Transcription
دادی بسو ایک نہایت غریب، نادار اور لاچار عورت تھی جو اپنے پیارے سے گاؤں کے کچے مکان میں رہتی تھی۔ اس کا سب سے قیمتی سرمایہ اس کی دل کے قریب ساتھی، بکری شکلا تھی. شکلا صرف ایک بکری نہیں تھی بلکہ دادی بسو کی تنہائی کی ساتھی اور ان کی ہمراز تھی۔
"بیٹی شکلا، جاؤ باغ سے ہرے بھرے پتے تو توڑ لاؤ۔ میں انہیں کاٹ کر پکالوں گی۔ مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے۔"
"ٹھیک ہے دادی، توڑ لاتی ہوں۔ مگر دادی، ہم کب تک کیلے کے پتے ہی کھاتے رہیں گے۔ تم تو بوڑھی ہو گئی ہو۔ پتے چبا کر بھی گزارا کر لو گی۔ مگر میں تو ابھی جوان ہوں۔ میرا جی چاہتا ہے کہ تازہ پھل کھاؤں۔ رسیلے اور میٹھے۔"
"او رے میری پیاری بیٹی۔ ابھی تو جا پتے لے آ۔ انشاءاللہ ہمارے بھی اچھے دن آئیں گے۔ کسی نے سچ کہا ہے۔ کبھی کا دن بڑا، کبھی کی رات بڑی۔"
شکلا گھومتی پھرتی کیلے کے باغ میں پہنچی اور پتے توڑنے لگی۔ پتوں کے ساتھ شکلا نے کچھ کیلے بھی توڑ لیے اور گھر لے آئی۔
"ارے واہ۔" دادی نے ہرے بھرے پتے کاٹ کر مزیدار کھانا بنایا۔ "ذرا نمک تو چھڑک لوں۔"
ہم دونوں نے مل کر خوب مزے سے کھایا۔ الحمدللہ۔ کھانے کے بعد دادی اور شکلا مزیدار میٹھے کیلے کھانا شروع ہو گئے۔
تبھی اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔
"او رے، اس وقت کون آ گیا؟"
"کون؟ کون ہے دروازے پر؟"
"میں ہوں گاؤں کا زمیندار صداقت۔ جلدی دروازہ کھول، بوڑھیا۔"
"ارے زمیندار صداقت ہمارے دروازے پر۔ صداقت میاں اندر آ جائیے۔ دروازہ کھلا ہے۔"
"اچھا تو میرے باغ سے کیلے اس بکری نے چرائے ہیں۔"
"ارے صداقت میاں، کیوں میری پیاری شکلا پر الزام لگاتے ہو؟"
"کم ظرف بوڑھیا، میں جانتا ہوں اس بکری نے چوری ضرور تیرے کہنے پر ہی کی ہوگی۔ تجھے شرم آنی چاہیے۔ اس عمر میں یہ سب کرتے ہوئے۔ پہلے تو تم دونوں گھر گھر بھیک مانگتی تھی اور اب چوری بھی شروع کر دی؟"
"صداقت میاں، میں ایک عزت دار عورت ہوں۔ یہ اور بات ہے کہ کبھی کبھی بھیک مانگ لیتی ہوں۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں چور ہوں۔ یہ غلطی میری بیٹی شکلا سے ہوئی ہے۔ ابھی بچی ہے۔ کیلے کھانے کو جی چاہا تو پتوں کے ساتھ کچھ کیلے بھی اٹھا لائی۔ میں تم سے معافی چاہتی ہوں اس کی اس حرکت کے لیے۔"
"چل بھائی چل شکلا۔ آج رات تو میں تیری ہی پلاؤ پکاؤں گا۔ تجھے چوری کی سزا بھی مل جائے گی اور میری بھوک بھی مٹ جائے گی۔"
"زمیندار صاحب، مجھے معاف کرو۔ یہ سب میں نے دادی بسو کے کہنے پر کیا تھا۔"
"ارے دادی، بتاتی کیوں نہیں زمیندار صاحب کو کہ سچ کیا ہے؟ کیوں مجھ غریب پر جھوٹا الزام لگا رہی ہو؟"
"تم نے ہی تو کہا تھا بیٹی شکلا، پتوں میں کچھ کیلے بھی لپیٹ کے لے آنا۔ بڑا من ہے کچھ میٹھا کھانے کا۔ اور ویسے بھی دادی، تمہارے دانت بھی نہیں ہیں۔ اس لیے تم نے نرم کیلے کی فرمائش کی۔ میں مجبور تھی، کیا کرتی؟ بس لے آئی۔"
