہ سب ایک جھوٹ تھا، ایک فریب۔ اصل میں گزرتے وقت کے ساتھ ان لوگوں نے اللہ کے گھر کعبہ کو سیاست اور کمائی کی دکان بنا دیا تھا۔ بنو تمیم کے لوگ کپڑے اتار کر طواف کر رہے ہیں۔ کوئی بات نہیں۔ وہ جیسے حج کرنا چاہیں کرنے دو۔ انہیں ناراض کرنا مطلب کاروبار کا نقصان۔ اس کے علاوہ کعبہ کے باہر کچھ کھومچے بھی لگوا دیے ہیں۔ جا کر ان سے کرایہ وصول کر لو۔ جی، بہتر۔ چلو چلیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ لوگ بد سے بدتر ہوتے چلے گئے۔ یہ غریبوں کو کھانا تو کھلاتے لیکن دکھاوے کے لیے۔ یہ مسکینوں کی مدد کرتے مگر دکھاوے کے لیے۔ یہ کعبہ کا طواف کرتے۔ اپنے بتوں کی عبادت کرتے۔ مگر وہ بھی دکھاوے کے لیے۔ دعوت بہت لاجواب۔ جلدی جلدی بولو۔ اب کیا مانگنے آئے ہو؟ قاسم کے گھر کھانے کو کچھ نہیں۔ اگر آپ تھوڑا اناج دے دیتے تو مہربانی ہوتی۔ تم لوگ تو روز بھوک کا رونا لے کر آ جاتے ہو۔ ہر جمعرات میں پورے مکہ کے لیے دو بڑھیا اونٹ ذبح کرواتا ہوں۔ ہاں، صحیح کہا۔ بالکل۔ پھر بھی تم لوگوں کی بھوک نہیں مرتی۔ دیکھ لیجئے اگر کچھ ہو سکے۔ تو چلو بھاگو یہاں سے، بعد میں آنا۔ قبیلے کے سرداروں کے اس رویے نے مکہ کے اندر ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا جس میں غریب، بے بس اور لاچاروں کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ وہاں صرف طاقت کا بول بالا تھا۔ یہ پیسے اور طاقت والے لوگ جس طرح چاہتے اس طرح غریب اور مسکینوں کے ساتھ پیش آتے۔ اپنے غلاموں کو بری طرح ٹریٹ کرتے۔ اور سب سے بڑی بات یہ اونچ، بھید بھاؤ، ظلم کرنا ان کے لیے کوئی گناہ نہیں تھا۔ بلکہ ان کے لیے ایک عام بات تھی۔ ایک نارمل کلچر تھا۔ میں نے سوچا تم سب کو بتا دوں۔ کل سے 5 سال کے بچے بھی ہماری غلامی کریں گے۔ جتنی جلدی شروع کریں گے اتنی جلدی سیکھیں گے۔ اور ہاں، کوئی بیماری، بخار کا بہانہ نہیں۔ ہم سمجھے؟ اور جب پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت دی تو ان لوگوں کو یہ بات سب سے زیادہ چبتی تھی کہ آپ غریبوں کی حمایت کرتے ہیں۔ انہیں برابر کا حق دیتے ہیں۔ ان لوگوں کو لگتا تھا کہ اگر یہ کالے حبشی لوگ ہمارے غلام نہیں رہیں گے تو ہمارے کام کون کرے گا؟ کیا ہم ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائیں گے؟ آپ بزرگ ہیں مکہ کے۔ ذرا سوچ کر دیکھیں۔ کیسا لگے گا آپ کو؟ اپنے حبشی غلاموں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانا؟ وقت رہتے کچھ کیجئے ورنہ یہ پریشانی اور بڑھ جائے گی۔ تم ٹھیک کہتے ہو عُقبہ۔ ہم ابو لہب سے بات کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے بھتیجے کو سمجھائے۔ بہترین خیال ہے۔

