Transcription
اللہ رب العزت کا بے پناہ فضل و کرم ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نماز ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور اسی کے ساتھ، جب ہم یہاں بیٹھے تو پھر مسجد کو آباد کرنے والوں کی طرف توجہ کریں۔ وہ کثرت سے رہتے ہیں، وہ مشہور ہے کہ فرشتے ان کے ساتھ بیٹھتے ہیں۔ اگر وہ مسجد میں موجود نہ ہوں تو فرشتے انہیں تلاش کرتے ہیں۔ اگر وہ بیمار ہو جائیں تو فرشتے ان کی عیادت کرتے ہیں۔ اگر وہ کسی ضرورت کے لیے جائیں تو فرشتے ان کی مدد کرتے ہیں۔
اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن میرے پڑوسی وہ لوگ ہوں گے جو مسجدوں کو آباد کرنے والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں کسی صف میں کھڑا ہوتا ہوں، مگر وہاں سے ایسے لوگوں کو دیکھتا ہوں جو مسجد کے اندر بیٹھے ہوئے ہیں اور دین میں لگے ہوئے ہیں، اور لوگوں کی دعوت کر رہے ہیں اور ذکر کر رہے ہیں۔ میں ان لوگوں کو دیکھ کر خوش ہوتا ہوں۔ اے اللہ کے دوستو! اور یہ ہمارا بیٹھنا کوئی معمولی بات نہیں بلکہ جو لوگ کسی کی مدد سے اسے حاصل کرتے ہیں۔
انسان کی، تمام انسانوں کی کامیابی کا دارومدار انسان کے اندرونی حصے پر ہے۔ انسان کے اندر ہی انسان ہے۔ انسان کے اندر کا حال نہ باہر کے حالات سے تعلق رکھتا ہے، نہ باہر کے نقشوں سے تعلق رکھتا ہے۔ انسان کے بننے یا بگڑنے کا باہر کے نقشوں سے کوئی تعلق بھی نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو ضرور کر کے دکھایا کہ نقشے میں اس طرح کر دیا، انسان کے اندر کا حال اور اندر سے نکلنے والے اگر دوستو! تو اللہ تعالیٰ اندر کے حالات پیدا ہی نہ کریں۔ اور ہر شے، ہر چیز، سب کچھ ان کے بنانے والے خود نہیں ہوئے ہیں۔ اس سے کچھ بنتا ہے۔ ہر چیز ہے، وہ ہر وقت اپنے گنوں سے، اپنی چیزوں کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ لکڑی کو لوہا بنا سکتے ہیں اور لوہے کو لکڑی بنا سکتے ہیں۔
اسی طرح جو کچھ جکڑ کر رکھا ہے، وہ ملک کی ہو یا مال کی ہو، برس کی ہو یا آپ کی ہو، وہ اللہ کے حکم سے ہی چلے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جہاں سے انسان کو کچھ ہوتا نظر نہیں آتا، وہاں سے بھی اللہ تعالیٰ کر کے دکھا دیں گے۔ اور جہاں سے تدبیر نظر آتی ہے، وہاں سے تقدیر دکھا دیں گے۔ یہ اللہ کی قدرت ہے دوستو!
بہر حال، اس کے ساتھ ہی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی طرف سے وہ طریقہ لے کر آئے ہیں جو ان کی زندگیوں میں آئیں گے تو اللہ تعالیٰ ہر نقشے میں کامیابی نکالیں گے۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ میں اب اچھی طرح ڈھل جائیں اور اپنے طریقے سے بچنے کا بوٹا لگائیں۔
بات ہے کہ سیرت کی تعبیر پر یہ علاوہ ازیں، زمین و آسمان سے کئی گنا زیادہ بڑی جماعت عطا فرمائیں گے۔ ان چیزوں سے نکل کر اللہ کے ساتھ میں آئے گا آپ کا۔ ان ساری چیزوں کو اللہ پاک مظفر فرمائیں گے۔ اسے اپنے اندر پیدا کرنے کے لیے ایک تو اسے دین کی دعوت دے رہی ہے۔ اللہ کی بات صحیح ہے۔ اللہ کے لوگوں کو بھی اثر جاری ہے۔ اللہ کے پیغمبروں اور صحابہ کے واقعات سننے ہیں۔ پھر تنہائی میں بیٹھ کر سوچنا ہے جن اسی اپیل کو اترنا ہے۔
کہ اس کی مجموعی دعوت ہے، یہ اہم ہے۔ اور پھر رو رو کر دعا مانگنی ہے کہ اللہ مجھے یقین کی دولت عطا فرما دے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے، بہر حال فائدہ حاصل کرنے کے لیے نماز کا حکم دیا گیا۔ تو دوستو! ایمان کو بنانے کے ساتھ ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ نے نماز کا حکم بھی ہمیں دیا۔
