Transcription
سال 2008 میں سائبیریا کے ایک دور دراز علاقے میں ڈینیسووا نامی غار کے اندر کچھ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کھدائی کر رہے تھے۔ اچانک انہیں مٹی کے اندر سے ہڈی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ملا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ انسانی ہاتھ کی سب سے چھوٹی انگلی کی ہڈی تھی۔ جب انہوں نے اس ہڈی کو باہر نکالا اور اس پر تحقیق شروع کی تو پہلے لگا کہ شاید یہ 400 سال پہلے بسنے والے نیاندرتھل کی ہڈی ہے۔ پر ڈی این اے اور جینیٹکس ٹیسٹ کرنے پر جو معلوم ہوا اس نے سب کے ہوش اڑا دیے۔ یہ ڈی این اے نہ تو کسی نیاندرتھل کا تھا اور نہ ہی ہمارے جیسے ہوموسیپینز کا۔ یہ ایک بالکل ہی نئی قسم کے انسان کا ڈی این اے تھا جسے اس دن سے پہلے دنیا میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔ ZM TV کی ویڈیوز میں ایک بار پھر سے خوش آمدید۔ ناظرین، یہ چھوٹی سی ہڈی دراصل ایک جوان لڑکی کی تھی جو آج سے تقریباً 50000 سال پہلے اس زمین پر زندہ تھی۔ اور کیونکہ یہ ڈینیسووا کی غار سے ملی تھی۔ اسی لیے اس نسل کو ڈینیسووینز کا نام دیا گیا۔ جیسے ہی یہ خبر دنیا کے سامنے آئی تو سائنس کی دنیا میں ایک بھونچال سا مچ گیا۔ کیونکہ ہیومن ایولوشن کا جو فیملی ٹری ہم نے بنایا ہوا تھا جس کے مطابق ہم انسان یعنی ہوموسیپینز ہیں اور ہم سے پہلے نیاندرتھل، وہ پورا کا پورا ٹری ہی ہل گیا۔ اس دریافت نے یہ ثابت کر دیا کہ دنیا میں ایک [موسیقی] تیسری قسم کا انسان بھی تھا جو ہمارے ساتھ اس زمین پر چل پھر رہا تھا۔ اور سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ یہ ڈینیسووینز کوئی چھوٹے موٹے یا کمزور لوگ نہیں تھے۔ ان کے اندر ایسی صلاحیتیں تھیں جو آج کے انسان کے پاس بھی نہیں ہیں۔ لیکن اتنی طاقتور اور ایڈوانس نسل ہونے کے باوجود ہماری ہسٹری بکس میں ان کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ اس کہانی کا سب سے بڑا ٹوئسٹ یہ ہے کہ بیشک ڈینیسووینز آج زندہ نہیں ہیں، لیکن ان کا ڈی این اے آج بھی دنیا کے کئی زندہ انسانوں میں موجود ہے۔ سائنسدانوں نے غار سے ملنے والی ہڈی کے ڈی این اے کو جب دنیا کے مختلف حصوں کے لوگوں کے ڈی این اے کے ساتھ میچ کیا تو پتہ چلا کہ آج بھی تبت، منگولیا، پاپوا نیو گنی اور آسٹریلیا کے لوگوں کے خون میں ڈینیسووینز کا 5% ڈی این اے موجود ہے۔ اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ کسی دور میں یہ غائب شدہ نسل اور ہمارے آباؤ اجداد آپس میں ملے تھے اور انہوں نے ساتھ مل کر نسلیں آگے بڑھائیں۔ پر یہاں ایک سب سے بڑا سوال پیدا ہوتا ہے۔ نیاندرتھل جو کہ ہمارے دوسرے کزنز تھے، دنیا بھر میں ان کے ڈھیروں ڈھانچے اور فوسلز مل چکے ہیں۔ لیکن ان ڈینیسووینز کا کیا؟ ان کے وجود کے ثبوت کے طور پر ہمارے پاس صرف ایک چھوٹی انگلی کی ہڈی، کچھ دانت، [موسیقی] تبت کے پہاڑوں سے ملا ایک جبڑا اور چائنا سے ملی ایک کھوپڑی ہے۔ بس اتنا ہی۔ سائنسدان پریشان ہیں کہ ایک ایسی طاقتور نسل جس نے اپنے ڈی این اے کے نشانات آج کے انسانوں تک چھوڑے ہوئے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ان کے بہت سارے ڈھانچے یا فوسلز ملنے چاہئیں۔ پر ایسا کیوں نہیں ہے؟ 2010 میں ڈینیسووینز کی خبر عام ہوئی تو انسانی [موسیقی] تاریخ کی بنیادیں ہل گئیں۔ کیونکہ پہلے کہانی بالکل سیدھی تھی کہ انسان افریقہ میں پیدا ہوئے اور وہاں سے دوسرے کانٹیننٹس میں مائیگریٹ ہوئے۔ نیاندرتھل یورپ میں رہتے تھے اور کبھی کبھی ان کا ہوموسیپینز یعنی انسانوں سے ٹکراؤ ہوتا تھا۔ لیکن ڈینیسووینز کی آمد نے اس صاف ستھری کہانی کو الجھا کر رکھ دیا ہے۔ سائبیریا کی اس غار سے ملنے والے ڈی این اے نے ثابت کیا کہ یہ صرف ایک عام چھوٹی سی آبادی نہیں تھی۔ جب تبت اور چائنا جیسے الگ الگ علاقوں میں ان کے مزید فوسلز ملے تو یہ بات واضح ہو گئی کہ ڈینیسووینز کا راج پورے ایشیا پر پھیلا ہوا تھا۔ انہوں نے نہ صرف وہاں آبادیاں بنائی بلکہ وہاں کے لوگوں کے امیون سسٹم، ان کے جسم اور ان کے دماغ تک کو شیپ کیا۔ لیکن فوسلز کا اتنا کم ہونا آج بھی ایک سب سے بڑا راز ہے۔ اب ماہرین نے ان کے ملنے والے باڈی پارٹس کو سائنٹفک انداز میں دیکھنا شروع کیا تو ان کی شکل و صورت کا اندازہ لگانا کافی حد تک آسان ہو گیا۔ پہلے تو لگ رہا تھا کہ شاید ڈینیسووینز ہم انسانوں جیسے ہی دکھتے ہوں گے۔ لیکن ایسا نہیں تھا۔ چائنا سے ملنے والی کھوپڑی جسے ڈریگن مین کا نام دیا گیا۔ اس کھوپڑی کا سائز کافی بڑا اور انسانوں کے مقابلے میں ایبنارمل لگ رہا تھا۔ اسی طرح تبت سے ملنے والے جبڑے کو دیکھا جائے تو اس کی موٹائی آج کے عام انسان کے جبڑے سے دگنی ہے۔ [موسیقی] ان کے دانت اتنے بڑے تھے کہ انہیں دیکھ کر لگتا ہے جیسے یہ کسی اور ہی دنیا کے جانور کے ہوں۔ سب سے حیران کرنے والی بات ان کے دماغ کا سائز تھا۔ سائنسدانوں کے مطابق ڈینیسووینز کی کھوپڑی میں دماغ رکھنے کی جگہ ہمارے مقابلے میں تقریباً 20% [موسیقی] زیادہ تھی۔ یہ صرف سائز کا بڑا ہونا نہیں تھا بلکہ اس کا مطلب تھا کہ ان کا دماغ کسی اور ہی ایڈوانس طریقے سے کام کرتا تھا۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈینیسووینز عام انسان نہیں بلکہ وہ سپر ہیومنز تھے جسے وقت کے ساتھ بھلا دیا گیا۔ یہ بات سچ ہے کہ دماغ کا بڑا ہونا ہمیشہ اس بات کو ظاہر نہیں کرتا کہ وہ مخلوق زیادہ عقل مند ہوگی۔ لیکن جب ہم ڈینیسووینز کے ڈی این اے کی گہرائی میں جاتے ہیں تو ایک الگ ہی کہانی ملتی ہے۔ ان کے ڈی این اے میں کچھ ایسے نیورل پاتھ ویز اور جینز ملے ہیں جو دماغ کی ڈویلپمنٹ کو مختلف انداز میں کنٹرول کرتی ہیں۔ اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ان کی یادداشت یعنی میموری پروسیسنگ ہم سے کہیں زیادہ تھی اور وہ کمپلیکس پیٹرنز کو ہم سے بہتر انداز میں سمجھ سکتے تھے۔ یہ واقعی سائنس کا ایک حیرت انگیز انکشاف ہے کہ ہمارے دماغ اور جسم کی صلاحیتیں صرف ہماری اپنی نہیں ہیں۔ جب عام انسان 10,000 فٹ کی بلندی پر آکسیجن کی کمی سے سٹرگل کرتا ہے، وہیں تبت کے لوگ 14,000 فٹ پر آسانی سے زندگی گزارتے ہیں۔ اس کا راز ان کے ڈی این اے میں موجود EPAS1 جین میں چھپا ہے جو ان کے خون کو پتلی ہوا سے آکسیجن جذب کرنے میں مدد دیتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ جین ہوموسیپینز کا اپنا نہیں بلکہ یہ ہمیں ڈینیسووینز سے وراثت میں ملا ہے۔ کیونکہ غار سے ملنے والی ہڈیوں کے ڈی این اے میں بھی EPAS1 جین پائی گئی ہے۔ ہزاروں سال پہلے جب ہمارے آباؤ اجداد میدانوں میں تھے، ڈینیسووینز نے ان ایکسٹریم بلندیوں [موسیقی] اور برفیلے پہاڑوں پر رہتے ہوئے اپنی جینیٹکس کو ڈھال لیا تھا۔ آج انہی کے ڈی این اے کی بدولت تبت کے لوگ مشکل حالات میں جینے کی مہارت رکھتے ہیں۔ صرف آکسیجن ہی نہیں ڈینیسووینز نے آنے والی نسلوں کو ایک اور بہت بڑا تحفہ بھی دیا اور وہ تھا بہترین امیون سسٹم یعنی بیماریوں سے لڑنے کی طاقت۔ [موسیقی] جب پرانے وقتوں میں انسان نئی نئی بیماریوں اور وباؤں سے مر رہے تھے۔ ڈینیسووینز ان وباؤں کے بیچ آرام سے چل پھر رہے تھے۔ جیسے انہیں کوئی عام سا نزلہ زکام ہو۔ ان کی جین میں بیماریوں سے لڑنے کی ایسی شیلڈ تھی جو انہوں نے بعد میں اوشیانا اور ایشیا کے مقامی لوگوں کو دی۔ ان کی امیونٹی اتنی طاقتور تھی کہ کچھ ریسرچرز تو یہاں تک مانتے ہیں کہ ان کی سیلولر ڈگریڈیشن یعنی ان کے بوڑھے ہونے کا عمل بھی ہم سے کہیں زیادہ سلو تھا۔ آسان الفاظ میں کہا جائے تو ڈینیسووینز عام انسانوں [موسیقی] کی نسبت زیادہ لمبے عرصے تک جیتے تھے۔ جلدی بوڑھے نہیں ہوتے تھے اور دماغی طور پر آخر تک چست رہتے تھے۔ اگر آپ ان سب خوبیوں [موسیقی] کو ملا لیں طاقتور جسم، بڑے دماغ، پہاڑوں پر جینے کی طاقت، بیماریوں سے بچنے کا طاقتور امیون سسٹم اور لمبی زندگی۔ تو یہ انسان کی کسی ایڈوانسڈ اور اپ گریڈڈ فارم کا خاکہ بنتا ہے۔ یعنی واقعی میں ایک سپر سولائزیشن۔ جہاں ڈینیسووینز کی دریافت نے ہیومن ہسٹری کے بارے میں ہماری سوچ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ وہیں ان کے رہن سہن اور ٹولز بنانے [موسیقی] کی صلاحیتوں نے بھی ہمیں ایک بڑا جھجھکا دیا ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت 2008 میں سائبیریا کی ڈینیسووا غار سے ملنے والا ایک سبز رنگ کا کنگن ہے جسے کلوریٹولائٹ بریسلٹ کہتے ہیں۔ پہلی نظر میں یہ کسی ملکہ کا نیا زیور لگتا ہے۔ مگر جب کاربن ڈیٹنگ کی گئی تو پتہ چلا کہ یہ 50 سے 70 ہزار سال پرانا ہے۔ اس بریسلٹ کی سب سے حیرت انگیز بات اس کی چمک نہیں بلکہ اس میں موجود ایک پرفیکٹلی گول سوراخ تھا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اتنی نفیس پالش اور بالکل سیدھا سوراخ اس زمانے میں ہائی سپیڈ روٹری ڈرلنگ کے بغیر ناممکن تھا۔ یہ وہی ٹیکنالوجی ہے جو ہم ماڈرن انسانوں نے ہزاروں سال بعد دریافت کی۔ سٹون ایج میں ایسی انجینئرنگ دیکھ کر سائنسدان دنگ رہ گئے۔ ایک ماہر نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی پرانے ایجپٹ کے اہرام سے نیا آئی فون مل جائے۔ یہ دریافت ثابت کرتی ہے کہ ڈینیسووینز نہ صرف مضبوط جسم اور خاص ڈی این اے کے مالک تھے بلکہ ان کی ذہنی اور ٹیکنیکل ترقی ہماری [موسیقی] سوچ سے کہیں زیادہ تھی۔ کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ 2016 میں اسی غار سے 50000 سال پرانی ہڈی سے بنی ایک 7 سینٹی میٹر لمبی سوئی بھی ملی جس میں حیرت انگیز طور پر دھاگہ ڈالنے کے لیے باقاعدہ سوراخ موجود تھا۔ یہ دنیا کی سب سے پرانی سوئی ہے جو ثابت کرتی ہے کہ جب ہمارے آباؤ اجداد صرف جانوروں کی کھالیں لپیٹ رہے تھے۔ ڈینیسووینز ناپ تول کر کپڑے سیتے تھے۔ ایک نقش و نگار والی سوئی بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا دماغ پلاننگ، سیمیٹری اور نفاست کو سمجھتا تھا۔ انہوں نے شتر مرغ کے انڈوں سے خوبصورت موتی بھی بنائے اور پتھروں پر کئی سمبولک آرٹ نمونے بھی چھوڑے۔ سمبلز کا استعمال کرنا سیدھا سیدھا اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ ان کے پاس ایک پختہ زبان اور گفتگو کا بہترین نظام موجود تھا جو ان کے دماغ کے ہائر آرڈر تھنکنگ کو ظاہر کرتا ہے۔ ان دریافتوں نے انہیں محض غاروں میں رہنے والے ان پڑھ ثابت کرنے کے بجائے ایک انتہائی [موسیقی] ذہین اور ہنرمند نسل کے طور پر پیش کیا ہے۔ اگر آپ کو ان چھوٹی چھوٹی چیزوں نے حیران نہیں کیا تو اب تیار ہو جائیے۔ کچھ بہت ہی بڑا سننے کے لیے۔ آئیے چلتے ہیں ایشیا کے ان پہاڑی علاقوں میں جہاں ایسے راز دفن ہیں جنہیں آج تک کوئی ایکسپلین نہیں کر پایا۔ سائبیریا کے گھنے جنگلوں کے بیچ ایک جگہ ہے جسے ماؤنٹ شوریا کہا جاتا ہے۔ یہاں آپ کو زمین پر اتنے بڑے اور بھاری پتھر کے بلاکس ملیں گے جنہیں اگر آج کے دور کی سب سے اعلیٰ اور جدید مشینیں بھی اٹھانا چاہیں تو وہ بھی ہار مان جائیں گی۔ ان میں سے کچھ بلاکس کا وزن 3000 ٹن سے بھی زیادہ ہے۔ ان بلاکس کی ایجز پر غور کیا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے انہیں انتہائی نفاست سے کاٹا گیا ہو۔ ان کے کنارے بالکل سٹریٹ اور رائٹ اینگلز پر کٹے ہوئے ہیں۔ مین سٹریم جیولوجی اس کو اکثر قدرتی عمل کہہ کر ٹال دیتی ہے۔ لیکن ایک بہت ہی انٹرسٹنگ حقیقت یہ ہے کہ یہ جگہ بالکل اس علاقے کے بیچ میں آتی ہے جو ڈینیسووینز کا اصل گھر تھا۔ اسی طرح منگولیا اور پورے سنٹرل ایشیا میں ہزاروں پرفیکٹلی کٹے ہوئے پتھروں کے سلیبس اور عظیم الشان پتھروں کے گھر دریافت ہوئے ہیں۔ جنہیں ہم قدرتی کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ یہ وہاں موجود ہیں جہاں اس دور کے عام انسانوں کے پاس نہ ہی اتنی سمجھ تھی اور نہ ہی ایسے ٹولز کہ وہ اتنے بھاری پتھروں کے پہاڑ کاٹ کر آپس میں ایک خاص ترتیب سے جوڑ سکیں۔ ان میگالیتھک سائٹس کی ایک اور حیران کن خاصیت یہ ہے کہ یہ آسمانی تاروں اور سورج کے ساتھ الائن کیے گئے ہیں۔ منگولیا میں موجود یہ پتھر سال کے سب سے بڑے دن یعنی سول سٹیسس کے سن رائز اور سن سیٹ کے عین مطابق کھڑے ہیں یا پھر کسی خاص مقصد سے کھڑے کیے گئے ہیں۔ وہی طریقہ جو ہمیں ایجپٹ کے اہرام، سٹون [موسیقی] ہینج اور مایا کیلنڈرز میں نظر آتا ہے۔ تو ذرا سوچیے کیا ان بعد میں آنے والی سولائزیشنز نے یہ سب کچھ اکیلے سیکھ لیا یا پھر یہ ڈینیسووینز کے بنائے ہوئے نقشوں پر چل رہے تھے۔ اب یہاں سب سے بڑا سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ڈینیسووینز اتنے ہی ایڈوانس تھے تو پھر ان کی نسل مٹ کیسے گئی؟ ایسا کیوں ہے کہ ہمیں ان کے صرف گنے چنے فوسلز ہی ملے۔ یہاں حیرانی کی بات یہ ہے کہ 40000 سال پہلے تک جب ڈینیسووینز کا آخری نون جسم زندہ تھا ٹائم لائن کو دیکھا جائے تو یہی وہ وقت تھا جب ہوموسیپینز یعنی انسانوں نے یوریشیا میں قدم رکھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی دو انسانی نسلیں ایک ساتھ ایک ٹیریٹری میں آئیں، اس کے بعد صرف ایک ہی بچی ہے۔ ہماری نسل تعداد میں بہت زیادہ تھی، بہت ایگریسو تھی اور ہم جنگجو تھے۔ جینیٹکس ہمیں بتاتی ہے کہ انہوں نے آپس میں شادیاں بھی کیں اور انٹر بریڈ بھی کیا۔ تبھی تو ان کا ڈی این اے آج بھی بچا ہوا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود ان کا وجود ختم کیوں ہوا؟ کچھ کا ماننا ہے کہ یہ ایک پری ہسٹورک جینو سائیڈ تھا یعنی اس زمانے کی سب سے بڑی نسل کشی جس میں عام انسانوں نے تعداد اور چالاکی کے ذریعے اس ایڈوانس نسل کا اثر دنیا سے مٹا دیا اور ان کی کہانی دبا دی۔ [موسیقی] لیکن ایک آخری تھیوری جو سب سے زیادہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے وہ اس جینو سائیڈ سے ہٹ کر ہے۔ یہ تھیوری کہتی ہے کہ ڈینیسووینز دنیا کے حالات اور ہوموسیپینز کی خون خرابہ دیکھ کر اپنے آپ کو الگ کر گئے۔ وہ پہاڑوں کی بلندیوں اور گہری غاروں میں چھپ گئے۔ وہی جگہ جو انہیں ویسے بھی اچھی لگتی تھی اور پھر تقریباً 12,800 سال پہلے زمین پر ایک بہت بڑی تباہی آئی۔ سائنس اس دور کو ینگر ڈرائرز ایونٹ کہتی ہے۔ آسمان سے گرتے آگ کے گولے، ٹمپریچر کا اچانک انتہائی بڑھ جانا، برف کی چادر کا پگھلنا اور ایسے بڑے سیلاب آنا جنہوں نے پوری دنیا کا نقشہ تباہ کر دیا۔ یہ وہی دور ہے جسے ریلیجس سٹوریز میں نوح کا [موسیقی] فلڈ اور قدیم کہانیوں میں دنیا کا ری سیٹ کہا گیا ہے۔ شاید یہی وہ لمحہ تھا جب پہاڑوں میں چھپی یہ سپر سولائزیشن اپنی تمام ترقی، لازوال ٹولز اور ان گنت رازوں کے ساتھ ہمیشہ کے لیے مٹی کے نیچے دفن ہو گئی۔ پیچھے چھوڑ گئی تو صرف ایک چھوٹی سی انگلی کی ہڈی جو آج ہمیں ان کی عظمت کی کہانی سنا رہی ہے۔ اگر ایک پوری سپر سولائزیشن واقعی میں تاریخ سے مٹ سکتی ہے تو سوچیے ہم نے اور کیا کھو دیا ہے اور سب سے اہم سوال ابھی اس زمین کے نیچے ایسے کتنے اور راز دفن ہیں جو باہر آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ امید ہے ZM TV کی یہ ویڈیو بھی آپ لوگ بھرپور لائک اور شیئر کریں گے۔ آپ لوگوں کے پیار بھرے کمنٹس کا بے حد شکریہ۔ ملتے ہیں اگلی شاندار ویڈیو میں۔