اور ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کیا جس نے امیری اور غریبی کے بیچ کی دیوار کو گرا کر انسانیت کا پرچم سب سے اونچا کر دیا۔ مکہ کی ہوا اس دن کچھ زیادہ ہی خاموش تھی۔ جلتا سورج آسمان سے کعبہ کو نہار رہا تھا۔ اور انہی گلیوں میں ایک چھوٹا سا ننھا یتیم لڑکا پھٹے پرانے کپڑے پہنے سر پر دوڑ رہا تھا۔ یہ مکہ کا سب سے کمزور انسان تھا۔ گزرے سال ایک لمبی بیماری میں اس کے باپ کی موت ہو گئی۔ کچھ دنوں بعد اس کی ماں بھی گزر گئی۔ اب اس کے پاس نہ باپ کی شفقت تھی، نہ ماں کی محبت۔ نہ کسی قبیلے کا سہارا تھا، نہ کسی بڑے کی سفارش۔ وہ بس اکیلا تھا۔ بے انتہا اکیلا۔ لیکن پھر بھی اس یتیم کے دل کے ننھے سے کسی کونے میں ایک امید بچی تھی کہ شاید آج ابو جہل اس کا مال لوٹا دے گا۔ وہ مال جو اس کے باپ نے کچھ سال پہلے امانت کے طور پر ابو جہل کے پاس رکھا تھا۔ یہ امانت بڑی ذمہ داری ہے میرے اوپر۔ رشید، جلدی ہی مجھ سے لے لینا۔ لڑکے کے پیر دھول سے بھرے ہوئے تھے۔ اس کی سانس اکھڑ رہی تھی۔ اس کا گلا پانی کی پیاس سے سوکھ گیا تھا۔ لیکن وہ بغیر رکے، بغیر تھمے ابو جہل کے باغ پہنچ گیا تھا اپنا حق لینے۔ ابو جہل کے باغوں میں وقت گزارنے کا مزہ ہی الگ ہے۔ بدبخت بالکل۔ مفت خور کہیں کے۔ ہر ہفتے چلے آتے ہیں۔ میرا مال کھانے۔ او ابو جہل، یاروں کے یار۔ حساب بعد میں کر لینا۔ آؤ ہمارے ساتھ آکر بیٹھو۔ بس ابھی آیا۔ اچھا اچھا، جلدی آؤ۔ ارے وہ دیکھو رشید کا لڑکا۔ حضور، وہ دیکھیں سامنے۔ یہ بدبخت پھر سے چلا آیا۔ حد ہے۔ اب دیکھنا تماشا۔ اس سے پہلے کہ وہ لڑکا کچھ کہتا۔ ابو جہل اس کی طرف پلٹا۔ اس نے اس کی طرف دیکھا اور زہر بھری آواز میں اس سے کہا۔ تو پھر آ گیا بھیک مانگنے۔ چل دفع ہو یہاں سے۔ میں بھیک نہیں مانگتا بلکہ اپنے بابا کی وہ امانت مانگتا ہوں جو آپ کے پاس ہے۔ تیری اتنی ہمت کہ تو اب مجھ سے منہ زوری بھی کرنے لگا۔ چل۔ ارے ارے، دفع ہو یہاں سے۔ بیچارہ بچہ۔ ابو جہل کا یہ رویہ دیکھ کر بچے کا دل ٹوٹ گیا۔ بالکل اس طرح جس طرح زمین پر گر کر شیشہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اگر دوبارہ یہاں نظر آیا تو تیری کھال کھنچوا دوں گا۔ بڑا ظالم ہے ابو جہل۔ اس کی آواز بھر گئی۔ اس کی آنکھوں میں سمندر تیر گیا۔ اس نے کچھ کہنا چاہا لیکن وہ کچھ کہہ نہ سکا۔ اور تبھی ان ظالموں کو ایک شرارت سوجھی۔ اے رشید کے بیٹے، ادھر آ۔ ارے آ نا، چل جلدی آ۔ بہت غلط کیا ابو جہل نے بیچارے کے ساتھ۔ کوئی بات نہیں۔ دیکھ، تیرا مال صرف محمد ہی دلوا سکتے ہیں۔ جا، ان کے پاس جا۔ ان ظالموں کا ارادہ یہ تھا کہ یہ اللہ کے نبی اور ابو جہل کے بیچ ہونے والی جھڑپ دیکھیں گے۔ مزے لیں گے۔ انہیں کیا خبر کہ اب جو ہونے والا ہے اس کی گواہی خدا آسمان دے گا۔ اب ہوگی خوب تفریح۔ ارے دوڑ کے جا بیٹا۔ شاباش، دوڑ کے جا۔ بچہ دوڑتا ہوا نبی کے پاس پہنچ گیا۔ مولا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ اس نے انہیں ساری بات بتائی اور اس کی بات سنتے ہی اللہ کے نبی فوراً کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے اس کا ہاتھ تھاما۔ وہ ہاتھ جس کو آج تک سب نے جھٹکا تھا۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ بچے کا دل ایک عجیب سکون سے بھر گیا۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ آسمان نے نگاہیں زمین پر ٹکا دیں۔ سورج نے اپنی کرنوں کو سمیٹ لیا۔ لوگوں کی آنکھوں میں حیرانی جھانکنے لگی۔ کیونکہ آج تک کسی نے ایسا منظر نہیں دیکھا تھا۔ جہاں ایک عزت دار قبیلے کا آدمی ایک غریب کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل رہا ہو۔ لیکن یہ رحمت اللعالمین تھے۔ آپ کے اور میرے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ نبی۔ وہ دیکھو، شادمان آپ ہیں۔ محمد۔ آپ کے پیغام کے چرچے ملک شام تک ہیں۔ ارے وہ دیکھ، آپ جا رہے ہیں۔ جا جلدی سے کھجور انہیں دے آ اور کہنا تحفہ ہے۔ لو آ گئے محمد۔ اب ہوگا تماشا۔ دیکھنا مزہ آئے گا۔ اللہ کے نبی کو دیکھتے ہی ابو جہل کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ اس کے چہرے کی ہنسی ایسے اڑ گئی جیسے قدموں کی آہٹ سن کر پرندے اڑ جاتے ہیں۔ ابو جہل کچھ بول نہ سکا۔ اس کی آواز اس کے گلے کے اندر دفن ہو گئی۔ اللہ کے نبی نے صرف اس سے اتنا کہا کہ اے ابو جہل، اس یتیم کا مال اسے واپس کر دو۔ بغیر کچھ کہے، بغیر کچھ سوچے ابو جہل نے فوراً اس یتیم کا مال اس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ وہ بچہ مسکرا دیا۔ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ باقی قبیلوں کے ظالم سردار دور کھڑے یہ ماجرا دیکھ رہے تھے۔ یہ ابو جہل ایسے کیوں جم کر کھڑا ہے؟ سمجھ میں نہیں آتا کیا معاملہ ہے۔ اللہ کے نبی اور بچے کے جانے کے بعد یہ لوگ ابو جہل کے پاس آئے۔ انہوں نے اس سے کہا کہ یہ کیا معاملہ ہے ابو جہل؟ کیا تم ایمان لے آئے ہو؟ ابو جہل نے کانپتی ہوئی آواز میں جواب دیا کعبہ کے بتوں کی قسم، محمد کو دیکھ کر ایسا لگا کہ کوئی انجانی طاقت مجھے مٹی میں ملا دے گی۔ صحیح بخاری، صحیح مسلم، مسند امام احمد کے علاوہ تفسیر کی تقریباً ہر کتاب میں اس واقعے کو سورہ ماؤن کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس سورت میں کسی شخص کا نام نہیں لیا۔ جب مکہ میں سورہ ماؤن نازل ہوئی تو ہر سردار کو ایسا لگا جیسے اس کا پردہ فاش کر دیا گیا ہو۔ جیسے یہ سورت اس کے لیے نازل کی گئی ہو۔ اب تو حد ہو گئی۔ محمد نے مجھے ذلیل کیا ہے یتیم کا مال کھانے والا کہہ کر۔ ارے محمد نے تمہیں نہیں، مجھے ذلیل کیا ہے۔ بیوقوفوں جیسی باتیں مت کرو۔ آپ مجھے ذلیل کر گئے۔ تو یہ تھی سلیمان کی بیک گراؤنڈ سٹوری۔ تو چلیے اب اس سورت کو سمجھتے ہیں مزے دار طریقے سے۔ سینمیٹک انداز میں۔ ابو ارواہ، وہ سورت تو سناؤ جو نبی پر نازل ہوئی۔ کیوں نہیں۔ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ارایت الذی یکذب بالدین فذالک الذی یدع الیتیم ولا یحاض علی طعام المسکین۔