"او رے شکلا، میری پیاری بیٹی، کیوں جھوٹ بول رہی ہو؟ تمہیں پتہ ہے نا جھوٹ بولنا کتنی بری بات ہے۔"
"اچھا تو یہ چوری اس بوڑھیا کے کہنے پر ہی ہوئی ہے۔ چل بھائی چل بسو، اب سے تو میرے گھر میں رہے گی اور میرے گھر کا سارا کام کرے گی۔ میں ویسے بھی اکیلا رہتا ہوں۔ میرے گھر کا کام بھی ہو جائے گا اور تجھے چوری کی سزا بھی مل جائے گی۔ بچا کچا کھانا بھی تجھے روز مل جایا کرے گا۔ مگر چھٹی کبھی نہیں ملے گی۔"
پھر کیا تھا؟ زمیندار صداقت دادی بسو کو اٹھا لے گیا اور شکلا بس دیکھتی ہی رہ گئی۔ دادی بسو اب صداقت میاں کے گھر کام کاج کرنے لگی۔ زمیندار سارا دن دادی سے خوب کام کرواتا اور ساری دن کی محنت کے بعد رات کو بچا کچا کھانے کو دیتا۔ الحمدللہ اور اپنی خوب خدمت بھی کرواتا تھا۔
آہا، ادھر شکلا گھر میں اکیلی کچھ کھانے کو ڈھونڈ رہی تھی۔
"ہم، اس میں بھی کچھ نہیں۔ جب سے دادی گئی ہے، میں تو بھوکی ہی مر گئی ہوں۔ اگر میں جھوٹ نہ بولتی تو زمیندار میری پلاؤ پکاتا۔ اس لیے میں نے دادی کا نام لیا۔ اب تو دادی کو واپس لانا ہی ہوگا۔ ویسے ایک بات تو سچ ہے۔ بوڑھیا کھانا بڑے مزے کا پکاتی تھی۔ میں آج ہی گاؤں کے حکیم دانہ کے پاس جاؤں گی۔ وہ ضرور میری مدد کریں گے۔ آخر دادی بسو ان کے بچپن کی ساتھی ہے۔"
پھر کیا تھا؟ شکلا گھومتی پھرتی حکیم دانہ کے گھر پہنچ گئی۔ حکیم دانہ دوائی بنانے میں مصروف تھے۔
"ہم، ارے اس وقت کون آ گیا؟"
"کون؟ کون ہے دروازے پر؟"
"حکیم صاحب، میں ہوں شکلا۔"
"آ جا بیٹی، اندر آ جا۔"
"السلام علیکم حکیم صاحب۔"
"و علیکم السلام۔ کیسے آنا ہوا میری بچی؟ طبیعت تو ٹھیک ہے نا تیری؟"
"جی اللہ کا شکر ہے۔ بس حکیم صاحب، کیا بتاؤں؟ دادی بسو چوری کرتی ہوئی پکڑی گئی ہے۔"
"ارے یہ کیا کہہ رہی ہو؟ بسو اور چوری؟"
"جی حکیم صاحب۔ آپ کو تو پتہ ہے دادی کو کیلے کھانے کا بڑا شوق ہے۔ بس اسی شوق میں غلطی کر بیٹھی اور پھر زمیندار دادی کو اٹھا لے گیا۔"
"ہائے افسوس۔ حکیم صاحب، دادی اپنی غلطی پر شرمندہ ہے۔ کیا آپ میری مدد کریں گے؟ تاکہ دادی کو زمیندار کے چنگل سے چھڑایا جا سکے۔"
"کیوں نہیں میری بچی؟ ضرور۔ میں بسو کے لیے کچھ بھی کروں گا۔ شاید تمہیں معلوم نہیں۔ بسو اور میں بچپن میں ایک ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ وہ خوبصورت دن آج بھی مجھے یاد ہیں۔"
"دانہ بسو۔" [ہنسی] "لو بیٹی شکلا، یہ دوا دادی بسو کو پلا دینا۔ یہ ہماری خاندانی دوا ہے جو کوئی اسے پیتا ہے، وہ کچھ دیر کے لیے خوبصورت اور جوان ہو جاتا ہے۔ مجھے یقین ہے بسو یہ دوا پی کر زمیندار سے اپنی جان ضرور چھڑا لے گی۔ مگر ہاں، ایک بات ضرور یاد رکھنا۔ اس دوا کا اثر بس کچھ ہی دیر کے لیے ہوگا۔"
