📱

Get Our Mobile App

Take your business learning on the go!

Download on the App StoreGet it on Google Play

How 130 Men Survive 8 Months in Submarine

Zem TV13:07

Transcription

ورلڈ وار 2 میں نازی جرمنی کی U1206 نامی سب میرین نارتھ سی میں چھپی ہوئی تھی۔ نیچے سمندر کا خوف اور اوپر پہرہ دیتے ہوئے برطانوی طیاروں کا۔ اسی لمحے سب میرین کے کپتان نے ٹوائلٹ استعمال کرتے ہوئے اس کا غلط والو کھول دیا۔ چند سیکنڈز میں سمندر کا پانی جہاز کے اندر بھر گیا اور بیٹریوں میں جا کر کلورین گیس بننا شروع ہو گئی۔ مجبوراً سب میرین کو سطح پر لانا پڑا جہاں برطانوی بحریہ اور فضائیہ سخت پہرہ دیے ہوئے تھی۔ انہوں نے دیکھتے ہی سب میرین کو تباہ کر دیا اور سارے عملے کو قیدی بنا لیا۔ سمندر کی گہرائی میں 200 میٹر نیچے سب میرینوں کے لیے غلطی کی ذرہ برابر بھی گنجائش نہیں ہوتی۔ ایک چھوٹی سی بھی غلطی موت کا پیغام بن جاتی ہے۔ کہتے ہیں سب میرینرز کا اصل دشمن کوئی اور نہیں بلکہ ان کا اپنا دماغ ہوتا ہے۔ ان کی دنیا صرف اسٹیل کا ایک ٹیوب ہوتی ہے جو سمندر سے کئی 100 میٹر نیچے چھپ کر چل رہی ہوتی ہے۔ اوپر پانی کا بوجھ، نیچے موت کا سناٹا اور بیچ میں انسان۔ اس کے اندر رہنے والے عملے کے افراد دنوں نہیں بلکہ مہینوں تک پانی کے اندر رہتے ہیں۔ 2024 میں ایچ ایم ایس وینج نے پورے 2001 دن تک سمندر کے اندر رہ کر ایک نیا ریکارڈ بنا لیا۔ پر یہاں سوال اٹھتا ہے کہ 7 مہینوں سے بھی زیادہ سب میرینرز سمندر کی گہرائی میں کیسے رہتے ہیں؟ کھانا، پانی اور سب سے بڑھ کر آکسیجن کی کمی کو کیسے پورا کیا جاتا ہے؟ سمندر کی گہرائی میں ٹوائلٹ اور دوسرے ویسٹ کا کیا کیا جاتا ہے اور اگر کچھ گڑبڑ ہو جائے جیسے U1206 کے ساتھ ہوئی تو ان کے پاس کیا کیا آپشنز ہوتے ہیں؟ ZM ٹی وی کی ویڈیوز میں ایک بار پھر سے خوش آمدید ناظرین۔ اکثر لوگ سب میرین کو ایک لگژری جہاز سمجھتے ہیں جہاں آرام کی ہر چیز موجود ہو پر اصل میں سمندر کی گہرائی میں باقی دنیا سے کٹا رہنا بھی اپنے آپ میں ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ پھر بیشک آپ ایک فائیو اسٹار سویٹ میں ہی موجود کیوں نہ ہوں۔ حقیقت میں سب میرین کسی کفن سے کم نہیں ہوتی۔ یہ ایک تنگ ٹیوب جیسی ہوتی ہے جس کا کام ہی سمندر کی گہرائی میں چھپ کر تیرنا ہے۔ اندر جگہ اتنی تنگ ہوتی ہے کہ دو لوگ مشکل سے ایک جگہ پر چل سکیں۔ ہم بات کر رہے ہیں نیوی سب میرینوں کی جو دیکھنے میں تو کافی بڑی لگتی ہیں لیکن اسی کے اندر انجن بھی ہوتا ہے۔ کئی مہینوں کا سامان بھی اور حیرت انگیز طور پر 130 سے بھی زیادہ عملے کے افراد کے لیے جگہ بھی۔ موازنے کے لیے بتاتا چلوں کہ جہاں ایک نارمل جیل کے سیل میں قیدی کے پاس 80 اسکوائر فٹ تک جگہ ہوتی ہے، وہیں سب میرین میں ایک عملے کا فرد صرف 20 اسکوائر فٹ تک کی جگہ کو انجوائے کر سکتا ہے۔ تو اگر یوں کہا جائے کہ سب میرینرز مشن پر نہیں بلکہ چھ سات مہینوں کی قید میں جاتے ہیں تو یہ بھی غلط نہیں ہوگا۔ یہاں پرائیویسی کا کوئی تصور ہی نہیں ہوتا۔ ہر شخص کی پرائیویٹ اسپیس صرف اس کے کندھوں تک ہوتی ہے۔ ہر وقت کسی نہ کسی کا کندھا ایک دوسرے سے ٹکرا رہا ہوتا ہے۔ اور یہیں سے شروع ہوتا ہے سب میرینرز کا پہلا چیلنج، کلاسٹروفوبیا۔ یہ ایک ایسی کنڈیشن کو کہتے ہیں جس میں تنگ جگہوں پر انسان خوفزدہ ہو جاتا ہے۔ پینک اٹیکس ہوتے ہیں اور دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ دماغ صحیح سے کام نہیں کرتا اور اس کنڈیشن میں جو فیصلے لیے جاتے ہیں، وہ بھی اکثر غلط ثابت ہوتے ہیں۔ نیوی کے سلیکشن کے پراسیس میں کلاسٹروفوبیا کو باریکی سے آبزر کیا جاتا ہے۔ اگر ہلکے سے بھی اثرات ظاہر ہوتے ہیں تو امیدوار کو ریجیکٹ کر دیا جاتا ہے۔ سب میرین لائف کا سب سے پہلا چیلنج آپ کی نیند ہوتی ہے۔ اگر آپ کے پاس سونے کے لیے اپنا پرائیویٹ بیڈ ہے تو آپ خوش قسمت ہیں۔ کیونکہ سب میرینرز میں پرائیویٹ بیڈ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ یہ بنک کفن جیسے ٹائٹ ہوتے ہیں ایک دوسرے کے اوپر جس میں انسان صرف لیٹ سکتا ہے۔ بیٹھنا بھی ممکن نہیں۔ سب میرین کے بیڈ پر لیٹنا قبر میں سونے سے کم نہیں۔ یو ایس ایس میسوری جیسی سب میرینوں میں 135 عملے کے افراد ہوتے ہیں۔ جبکہ بیڈز صرف 94 مطلب ایک بیڈ کو الگ الگ سیلرز شیئر کرتے ہیں۔ یہاں ایک سسٹم ہوتا ہے جسے ہاٹ بنکنگ کہتے ہیں۔ ایک سیلر جب اپنی ڈیوٹی کے لیے اٹھتا ہے تو اسی وقت کسی اور کی ڈیوٹی ختم ہوتی ہے اور وہ اسی گرم بیڈ میں گھس جاتا ہے۔ یعنی یہاں بیڈ کبھی ٹھنڈا ہی نہیں ہوتا۔ سوچیں یہاں نیند بھی آپ کی اپنی نہیں ہے۔ وہ شفٹ سسٹم کا حصہ ہوتی ہے۔ سب میرینوں میں دن رات کا کوئی تصور نہیں ہوتا کیونکہ یہ کئی 100 میٹر سمندر کے نیچے ہوتی ہے۔ جہاں سورج کی روشنی پہنچنے کا کوئی چانس نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے انسان کا سلیپنگ سائیکل نیچرل سلیپ سائیکل سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ یہاں ہر کسی کو آرٹیفیشل سلیپ سائیکل بنانے پڑتے ہیں۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اتنے لوگ اتنے عرصے تک ایک ہی جگہ پر بند ہوں تو ان کو کھانا کہاں سے ملتا ہوگا۔ سب میرین جب مشن پر نکلتی ہے تو اس میں 20,000 کلوگرام تک کھانے کا سامان لوڈ کیا جاتا ہے۔ پر اس سے بھی حیرانی کی بات یہ ہے کہ سب میرین میں اس سامان کے لیے کوئی خاص اسٹوریج نہیں ہوتی بلکہ پوری سب میرین میں سارا کھانا پھیلا دیا جاتا ہے۔ بیڈز کے نیچے، کوریڈور پر سارا سامان پھیلا دیا جاتا ہے اور عملے کے افراد ان کے اوپر لٹرلی چل رہے ہوتے ہیں۔ شروع کے کچھ دن فریش پھل، سبزیاں اور دودھ کی مصنوعات دستیاب ہوتی ہیں۔ ان کو ابتدائی ہفتوں میں استعمال کرنا ہوتا ہے۔ اس کے بعد پورا عملہ کنڈ اور فروزن فوڈ پر گزارا کرتا ہے۔ پر سب میرینوں پر کھانا سب سے اعلیٰ تصور کیا جاتا ہے۔ کیونکہ کھانا ہی ایک ایسی چیز ہے جو کئی 100 میٹر نیچے عملے کا مورال بڑھائے رکھتی ہے۔ سب میرین میں اگر کھانا بورنگ ہو جائے تو ڈپریشن بڑھ سکتی ہے۔ اس لیے کچھ لمبے مشنوں پر آئس کریم مشینیں بھی ہوتی ہیں اور کبھی کبھی اسٹیک نائٹس بھی۔ یہاں پراپر کچن اور شیف ہوتے ہیں۔ پر حادثات کو کم رکھنے کے لیے جتنی بھی کوکنگ ہوتی ہے وہ الیکٹرک اسٹوف اور اوون میں ہوتی ہے۔ اور سب سے خاص بات یہ ہے کہ نارملی دن میں تین میل کھائی جاتی ہیں۔ لیکن سب میرینوں میں کل چار میل ہوتی ہیں۔ بریک فاسٹ، لنچ، ڈنر اور آخر میں مڈ ریٹس۔ یہ مڈ ریٹ میل آدھی رات کے بعد سرو کی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سب میرین کے اندر کا ماحول انتہائی اسٹریس فل ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے عملے کے افراد کی باڈی عام انسان سے زیادہ کیلوریز برن کرتی ہے۔ انہیں سستی سے بچانے کے لیے ایک ایکسٹرا میل ایڈ کی جاتی ہے۔ اور دوسرا جس شفٹ کی ڈیوٹی رات کو ہوتی ہے ان کے لیے بیچ میں مڈ ریٹ میل ہی انرجی کا واحد سورس ہوتی ہے۔ اور اب آتا ہے سب سے حیرت انگیز پارٹ، آکسیجن۔ سطح سمندر سے کئی 100 میٹر نیچے کوئی ونڈو نہیں ہوتی جس کو کھول لیا تو فریش ایئر اندر آ گئی۔ یہ لٹرلی ایک سیلڈ میٹل ٹیوب ہوتا ہے۔ تو پھر سب میرینرز کے لیے فریش آکسیجن کہاں سے آتا ہے؟ اتنے عرصے تک آکسیجن سلنڈر سب میرین میں رکھنا رسکی بھی ہوتا ہے کیونکہ آکسیجن ایک فلیم ایبل گیس ہے۔ اسی لیے سب میرین میں الیکٹرولیسز کا ایک شاندار نظام نصب ہوتا ہے۔ سمندر کے نمکین پانی کو توڑ کر اس میں سے آکسیجن کو الگ کیا جاتا ہے اور بچنے والی ہائیڈروجن گیس کو ضائع کر دیا جاتا ہے۔ ہر انسان روزانہ 600 لیٹر آکسیجن استعمال کرتا ہے۔ اگر 130 عملے کے افراد ہوں تو سب میرین میں لگے سسٹم کو روزانہ 78000 لیٹر آکسیجن پروڈیوس کرنی پڑتی ہے۔ یہ بالکل ایک انڈر واٹر اسپیس اسٹیشن کا سسٹم ہے۔ اگر سسٹم فیل ہو جائے تو عملے کے افراد چند منٹ میں ہی سانس کی کمی محسوس کرتے ہیں۔ پر سب میرین میں صرف آکسیجن بنانا ہی عملے کی زندگی کے لیے کافی نہیں۔ انسان جب سانس لیتا ہے تو وہ کاربن ڈائی آکسائیڈ بھی ریلیز کرتا ہے۔ اب اگر ایک طرف سے آکسیجن بن رہی ہے جو کہ کنزیوم بھی ہو رہی ہے اور ساتھ ساتھ کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس بھی بن رہی ہے جسے کوئی کنزیوم نہیں کر رہا تو اس صورت میں ہوا میں ایک عدم توازن بن جاتا ہے۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس 10 فیصد سے بھی زیادہ ہو گئی تو یہ خطرے سے ہرگز خالی نہیں۔ اس لیے ماڈرن سب میرینوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ سکربرز لگے ہوتے ہیں۔ سب میرین کی ہوا کو ایک ٹاور سے گزارا جاتا ہے جس میں ایمائن نامی لیکویڈ اسپرے کیا جاتا ہے۔ یہ کیمیکل ہوا میں سے صرف کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ابزرب کر لیتا ہے۔ لیکن اگر یہ سسٹم فیل ہو جائے تو ایمرجنسی کی صورت میں سوڈا لائم یا لیتھیم ہائیڈرو آکسائیڈ کے کینسٹرز جگہ جگہ رکھے جاتے ہیں۔ جب ہوا ان کینسٹر سے گزرتی ہے تو کیمیکل کاربن ڈائی آکسائیڈ کے ساتھ ری ایکٹ کرتا ہے اور اسے سولڈ کاربونیٹ میں بدل دیتا ہے۔ یہ ہوتا تو صرف ایمرجنسی کے لیے ہے کیونکہ ایک بار کینسٹر بھر گیا تو وہ کچرا بن جاتا ہے اور پھر اسے ڈسپوز کرنا ایک نیا مسئلہ بن جاتا ہے۔ سب میرینوں میں کھانا پکانے سے لے کر شاور لینے تک اور لانڈری سے لے کر پینے کے پانی تک تازہ پانی کا ہونا بہت ضروری ہے۔ پر جس پانی میں وہ تیر رہی ہے، وہ سارا نمکین پانی ہے۔ اسی پانی کو ڈسٹلیشن یعنی بھاپ بنا کر صاف کرنا یا پھر ریورس اوسموسس کے ذریعے فلٹر کیا جاتا ہے۔ نیوکلیئر سب میرینوں میں کیونکہ انرجی کی کوئی کمی نہیں ہوتی تبھی اس میں ڈسٹلیشن کا طریقہ اپنایا جاتا ہے۔ جبکہ ماڈرن سب میرینوں میں ہائی ٹیک فلٹر لگے ہوتے ہیں جو سمندر کے پانی میں سے نمک کو الگ کر کے تازہ پانی تیار کرتے ہیں۔ پانی یہاں بیشک بنایا جا سکتا ہے لیکن پھر بھی اس کو استعمال کرنے کے لیے سخت رولز ہوتے ہیں۔ یہاں کسی کو شاور کے لیے 15 منٹ نہیں ملتے بلکہ ایک سب میرین کو صرف 60 سیکنڈز کے لیے شاور استعمال کرنا ہوتا ہے۔ سمندر کے بیچ رہنے کے باوجود ایک سب میرین پانی کی ایک ایک بوند کے لیے ترستا ہے۔ سب میرین میں کچرا باہر نکالنا بھی ایک بہت بڑا ٹیکٹیکل چیلنج ہوتا ہے۔ سب میرین پانی کے اتنے پریشر تلے ہوتی ہے کہ ایک سوراخ بھی ہوا تو سمندر کا پانی سیلاب کی طرح اندر آ جائے گا۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے U1206 کے ساتھ ہوا۔ تو پھر ٹوائلٹ ویسٹ سے لے کر ویسٹ واٹر کو کیسے مینج کیا جاتا ہے؟ ٹوائلٹ ویسٹ پہلے سیینری ٹینک میں جمع ہوتا ہے۔ جب یہ ٹینک بھر جاتا ہے، تو انتہائی طاقتور پمپس کا استعمال کر کے اس ویسٹ کو سمندر میں ہی ڈسپوز کر دیا جاتا ہے۔ یہ پمپس سمندر کے پریشر سے زیادہ پریشر لگاتے ہیں۔ اس دوران والوز کا صحیح سیکوئنس میں کھلنا بہت لازمی ہوتا ہے۔ اگر باہر کا والو پہلے کھل گیا اور اندر کا بعد میں تو سمندر کا پانی سب میرین کے اندر بلاسٹ ہو سکتا ہے۔ سولڈ ٹریش کی بات کی جائے تو اس کو کمپیکٹ کر کے اسٹیل کنٹینرز میں پیک کیا جاتا ہے اور کبھی کبھی ٹارپیڈو کے ذریعے اس کو باہر لانچ کر دیا جاتا ہے۔ باقی سارا کام تو مشینیں سنبھال لیتی ہیں لیکن انسان کا کیا؟ کہتے ہیں یہاں انسان کا سب سے بڑا دشمن اس کا خود کا دماغ ہوتا ہے۔ مہینوں تک سن لائٹ نہیں، فیملی کانٹیکٹ نہ ہونے کے برابر، ایک جیسی سمیل، ایک جیسی دیواریں اور ایک جیسے ہی چہرے۔ عملے کے افراد ڈپریشن، اینگزائٹی اور کلاسٹروفوبیا کا شکار ہو سکتے ہیں۔ سب میرین میں ایک چھوٹی سی بھی آرگومنٹ کافی خطرناک بن سکتی ہے۔ اس لیے یہاں دن اور رات کا پیٹرن بنانے کے لیے سب میرین میں دن کی لائٹس کا رنگ نیچرل لائٹ جیسا ہوتا ہے اور رات کو لائٹس ریڈ ہو جاتی ہیں۔ تاکہ مائنڈ کو سگنل ملے کہ اب رات ہو چکی ہے۔ پر جو بھی ہو، عملے کو اسی کنڈیشن میں زندگی اور موت کے فیصلے کرنے ہوتے ہیں۔ اکتوبر 1944 میں یو ایس ایس ٹینک نامی سب میرین کی طرف سے ایک ٹارپیڈو میزائل فائر کیا گیا۔ لیکن کیلکولیشن میں چھوٹی سی غلطی کی وجہ سے وہ ٹارپیڈو فائر تو ہوا لیکن گھوم کر اسی سب میرین سے جا لگا جس نے اسے فائر کیا تھا۔ U1206 کا ٹوائلٹ انسیڈنٹ ہو یا یو ایس ایس ٹینک کا اپنا ہی ٹارپیڈو۔ یہ حادثات ہمیں بتاتے ہیں کہ سب میرینرز کی زندگی صرف دشمن سے لڑنا نہیں بلکہ ہر پل اپنے ہی دماغ، اپنی ہی مشین اور اس خاموش سمندر سے لڑنا ہے جہاں غلطی کی سزا صرف موت ہے۔ امید ہے ZM ٹی وی کی یہ ویڈیو بھی آپ لوگ بھرپور لائک اور شیئر کریں گے۔ آپ لوگوں کے پیار بھرے کمنٹس کا بے حد شکریہ۔ ملتے ہیں اگلی شاندار ویڈیو میں۔