اور سب سے پہلے یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ سورہ ماؤن سورہ آف کرٹیسزم یعنی کہ یہ ایک آئینہ ہے جس کے اندر انسان اپنی ہپوکریسی، اپنی برائیاں، اپنی خرابیوں کو دیکھ کر ایک بہتر انسان بن سکتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فیورٹ بندہ بن سکتا ہے۔ تو پہلی آیت کیا ہے؟ بالدین۔ اے نبی، کیا آپ نے دیکھا اس کو جو آخرت کے دن کو جھٹلاتا ہے۔ اب یہاں سوچنے والی بات یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ارایتہ کا لفظ ہی کیوں یوز کیا۔ اللہ چاہتے تو الم تر بھی کہہ سکتے تھے۔ جیسے سورہ فیل میں کہا الم تر الذی۔ تب بھی بات یہی ہوتی۔ کیا آپ نے دیکھا؟ لیکن پھر بھی اللہ نے ارایتہ کا ہی لفظ چنا۔ تو ایسا کیوں کیا؟ ارایتہ اصل میں ایک ریٹوریکل کوئسچن ہے۔ یعنی ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب جاننے کے لیے نہیں پوچھا جاتا بلکہ اس لیے پوچھا جاتا ہے کہ سامنے والے کو سچویشن کا اندازہ دیا جا سکے۔ جیسے اکثر ہم لوگ بڑی شرارت کرتے ہیں تو امی ابا سے کیا کہتی ہیں؟ آپ دیکھ رہی ہیں اس کی حرکتیں؟ سب دیکھ رہا ہوں۔ کئی دنوں سے دیکھ رہا ہوں۔ تو اگر الم تر کا لفظ یہاں پر ہوتا تو بات ہوتی کیا آپ نے آنکھوں سے دیکھا اس کو۔ لیکن جب ارایتہ کی بات آ رہی ہے تو یہاں پہ صرف محسوس کرنے کی بات ہو رہی ہے۔ جیسے اللہ کہہ رہے ہیں کیا نوٹس کیا؟ الذی یعنی کہ سنگولر پرسن کی بات ہو رہی ہے۔ کسی ایک آدمی کی بات ہو رہی ہے۔ یکذب بالدین۔ یکذب یعنی جھٹلاتا ہے۔ کس کو جھٹلاتا ہے؟ دین کو جھٹلاتا ہے۔ تو یہاں پر جو دین کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، اس کے معنی ہیں آخرت کا دن۔ جب اللہ کے آگے ہم سب کو کھڑے ہو کر اپنے اعمال کا حساب و کتاب دینا ہے۔ تو اس آیت میں کیا بات ہو رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ رہے ہیں کہ اے میرے پیارے نبی، کیا آپ نے نوٹس کیا اس کو جو آخرت کے دن کو جھٹلاتا ہے۔

آیت نمبر دو۔ فذالک الذی یدع الیتیم۔ اور یہی وہ انسان ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔ اس آیت میں اس انسان کی خصوصیت بتائی جا رہی ہے۔ اس کے کریکٹر کو ڈیفائن کیا جا رہا ہے۔ یدعوک کا یہ جو لفظ ہے، یہ بتاتا ہے کہ یہ انسان وائلنٹلی، فزیکلی، ایموشنلی ہر لحاظ سے وہ یتیم کا حق مارتا ہے اور وہ یہ کبھی کبھی نہیں کرتا بلکہ اس کے لیے بات نارملائز ہو چکی ہے۔ اس کو لگتا ہی نہیں کہ وہ کچھ غلطی کر رہا ہے۔ تو اس کے لیے ایک عام بات ہو چکی ہے۔ اب یہاں پر جو یتیم کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، یتیم وہ ہوتا ہے جس کے پاس کوئی سپورٹ نہیں ہوتا۔ سوسائٹی کا سب سے زیادہ کمزور انسان ایک یتیم ہے۔ تو اس آیت کے اندر یہ سمجھایا جا رہا ہے کہ یہ انسان اتنا زیادہ بے حس ہے، اتنا نالائق ہے کہ یہ کمزور سے کمزور انسان کا بھی حق مار لیتا ہے۔ تو پھر آ گیا بھیک مانگنے۔ چل دفع ہو یہاں سے۔