یہاں پر سارا کرواتے ہیں کہ قیامت کے دن لوگ اس وقت کو روئیں گے جو سر پر سوار ہو گی، پھر نماز میں اس طرح سکون ہوگا۔ قیامت کے دن اس کا حساب ان کو ہاتھوں کا۔ یہ اس قسم کا ہے جس نے فجر کی نماز چھوڑ دی، دوستو! اس کے چہرے سے نور ہٹا دیا جاتا ہے۔ جس نے صبح کی نماز چھوڑ دی، اس کے رزق سے برکت ختم کر دی جاتی ہے۔ جس نے ظہر کی نماز چھوڑ دی، اس کے بدن سے طاقت ختم کر دی جاتی ہے۔ جس نے مغرب کی نماز چھوڑ دی، اس کے اولاد سے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ جس نے عشاء کی نماز چھوڑ دی، اس کی نیند حرام کر دی جاتی ہے۔
وہاں پر ہر حال میں، جو بھی معاملات آئیں گے، وہاں اسی کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ تاکہ جو کچھ ہے، وہ صرف معلوم ہو، آپ کو سدا آگے بڑھنے میں مدد ملے، جو صرف اگر تک ساتھ دیں گے۔
اب بس تو دوستو! نماز بہت بڑی طاقت ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ کی جانب سے ہمیں ملی ہے۔ اور اس نماز کو بنانے کے لیے ہمیں سر سے لے کر پیر تک، دل کا کردار والے لوگ، شرعی پابندیوں کے ساتھ اپنے آپ کو استعمال کریں گے۔ شکر شکر شکر شکر کا استعمال کریں گے۔
دھیان رکھیں کہ زیادہ وقت کے استعمال سے، اللہ کا ذکر اور تسبیح شروع کو سدا ساتھ دلانے والا ہے۔ کسی نہ کسی وقت نماز پڑھ کر ہاتھ پھیلا کر مانگا جائے، دوستو! اللہ تعالیٰ سے ہر ضرورت پوری کرنے کے لیے۔ دوسروں کو خوش کرنے کی طرف توجہ دی جائے۔ وہاں پر اللہ کی قدرت اور خوبصورتی کو کرنے کے نام سے مشہور، دھیان میں رکھتے ہوئے، اللہ کا ذکر کرنا نہ بھولیں۔
علم اور ذکر کا جذبہ ہمیں پیدا ہو جائے کہ میرا رب مجھے اس حال میں کیا چاہتے ہیں۔ اور اللہ کے دھیان کے ساتھ اپنے آپ کو اس کام میں لگا دینا، یہ سیرت میں تھا کہ جو آدمی دین سیکھنے کے لیے سفر کرتا ہے اس کا یہ سفر عبادت پر لکھا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے چلنے والوں کے پیروں کے نیچے ستر ہزار فرشتے اپنے پر بچھاتے ہوئے آتے ہیں۔ زمین اور آسمان کی ساری مخلوقات ان کے لیے دعا کرتی ہے۔ شیطان پر ایک آدمی نے ہزاروں عابدوں سے زیادہ، باہر کے دشمنوں میں ایمان کا شوق پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔ کچھ تعلیم کے حلقوں میں بیٹھے، اللہ کی اطاعت میں، اس کو بھی عبادت یقین کیا جائے اور رو رو کر مانگا جائے کہ اللہ انہیں یہ فتح عطا فرما دیں گے۔ ہر حال میں ایمان پیدا کرنے کے لیے ذکر ہے۔ جو اللہ کا ذکر کرتا ہے، اللہ اس کو یاد فرماتے ہیں۔ جب تک بندے کے ہونٹوں پر ذکر رہتا ہے، اللہ اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔ اللہ پاک اپنی معیت ہمارے ساتھ عطا فرماتے ہیں۔ اللہ کا ذکر شیطان سے بچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کبھی پیدل چلنے کے لیے، دوسروں کو اللہ کے ذکر میں رہنے کی دعوت دیتے ہیں۔ یہ یقین جما کر کہ میرے اللہ مجھے دیکھ رہے ہیں۔ اسی طرح رو رو کر دعا مانگنا کہ اللہ تو جیسے کہ ہے، ہمیں بدلتا فرما دیجیے۔
محبت کے ساتھ ہر مسلمان کا، سید الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی ہونے کا اکرام بھی کرنا ہے۔ ایک مسلمان کو اپنے اندر لانا ہے، ہر امتی کے آگے جھک جانا، ہر شخص کے حقوق کو ادا کرنا اور اپنے آپ کو فنا کرنا۔
جو اللہ کی رضا کی خاطر دوسروں کے کام میں لگا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے کام میں لگا دیتے ہیں۔ جو اپنے آپ کو معاف کرے گا، اللہ تعالیٰ ان کو جنت کے بیچ میں داخل کریں گے۔ جو اللہ کے لیے دوسروں کے آگے تواضع اختیار کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کو عزت عطا فرمائیں گے۔