شکلا خوشی خوشی دوا لے کر دادی کی طرف روانہ ہو گئی۔ پھر کیا تھا؟ دادی بسو نے جیسے ہی وہ نایاب دوا پی، ایک عجیب سی چمک کمرے میں پھیل گئی۔ پل بھر میں دادی کا جھریوں بھرا چہرہ چمک اٹھا اور وہ ایک خوبصورت جوان لڑکی میں تبدیل ہو گئی۔
"اچھا دادی، اب میں چلتی ہوں۔ تم یہاں بیٹھ کر زمیندار صاحب کا انتظار کرو۔"
"ٹھیک ہے شکلا۔"
کافی دیر ہو گئی تھی۔ زمیندار صاحب ابھی تک نہیں آئے۔
"ارے آپ کون ہیں اور میرے غریب خانے پر کیا کر رہی ہیں؟"
"جی میں دادی بسو کی طرف سے ایک رشتہ دار ہوں۔ میں نے سنا تھا کہ دادی آج کل آپ کے پاس کام کر رہی ہیں تو ان سے ملنے چلی آئی۔"
"آپ کی آواز تو بالکل بسو کی طرح ہے۔ دادی تو کچھ دیر پہلے یہیں تھیں۔ پتہ نہیں اب کہاں چلی گئیں۔ آپ چاہیں تو یہیں روک کر دادی کا انتظار کر لیں اور ہمیں اپنی خدمت کا موقع دیں۔"
"نہیں نہیں، میں اب چلتی ہوں۔ کافی دیر ہو چکی ہے۔ ویسے اگر آپ برا نہ مانیں تو میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔"
"جی جی ضرور کہیے۔"
"میں اتنے بڑے گھر میں اکیلا رہتا ہوں اور اب شادی کا خواہشمند ہوں۔ شاید آپ ہی وہ لڑکی ہیں جس کا مجھے انتظار تھا۔ کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی؟ میں انشاءاللہ آپ کو بہت خوش رکھوں گا۔ میں کیلے کے باغ کا مالک ہوں اور یہ شاندار گھر بھی میرا ہے۔ شادی کے بعد یہ سب کچھ آپ کا ہوگا۔"
"جی۔ آپ نے تو میرے دل کی بات کہہ دی۔ مجھے بھی آپ جیسے عزت دار آدمی کی تلاش تھی۔ میں آپ سے شادی کے لیے راضی ہوں۔ مگر میری ایک شرط ہے۔ آپ کو اپنا گھر اور کیلے کا باغ شادی سے پہلے میرے نام کرنا ہوگا۔"
"کیوں نہیں؟ ضرور۔ جیسے آپ کی خوشی۔"
پھر کیا تھا؟ زمیندار صداقت نے خوشی خوشی اپنا سارا مال و دولت، گھر اور کیلے کا باغ خوبصورت لڑکی کے نام کر دیا۔ دونوں کی شادی بڑی دھوم دھام سے ہوئی۔ مگر شادی کو کچھ ہی دیر گزری تھی کہ اچانک ایک روشنی چمکی اور خوبصورت لڑکی دیکھتے ہی دیکھتے اپنی اصل حالت میں واپس آ گئی۔ وہ کوئی اور نہیں بلکہ دادی بسو تھی۔
"ارے یہ کیا کم ظرف بوڑھیا، تو تجھے تو میں نے گھر کے کام کاج کے لیے رکھا تھا۔"
"ہاں زمیندار صاحب، یہ میں ہی ہوں۔ مگر کچھ بھی کہنے سننے سے پہلے یہ یاد رکھنا۔ اب تمہاری دولت اور یہ شاندار گھر میرے نام ہو چکے ہیں اور تم اب اس گھر میں میرے نوکر بن کر رہو گے۔"
"اتنا بڑا دھوکہ، بوڑھیا، یہ تو نے اچھا نہیں کیا میرے ساتھ۔"
"زمیندار، یہ تمہارے ظلم کی سزا ہے جو تم نے مجھ پر بے وجہ کیے۔ اگر اس گھر میں رہنا ہے تو اب تمہیں گھر کا سارا کام کرنا ہوگا۔ ورنہ نکل جاؤ میرے گھر سے۔"
پھر کیا تھا؟ زمیندار صداقت اب گھر کا سارا کام بڑی محنت سے کرتا۔ "ہائے میری کمر۔" زمیندار دادی کی بھی خوب خدمت کرتا۔ آ ہم، دادی بسو اور شکلا اس شاندار گھر میں بہت خوش تھیں۔ اب یہ دونوں اکثر کیلے کے باغ میں جاتیں اور مزیدار کیلے دل بھر کر کھاتیں۔ ہم، مزیدار ہیں۔