اب تیسری آیت۔ ولا یحاض علی طعام المسکین۔ اور یہ دوسروں کو بھی موٹیویٹ نہیں کرتا مسکین کو کھانا کھلانے کے لیے۔ اب یہ بات بڑے کمال کی ہے۔ ارے بھائی، جب دوسری آیت میں یہ بات بتا دی گئی کہ یہ آدمی اتنا ظالم ہے، اتنا بیکار ہے کہ وہ غریب کا، یتیم کا حق مار لیتا ہے تو پھر وہ کسی کو کیوں کہے گا کہ اس کو کھانا کھلایا جائے۔ لیکن کیونکہ قرآن ایک سمندر ہے تو ضرور اس میں کوئی نہ کوئی گہرائی ہے۔ چلیے اسے ذرا چھو کر دیکھتے ہیں۔ اب یہاں پر جو لفظ ہے نا، الا تحاض علی طعام المسکین۔ اس کے بارے میں علماء یہ کہتے ہیں کہ اگر یہاں پر اطعام المسکین کا لفظ ہوتا تو اس کا مطلب ہوتا کہ صرف کھانا کھلانا یا چیریٹی کرنا یا احسان کرنا۔ لیکن یہاں پر تحاض علی طعام المسکین کا لفظ استعمال کرنے سے یہ بات صاف ہو گئی کہ یہ جو کھانا آپ مسکین کو کھلانے والے ہیں، یہ کوئی احسان نہیں ہے۔ بلکہ یہ اس مسکین کا ہی کھانا ہے جو تم نے اپنے پاس دبا رکھا ہے۔ یہاں پر لفظ یحاض کا جو لفظ ہے، یہ بتا رہا ہے کہ وہ انکریج ہی نہیں کرتا کھانا دینے کے لیے یا کھانا کھلانے کے لیے۔ تو اس آیت میں اس کی دوسری خصوصیت بتائی جا رہی ہے کہ یہ خود تو حق مارتا ہی مارتا ہے۔ دوسروں کو بھی انکریج نہیں کرتا کہ وہ مسکین کو کھانا کھلائیں۔ اس کو اس کا حق دیں۔ بجائے اس کے کہ وہ کھانا نہیں کھلاتے، بلکہ یہ کہ انہوں نے کہا وہ کھلانے پر کسی کو آمادہ بھی نہیں کرتے۔ گویا کہ اسی اندیشے سے کہ کہیں پلٹ کر اس سے نہ کہہ دیا جائے کہ تم کھلاؤ۔

چلیے اب آیت چار اور پانچ کو سمجھتے ہیں۔ اب یہاں سے نوٹ کرنے والی بات یہ ہے کہ آیت نمبر ایک، دو اور تین کے اندر سنگولر پرسن میں بات ہو رہی ہے۔ اب پورے گروپ کی خصوصیت بتائی جائے گی۔ فویل للمصلین الذین ہم عن صلاتھم ساہون۔ تو ایسے نمازیوں کے لیے بربادی ہے جو اپنی نمازوں کی طرف سے غافل رہتے ہیں۔ وائل یعنی کہ افسوس ہے، بے انتہا افسوس ہے، ہلاکت ہے، بربادی ہے۔ اس کے علاوہ جہنم کے اندر ایک وادی ہے جس کا نام وائل ہے۔ وائل کا لفظ میں نے اکر کیا، جہنم کی ایک ایسی وادی کا نام بھی وائل ہے جس سے خود جہنم پناہ مانگتی ہے۔ اور وائل سے پہلے یہ جو فا کا استعمال کیا گیا ہے، اس سے ڈائریکٹ کنیکشن بن جاتا ہے پچھلی تین آیتوں کے ساتھ۔ یعنی کہ بربادی ہے، ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جن کے اخلاق بیکار ہیں۔ جن کی بات پچھلی تین آیتوں میں کی گئی ہے۔ اب یہاں کچھ اللہ کا خوف رکھنے والے نمازی لوگ کہیں گے کہ کیا میری نمازوں کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے یہ کہا ہے کہ مجھے جہنم ملے گی کیونکہ میں بھی تو اپنی نماز میں اکثر بھول جاتا ہوں یا بھول جاتی ہوں۔ سکالرز کہتے ہیں کہ اگر یہاں پر فی صلاتھم کہا جاتا تو بات ہوتی کہ وہ بھول جاتے ہیں اپنی نمازوں کے اندر، ان دا پریئر۔ لیکن یہاں کیا بات ہو رہی ہے؟ عن صلاتھم۔ یعنی وہ اپنی نمازوں سے ہی غافل ہیں۔ اباؤٹ دا پریئرز، ناٹ ان دا پریئرز۔ سکالرز کے اکارڈنگ، نماز میں بھول جانا کوئی عیب نہیں، کوئی برائی بھی نہیں۔ کیونکہ بار بار بار بار آپ اپنے آپ کو واپس سے لے کر آتے ہیں اور پھر سے نماز میں فوکس کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی ایک ایسا موقع آیا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے انہیں نماز کا ایک حصہ بھلوا دیا تاکہ امت کو یہ سکھایا جا سکے کہ سجدہ سہو کیسے کرتے ہیں۔ نماز بھول جانے پر ہمارا کیا ایٹیٹیوڈ، کیا رویہ، کیا طریقہ اختیار ہونا چاہیے۔ تو اگر آپ کو صاحب کبھی ہوتا ہی نہ تو امت کو کیسے معلوم ہوتا کہ اگر نماز میں صاحب ہو گیا تو کیا کروں؟ تو یہاں ان لوگوں کی بات ہو رہی ہے جو یا تو نماز پڑھتے ہی نہیں۔ اور اگر نماز پڑھتے بھی ہیں تو وہ امی نے دھکے دے کر اٹھا دیا، موبائل اسکرول کر رہے ہیں۔ بس کسی صورت حال، بس چلو۔ یہ بوجھ سر پر پڑا ہوا ہے، اسے اتار کے ایک طرف پھینکو اور فٹافٹ واپس اپنے کاموں میں لگ جاؤ۔ یہاں ان نمازیوں کی بات ہو رہی ہے۔

اب یہاں کچھ لوگ کہیں گے کہ یار مکتو بھائی، یہ کیا بات ہوئی؟ جب تو نماز آئی ہی نہیں تھی مکہ کے اندر۔ پھر یہ لوگ نماز کیسے پڑھا کرتے تھے؟ یہ تو مسلمان بھی نہیں تھے۔ تو دیکھیے، صلاۃ کے بہت سارے معنی ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب صرف نماز نہیں ہے۔ بلکہ عبادت کرنا، کنیکشن بنانا، ریلیشن شپ بنانا اپنے اللہ کے ساتھ۔ تو جیسے سورہ کافرون میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ انہیں لگتا تو یہ تھا کہ وہ ایک اللہ کی عبادت کر رہے ہیں۔ لیکن وہ ایک اللہ کی عبادت نہیں تھی بلکہ ان کا اپنا بنایا ہوا کوئی الگ ہی نظام، کوئی الگ ہی سیٹ اپ تھا۔ جیسے سیرت کی کتاب میں آپ پڑھیں گے کہ ان میں اتنا بگاڑ آ چکا تھا کہ وہ لوگ طواف کرنے سے پہلے اپنے کپڑے تک اتار دیا کرتے تھے۔ قریش کی ایک بدعت یہ بھی تھی تو مرد ننگے طواف کرتے اور عورتیں اپنے سارے کپڑے اتار کر صرف ایک چھوٹا سا کھلا ہوا کرتا پہن لیتی اور اسی میں طواف کرتی۔

آیت نمبر چھ۔ الذین ہم یراؤن۔ اور وہ جو دکھاتے ہیں اپنی نیکیوں کو، اپنی عبادت کو۔ یراؤن، دکھاوا کرنا، شو آف کرنا، ریاکاری کرنا۔ آیت نمبر سات۔ ویمنعون الماعون۔ اور عام استعمال کی چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی ایک دوسرے کے ساتھ شیئر نہیں کرتے۔ ماؤن کے یہاں پر دو مطلب ہیں۔ پہلا مطلب چھوٹی چھوٹی چیزیں جیسے پین، پنسل، برف، نمک، چینی۔ اور ماؤن کا دوسرا مطلب ہوتا ہے زکوۃ کے۔ کیونکہ زکوۃ بھی آپ کے مال کا بہت چھوٹا حصہ ہے۔ اور اس کا ایک تو مفہوم یہ لیا گیا ہے کہ اس سے مراد زکوۃ ہے۔ آپ کہیں گے زکوۃ حقیر کیسے ہوئی۔ زکوۃ کیونکہ 1/40 ہے تو حقیر ہے۔ تھوڑا سا ہی دیا جا رہا ہے۔ آپ سے یہ تو نہیں کہا گیا کہ آپ اکثر و بیشتر دے دیجئے۔ تو کیا بات ہو رہی ہے اس آیت میں کہ ان لوگوں کے معاملات اتنے زیادہ بگڑ چکے تھے کہ یہ ایک دوسرے کے ساتھ چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی شیئر نہیں کیا کرتے تھے۔ ان کا حق بھی انہیں دیا نہیں کرتے تھے۔