اس کے لیے دوسروں میں ترغیب کے ذریعے اکرام مسلم کا شوق پیدا کرنا ہے۔ مسلمان کی ہمت بتانی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمدردی و ایثار کے واقعات سنانے ہیں۔ تو اس کی محنت کرنی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کی وضاحت کر کے پھر مانگنا ہے۔
پھر اس کے بعد اپنے اندر یقین پیدا کرنا ہے۔ ہر حال میں زیادہ سے زیادہ اللہ کی رضا کا جذبہ ہو۔ کسی کی طرف سے تھوڑا سا بھی ملے تو اس کے بغیر بہت بڑے بڑے بھی قبول کیے جائیں۔ اپنے آپ سے پہلے اور ہر حال میں اللہ کو راضی کرنے کے لیے کر رہا ہوں۔
پوری ہمت دعوت والے محنت میرے تھے۔ اس کے بندوں کا تعلق دنیا سے کم ہو جائے۔ اس کے لیے ہم یہ والے طرز پر اپنی جان و مال کو چھڑک دینا۔ ہم اور جس میں محنت کر رہے ہیں، ان سے کسی چیز کا طمع نہ کرنا، اس کے لیے صرف کرنا۔ زمین والوں کو رحم کرتا ہے، آسمان والا ان پر رحم کرتا ہے جو دوسروں کو اللہ سے جوڑنے کے لیے عمل صالح کی محنت کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کو سب سے پہلے ایمان و عمل و عمل صالح، یہ سبھی فضیلتوں سے نواز کر اپنا تعلقات فرمائیں گے۔
یہ اس راستے میں ایک شب کا نکلنا، پوری دنیا جو کشمکش میں ہے، بات ہمارے ماحول کی بھی اور باتیں باہر کی بھی، اس سب سے بہتر ہے۔ تو اس راستے میں ایمان کے خرچے اور ہر سر پر تسبیح اور ایمان، ستر لاکھ ہونا ہو جاتا ہے۔
اس راستے میں محنت کرنے والوں کی دعائیں مانگی شروع ہوتی ہیں کہ جس طرح ان کے گھروں پر اللہ تعالیٰ نے شر کے خلاف اپنی قدرت کا استعمال فرما کر ان کو کامیاب فرمایا اور باطل طاقتوں کو توڑ دیا۔ اسی طرح محنت کے کی کرنے والوں کی دعاؤں پر اللہ تعالیٰ انہیں شر کے سر پر اپنی قدرت کے نظارے فرمائیں گے اور اگر عالم یہاں پر رچی گئی تو تمام اہل عالم کے روپ میں ان کے محنت کے دین آئیں گے۔
دین کے دوسرے اعمال کی طرح ہمیں یہ محنت بھی کرنی نہیں آتی۔ دوسروں کو اس محنت کے لیے آمادہ کرنا ہے۔ اس کے لیے کیا کرنا ہے؟ اگر محنت کرانی ہے تو دوسروں کو اس محنت کے لیے ہمیں کیا کرنا ہے؟ اس کی اہمیت اور قیمت بتانی ہے۔ ہم نے گمان کیا تھا کہ آپ یہاں سناتے ہوئے خود اپنے آپ کو قربانی کی شکل اور اللہ کے راستے میں لگانا ہے۔
صحابہ کرام ہر حال میں اللہ کی راہ میں نکلے ہیں۔ نکاح کے وقت، ہر حال میں، یہاں پر سردی میں، گرمی میں، جوانی میں، بڑھاپے میں بھی نکلے ہیں اور رو رو کر اللہ تعالیٰ سے مانگے ہیں۔ ہم بھی کہتے ہیں کہ اللہ ہمیں بھی اس عظیم محنت کے لیے قبول فرما۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی راہ میں نکلنے کے لیے تیار رہیں۔
ان چیزوں کو پیدا کرنے کے لیے، ہر شے کو حق سے جوڑنے کے لیے، چاروں طرف دعوت دی جاتی ہے۔ اپنے مال و سامان گھر سے نکل کر ان چیزوں کی دعوت دیتے ہوئے، اللہ کے لیے مسلمانوں کی زندگی بننے کی باتیں کرنے کی تیاری میں تھے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں، یہ محنت علاقوں میں جانے سے ہوتی تھی۔ یہ محنت مسجدوں میں ہوتی تھی۔ یہاں پر صحابہ کرام اور امتیوں کے اجتماع ہوتے تھے۔ شہر کے اہم مالدار بھی، اگر وہ دین سے دور تھے، تو ان کو بھی مسجدوں میں لانے کی محنت کی جاتی تھی۔ لیکن آج یہ بازار میں جا کر، مسجدوں میں ہر امتی کو لانے کی محنت کریں۔
دوستو! محنت والے عمل کو دیکھتے ہوئے دوسروں کے لیے محنت سیکھنے کے لیے تین دن کے لیے، چالیس دن کے لیے، تین ماہ کے لیے ہم نکلیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان باتوں کو اپنی زندگی میں لانے کی توفیق نصیب فرمائے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ، اللہ ہمیں جو باتیں بتائی گئیں، جو کام کی باتیں، اللہ تعالیٰ اس کو بھی قبول فرمائے۔ سب سے زیادہ اس کو بھی قبول فرمائے۔ تو ہم سب کو بھی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