تو چلیے اب اس پوری آیت کو فٹافٹ سمجھ لیتے ہیں کہ اس پوری آیت میں بات ہوئی کیا ہے۔ تو پہلی آیت میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نوٹس کروانے والے انداز میں اپنے نبی سے کہہ رہے ہیں کہ اے میرے پیارے نبی، کیا آپ نے نہیں دیکھا؟ کیا آپ نے نوٹس نہیں کیا؟ اس کو جو آخرت کے دن کو جھٹلاتا ہے اور یہی تو وہ ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے، اس کو ڈانٹتا ہے جس کے پاس کوئی سپورٹ نہیں ہے۔ اور یہی وہ انسان ہے جو دوسروں کو بھی نہیں کہتا کہ تم سامنے والے کا حق دے دو۔ تو بربادی ہے، افسوس ہے اور جہنم ہے ایسے عبادت کرنے والوں کے لیے جو اپنی عبادت سے غافل ہیں۔ اور یہ الٹی سیدھی عبادت بھی شو آف کے لیے کرتے ہیں، دکھاوے کے لیے کرتے ہیں اور ان کے دل اتنے سخت ہو چکے ہیں کہ چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی یہ شیئر نہیں کرتے۔ جب انہیں دولت مل جاتی ہے تو اب اس کو روک روک کر رکھتے ہیں، کسی اور تک اس کا کوئی فیض نہ پہنچ جائے۔

تو چلیے اب اس سورت کا ریلیونس سمجھتے ہیں کہ آج ہماری زندگی میں اس کا کیا کام ہے۔ اس سورت میں جو غور کرنے والی بات ہے وہ بات یہ ہے کہ اس سورت کے اندر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ایمان اور اخلاق دونوں کو ایک ساتھ کنیکٹ کر دیا ہے۔ یعنی اب آپ کی دین اور دنیا الگ نہیں ہے بلکہ وہ ایک ہی ہے۔ کیونکہ سورت کا پہلا ہاف ہمیں بتاتا ہے کہ دل کے اندر ایمان نہ ہونے کی پہلی نشانی یہ ہے کہ آپ کا رویہ لوگوں کے ساتھ خراب ہوگا۔ اس کی مثال آج کل ہم اپنی سوسائٹی میں بہت آرام سے دیکھتے ہیں۔ لوگ کام کروانے کے بعد پیسے نہیں دیتے۔ نوکریوں میں تنخواہوں کو لیٹ کر دیا کرتے ہیں۔ محنت کرنے والوں کا پسینہ سوکھ کے نمک ہو گیا۔ لیکن آپ کی جیب سے اس کا حق نہیں نکلا۔ بڑا بھائی، بڑی بہن یا کسی کا گھر میں انتقال ہو گیا۔ آپ اس کے بچے کو اپنے گھر لے آئے۔ اب جی، کہنے کو تو بڑا احسان کیا جا رہا ہے لیکن اپنی اولاد تو پسری پڑی ہے اور یہ بیچارہ یتیم آپ کے گھر کے سارے کام کر رہا ہے اور آپ کو کوئی فرق بھی نہیں پڑ رہا کیونکہ آپ کے لیے اتنا نارمل ہو چکا ہے یہ کہ آپ کو لگتا ہی نہیں ہے کہ آپ کوئی خرابی یا کوئی برائی کر رہے ہیں یا کسی کا کوئی حق مار رہے ہیں۔ بیچارے یتیم سے تو بہت کام لیتی ہے۔ ارے جا، باجی گھر میں رہتے ہیں تو ہاتھ تو بٹانا ہی پڑتا ہے۔ تھوڑا اپنے لاڈلے سے بھی کروا لیا کر۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس ہی ایٹیٹیوڈ رکھنے والے لوگوں کی عبادت پر وائل کہا ہے۔ جہنم کا عذاب ان کے لیے لکھا ہے۔ کیونکہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ایک انسان جو اللہ کا خوف رکھتا ہو وہ کسی کا مال روک لے۔ اسے تو ہر وقت ہی فکر سوار رہے گی کہ بھیا، ایسا نہ ہو کہ اگلے پل میری آنکھیں بند ہو جائیں اور میں اس کی پیمنٹ نہ دے پاؤں۔

سورہ کا سیکنڈ ہاف ہمیں بتاتا ہے کہ وہ نمازی جو نماز کو ٹال کر پڑھتے ہیں۔ تو آپ اپنی نمازوں سے بہت زیادہ غافل ہیں۔ آپ کو لگ تو رہا ہے کہ آپ نے نماز پڑھ لی۔ ٹکریں مار کے آپ آ گئے۔ لیکن اصل میں آپ نے عبادت نہیں کی۔ آپ نے صرف ایک دکھاوا کیا، ایک بوجھ اتارا۔ اے وقت نکل رہا ہے۔ نماز پڑھ لو۔ ابھی 10 منٹ ہے۔ پڑھ لوں گی۔ تم اپنی پڑھ لو۔ تو ان کنکلوژن، یہ سورت ہمیں ایک فارمولا دیتی ہے۔ کیا ہے وہ فارمولا؟ آخرت پر ایمان پلس اچھا اخلاق پلس بار بار بہترین عبادت کی کوشش کرنا از ایکول ٹو ونڈر فل ایمان۔ اسلام از دیٹ سمپل۔ اللہ، اٹ از دیٹ سمپل۔ ایوری تھنگ ایلز از جسٹ دا ڈیٹیلز۔

اب آخری بات۔ ٹھیک ہے، میں سمجھ گیا۔ لیکن اب مجھے لگ رہا ہے کہ شاید میں تحاض علی طعام المسکین والی کیٹیگری میں ہوں۔ نہیں، اب مجھے لگ رہا ہے کہ میں شاید ساہون والی کیٹیگری میں ہوں۔ تو میں ایسا کیا کروں؟ بہت سمپل ہے۔ میرے خیال میں تین کام کر لیں گے تو ہم لوگ انشاء اللہ تعالیٰ اللہ کے فیورٹ بندے بن جائیں گے۔ وہ کیا کرنا ہے؟ سب سے پہلا کام۔ اگر آپ نے کسی کی پیمنٹ روکی ہوئی ہے، کسی کا حق روکا ہوا ہے، آپ کی زکوۃ ساتھ رکی ہوئی ہے۔ فٹافٹ اس بوجھ کو اتاریں۔ جلد سے جلد دے کر اس سے نپٹارہ حاصل کریں۔ دوسرا کام۔ جیسے ہی اذان ہو، فوراً ارادہ بنا لیں کہ اب مجھے نماز پڑھنے جانا ہے۔ میں نماز کو ٹالوں گا نہیں۔ آخری وقت پر اپنی نماز نہیں پڑھوں گا تاکہ ہم عن الصلاتھم ساہون والی کیٹیگری سے باہر ہو جائیں۔ تیسری بات۔ خود بھی شیئرنگ سیکھیں اور اپنے بچوں کو بھی شیئرنگ اور کیرنگ سکھائیں۔ میں جانتا ہوں امی کے لیے کبھی کبھی تھوڑا مشکل ہو جاتا ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ پورا پراٹھا گڈو ہی کھائے۔ لیکن اس سے لائف میں آگے جا کر گڈو بڑا کنجوس، بڑا بخیل ہو جائے گا۔ نا۔ تو اس کو شیئرنگ اور کیرنگ سکھائیں تاکہ آپ یمنعون الماعون والی کیٹیگری سے باہر نکل پائیں۔ گڈو، ایک پراٹھا ایکسٹرا رکھ دیا ہے۔ فرینڈز کے ساتھ شیئر کرنا ہے۔ ٹھیک ہے؟ امید کرتا ہوں ویڈیو پسند آئی ہوگی۔ بات سمجھ آئی ہوگی۔ میرا مقصد ہے کہ میں قرآن کو اتنے سینمیٹک انداز سے اور آسان طریقے سے سمجھاؤں کہ اس سے آپ کے اندر ایک شوق پیدا ہو۔ آپ جا کر خود کتابیں پڑھیں جو میں نے ڈسکرپشن لنک میں ساری اویلیبل کرا دی ہیں۔ جا کر پڑھیے تاکہ آپ قرآن کو سمجھ سکیں اور بہتر طریقے سے۔ اگر آپ کو میرا یہ ویڈیو اچھا لگا اور آپ مجھے ایز اے کریٹر سپورٹ کرنا چاہتے ہیں تو آپ اس کیو آر کوڈ کو سکین کر کے آپ ہماری یوٹیوب کمیونٹی کو جوائن کر سکتے ہیں۔ جس میں ہم اے آئی کے بارے میں، سیرت النبی کے بارے میں، اس طرح کی ویڈیوز ہم کیسے بناتے ہیں، وہ ساری انسائٹ آپ کے ساتھ شیئر کریں گے۔ آپ کے سپورٹ سے ہم اور بڑی ٹیم بنا سکتے ہیں اور بہتر اور بڑھیا اور جلدی ویڈیوز کو پروڈیوس کر سکتے ہیں۔ دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ جزا ک اللہ خیر۔ السلام علیکم۔ ارایت الذی یکذب بالدین فذالک الذی یدع الیتیم ولا یحاض علی طعام المسکین۔