Transcription
ایک اہم اسٹوری جو ہے وہ آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔ نیب کی ایک رپورٹ آئی ہے۔ ایک حیران کن رپورٹ اور حیران کن انکشافات جو ہیں وہ اس رپورٹ میں دیکھے گئے ہیں۔ سابق ایڈیشنل سیکرٹری اور ان کی اہلیہ کے اثاثے جو ہیں وہ جائیدادیں ڈھونڈ نکالی ہیں نیب نے اور 65 کروڑ روپے کی جائیدادیں جو ہیں وہ بتایا جا رہا ہے۔ کن کن ممالک میں ہیں؟ کہاں کہاں ہیں؟ پاکستان میں کہاں کہاں جائیدادیں ہیں؟ اس حوالے سے اور کیا بیک گراؤنڈ ہے ان کا ایڈیشنل سیکرٹری کا؟ اس حوالے سے جو ہے وہ کلاس صاحب کے پاس کچھ ایکسکلوسیو ڈیٹیلز ہیں اور وہ ہم ان سے جانیں گے۔
خلاجہ صاحب کیا یہ معرکہ ہے؟ قریب میں ملک میں جو ہے وہ اتنی جائیدادیں مطلب کیا ہوا؟ کیا یہ آج آپ جب دفتر میں آئی ہیں تو آپ نے مجھے تھوڑا سا نا ڈپریس اور ڈاؤن دے دیا ان لائک مائی ٹریٹمنٹ۔ دو تین بھی ریزن تھی آج دن میں میں جو سٹینڈنگ کمیٹی تھی ایک اس کی اس پہ کلائمیٹک ہاں یہ چینجز کی رحمن صاحب کی وہ اٹینڈ کر کے آئے وہاں پہ سی ڈی اے کے چیئرمین صاحب آئے ہوئے تھے، انوائرمنٹ والے آئے ہوئے تھے، دلال چوہدری صاحب آئے ہوئے تھے۔ سینیٹر تو آئے ہی نہیں ہوئے تھے جنہوں نے ان کی گرلنگ اور اکاؤنٹیبلٹی کرنی تھی۔ ماس ایک دو لوگوں کے اور جس طرح وہاں مینج کیا گیا کمیٹی کو، کلائوڈ کے ذریعے سینیٹرز کو جس طرح یہ پاکستانی بیوروکریسی نے اور حکومت نے انہوں نے مینج کیا کہ اپ نے سی ڈی اے کو کچھ نہیں کہنا۔ ہم نے ہاں ہماری انکھوں کے سامنے ہوا ہے تو وہ اس نے مجھے تھوڑا ڈپریس کیا۔ وہ بتاؤں گا میں سارے اگلے اس میں۔ ساتھ میں ایک اور ہدایت نامہ جاری کروایا گیا جو پاکستانی رپورٹرز ہیں کہ اپ نے یہ درختوں کی جو سٹوریز ہیں ان کے حوالے سے کوئی نیگیٹو خبر نہیں دینی۔ یہ آج باقاعدہ یہ چینلز کے رپورٹرز کو یہ یس اندازہ کریں اب اس ملک میں درختوں کی سٹوری کرنا، ماحول کی سٹوری کرنا یہ اب نیشنل سیکورٹی بن گیا ہے۔ یہ خطرے والی بات ہوگی اور انڈیا میں آج ہی اپ نے وہ ٹویٹ دیکھا ہوگا کہ انہوں نے کہا کہ انڈیا کا جو سب سے بڑی تھریٹ ہے انڈیا کو وہ یہ پولوشن کی وجہ سے ہے۔ اکنامک گروتھ اپ کا کوئی ٹکے کا فائدہ بھی نہیں ہے۔ بہت بڑی وہاں پہ اج ڈیبیٹ چل رہی ہے۔ اور یہاں پہ اج رپورٹرز کو منع کیا گیا۔ اپ نے ٹی وی چینلز میں نہیں دیکھی ہوں گی اج خبریں کہ کمیٹی میں کیا ہوا ہے۔ سب کو میں نے پوچھا انہوں نے کہا میں نام کسی کا لینا کہ ہمیں منع کر دیا گیا ہے اور کیا اپ نے یہ خبریں نہیں دینی۔ یہ ذرا کلائوڈ دیکھیں اور سینیٹرز پہ دباؤ اور رپورٹرز پہ دباؤ کی گستاخی کر بیٹھے ہیں۔ سی ڈی اے چیئرمین جو ہیں 4000 درخت کاٹ ڈالا ان لوگوں نے اور وہ کہتے ہیں خبریں نہیں دینی۔ مطلب اج تو میں درختوں کی خبریں نہیں دے سکتے اپ۔ خیر میں آؤں گا اگلے سیگمنٹ میں ہمارے چینل کی مہربانی ہے دے آر وہاں کہہ نہیں جی بالکل دیں اپ وین ناٹ اٹ شوڈ گو آن ہیر۔ تھینک یو۔ اگلے سیگمنٹ میں ہم اپ کو ڈیٹیل دیں گے ٹو آور چینل مینجمنٹ اتنے سارے دباؤ بڑے بڑے چینلز ہیں جن کو منع کیا گیا ہے۔
خیر نو کمنگ اس پہ اتے ہیں ذرا۔ ایک تو یہ ڈپریشن کی وجہ تھی۔ اوپر سے جناب یہ میں نے کوئی 202 پیجز کی انکوائری رپورٹ پڑھی ہے۔ میں نے پڑھی ہے۔ عمران مکرانہ صاحب ہمارا رپورٹر ہے۔ انہوں نے بیٹھ کے میرے ساتھ ہیڈرز بھی بنائے ہیں۔ اس نے مجھے مزید کچھ ڈپریس کیا۔ صحیح کسر تھی۔ تو ابھی اورنگزیب صاحب جو ہیں فنانس منسٹر ان کا ایک نا بیان ایا۔ ہم انہوں نے کہا جناب اگر اگر ذرا غور کریں اگر یہ قرضے جو ہیں ان کو پراپر طریقے سے استعمال کیا جائے تو ان کا فائدہ ہے۔ ہم اب اگر میں میں رک گیا۔ اگر کا مطلب کیا ہے کہ نہیں ہو رہے۔ اچھا وہ وہ پھر قرضے جا کدھر رہے ہیں؟ اس کے ساتھ اب اپ اس کو ملا کے پڑھیں۔ مزید مجھے جب اس پہ اس ڈپریشن ہوا جو خواجہ آصف صاحب نے کہا تھا کہ پاکستانی بیوروکریٹ جو ہیں پرتگال میں جائیدادیں خریدیں۔ اپ ان تینوں چاروں چیزوں کو ملا لیں۔ اور جائیدادیں خریدنے کے لیے جب باہر سے لون آتا ہے پھر ڈویلپمنٹ ورک ہوتا ہے جو سی ڈی اے کر رہا ہے باقی بھی ملک میں ہوتا ہے۔ اور اپ کو یاد ہوگا شاید خاقان صاحب نے کہا تھا ڈویلپمنٹ ورک 30% کمیشن کھایا جاتا ہے۔ مٹھا صاحب نے کہا تھا 575 ارب جو پارلیمنٹیرینز کو دیا گیا میں نہیں کہتا سب لیتے ہوں گے۔ اچھے لوگ بھی ہوں گے۔ 165 ارب اپ کو ترقیاتی فنڈ میں سے تو اس میں جا رہا ہے اپ کا کمیشن کھایا جا رہا ہے۔ بیوروکریسی ہے یا پارلیمنٹیرین جو بھی ہیں۔ اس میں ہمیں کوئی ثبوت چاہیے تھا۔ کہ خواجہ صاحب نے تو جنرل بات کی تھی کہ اپ کے پرتگال میں جائیدادیں لی جا رہی ہیں۔ تو میں لوگ سمجھتے ہوں گے خواجہ صاحب غصے میں تھے کہہ دیا ہوگا۔ تو یہ ساری چیزیں یہ میرے پاس ایک ڈاکومنٹڈ ایک رپورٹ ہے نیب کی رپورٹ ہے اور بڑی خوفناک اور بڑی محنت کی ہے نیب نے۔ ائی مسٹ سے لیکن نیب سے مجھے شکایات ہیں۔ یہ 2020 کے بعد سے یہ انویسٹیگیشن چل رہی ہے۔ چھ سال ہو گئے ابھی تک کنکلوژن نہیں ہوا۔ اچھا چھ سال سے چھ سال سے چل رہی ہیں چیزیں۔ اور یہ جو صاحب ہیں یہ یہ 1990 میں یہ ڈی ایم جی میں آئے تھے۔ اسسٹنٹ کمشنر کے طور پر 31 سال میں سروس کی۔ 2021 میں ریٹائر ہوئے۔ ریٹائرمنٹ پہ ان کی ٹوٹل جو تنخواہ ملی ان کو 3 کروڑ 20 لاکھ۔ ان تمام سالوں میں اور جائیداد جو نکلی ہے نا یہاں پہ دبئی میں، لندن میں، پاکستان میں درجنوں ان کی کم سے کم مالیت رکھ کے 65 کروڑ 65 کروڑ۔ ایک بیوروکریٹ یہاں سے نوشہرہ سے اٹھا ہے گاؤں سے میرے جیسا دیہاتی۔ ڈاکٹر بنا۔ ڈاکٹر کے بعد اس نے کہا یار مزہ نہیں آ رہا اس میں تو کوئی اچھا یہ ڈاکٹر ہیں یہ ڈاکٹر صاحب ہیں باقاعدہ ماشاءاللہ ڈاکٹر ہیں۔ اس چیز کے بھی ڈاکٹر ہو گئے ہیں کہ منی لانڈرنگ بھی ہے ان کو بڑے سیریس مطلب کیسے کرنا اس چیز کے بھی ڈاکٹریٹ کیا ہے انہوں نے ادھر بھی کی ہے ادھر بھی کی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے سی ایس ایس کیا جناب۔ صحیح سی ایس ایس کے بعد یہ جن جن عہدوں پہ رہے وہ عہدے ذرا سننے والے ہیں۔ ایسے جو خواجہ صاحب کے یہ بیسکلی میں خواجہ صاحب کے لیے کام کر رہا ہوں کہ خواجہ صاحب جب اگلی دفعہ وہ کوئی بات کریں تو ان کے پاس ثبوت ہونا چاہیے کہ ہمارا بیوروکریٹ انہوں نے پرتگال کا کہا ہے ہم دبئی اور مانچسٹر۔ مانچسٹر اب ذرا پڑھ لیں۔ ذرا اپ کے پاس کچھ ڈیٹیل ہے۔ لیور پول۔ جی ہاں پہلے ذرا میں عہدے بتا دوں ذرا اس پہ ذرا یہ عوام ذرا صبر کر سر دل تھام کے ذرا سنیں کہ اپ کے قرضے کدھر جا رہے ہیں۔ ڈویلپمنٹ جو کراتا ہے بیوروکریٹ اس کا پیسہ کدھر جاتا ہے کہاں لینڈ کرتا ہے۔ منی لانڈرنگ کیسے ہوتی ہے۔ مطلب سینکڑوں یہاں پہ کئی 100 تولے یا سونا کیسے لیے جاتے ہیں۔ پوری ایف 7 کی مارکیٹ خرید لی گئی ہے۔ یہاں پہ اپ کے یہ سلور اوکس میں کیسے فلیٹس لیے جاتے ہیں۔ سینٹورس میں کیسے لے لیے گئے ہیں۔ اسلام آباد میں گھر کیسے لے لیے گئے ہیں۔ اچھا پھر یہاں سے پھر بینک اکاؤنٹس ہیں یا 44 بینک اکاؤنٹس ہیں۔ پھر دبئی پیسے کیسے گئے۔ پھر اس بچے ان کے اس وقت ماشاءاللہ باہر ہیں۔ میں تو حیران ہوں۔ اتنی پڑھتی پڑھتی ڈیٹیل میرا سانس وہ ڈوب گیا۔ اور مجھے چار پانچ دفعہ پانی پینا پڑا۔ جو جائیداد کی تفصیلات میں نے پڑھی ہیں۔ مطلب اتنی اس کی اس کی لتھ کا ایک ایک افسانہ ہے۔ کہ ہاؤ مچ لینڈ ڈز ا مین نیڈ؟ ایک انسان کو کتنی زمین چاہیے۔ تو آخر پہ جو افسانے کا اینڈ ہوتا ہے۔ بڑی خوبصورت سٹوری ہے۔ میں نے اس کو اردو میں ٹرانسلیٹ کیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ آخر پہ اپ کو 6 فٹ اوپر نہیں سوری 6 فٹ نیچے اور 6 فٹ چوڑی زمین چاہیے جس کے لیے اپ بھاگتے پھرتے ہیں۔ کتنی جائیداد چاہیے؟ نہیں میں تو پڑھ پڑھ کے پورا اسلام آباد خریدا ہوا ہے۔ تقریبا وہ لندن کی وہ لیور پول اور مانچسٹر کی اپ بتائیں گے ابھی اپ بتائیں گے۔ ایسے جہاں پہ باقی چیزیں میں ذرا ان کا بتا دوں یہ کہاں سے شروع ہوئے۔ یہ جناب یہ اسسٹنٹ کمشنر وہاں سے اٹک لگے۔ پھر اس کے بعد فتح جنگ رہے۔ پھر یہ اسسٹ جہاں سے فورچون ان کی بدلی یہ اسسٹنٹ یا پولیٹیکل ایجنٹ رہے۔ یہاں پہ لوئر جو محمود ہے وہاں پہ رہے۔ پھر اس کے بعد پروموشن ہو گیا۔ 18ویں گریڈ یہ گریڈ میں پھر اس کے بعد پی این ڈی میں چلے گئے۔ پشاور میں پھر وہاں پہ اس کے بعد جناب یہ ڈپٹی کمشنر دیر بھی لگے۔ یہ ڈپٹی کمشنر دیر بھی رہے۔ پھر پولیٹیکل یہ ایجنٹ لگ گئے۔ میر شاہ نارتھ وزیرستان میں لگ گئے۔ پھر اس کے بعد یہ ڈی جی یہ کمیونٹی انفراسٹرکچر لگ گئے۔ پولیٹیکل ایجنٹ یہ اوگزئی جو ایجنسی ہے وہاں پہ اپ پولیٹیکل ایجنٹ انگریز دور کا دیا پولیٹیکل ایجنسی کی یہ ایجنٹ کی دہشت سے نا اپ شاید واقف نہیں ہے۔ جو نئی نسل ہے۔ اب تو ختم کر دیا ایجنسیاں ختم ہو گئیں۔ یہ بہت بڑی مطلب پوسٹ ہوتی ہے۔ بہت بڑی پیسے والی پوسٹ ہے۔ پاور فل پوسٹ ہے۔ اس پہ باقاعدہ بیڈنگ ہوتی تھی۔ یہ عام چیز نہیں ہے۔ یہ ایسے یہ لندن دبئی پاکستان میں جائیداد دے 65 کروڑ 65 کروڑ تو وہ منیمم پہ رکھا ہوا ہے۔ اچھا سنتے ہیں۔ اس کے بعد پولیٹیکل ایجنٹ یا اس میں کرم ایجنسی لگے۔ پھر ایڈیشنل سیکرٹری پی این ڈی فاٹا لگے۔ پھر پولیٹیکل ایجنٹ خیبر ایجنسی لگے۔ پھر جناب سیکرٹری ہیلتھ پشاور لگے۔ پھر سیکرٹری ہاؤسنگ وہاں پہ کے پی کے میں لگے۔ جوائنٹ سیکرٹری منسٹری آف کامرس رہے۔ ایڈیشنل سیکرٹری منسٹری اپ کا اپ کا پریزیڈنٹ سیکرٹریٹ میں بھی رہے۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری آف فاٹا بھی رہے۔ ہم اس کے بعد جناب ڈی جی یہ سیپک بھی رہے۔ اچھا جب پوسٹنگ دیکھتے ہیں نا پھر اس کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ڈویلپمنٹ اینڈ پلاننگ یہ سارے مظفر آباد بھی رہے۔ مظفر آباد میں کشمیر والے بھی ان کے دانتوں تلے ہیں۔ ڈی جی نیشنل کمیشن فار ہیومن یہ ڈویلپمنٹ رہے۔ ایڈیشنل سیکرٹری کمیونیکیشن ڈویژن رہے۔ اور پھر یہ ریٹائر ہو گئے ہیں جناب 2021 میں۔ یہ ان کا ٹوٹل ہے اور اس کی جو انہوں نے کیلکولیشن کی ہے وہ تنخواہ جو بنی ہے 3 کروڑ 20 لاکھ۔ اب جو جائیداد نکلی ہے ان کی وہ انہوں نے ٹوٹل جو ہے ان کے پاس وہ جو جائیداد نکلی ہے مطلب فیملی کی بھی تھی کچھ 76 کنال زمین تھی کہیں پہ کچھ تھا کوئی سونا 200 تولہ۔ چلو ہمارے یہاں یہ سونا وغیرہ تو اس میں اس میں کیا جاتا ہے۔ یہ اب ان کی جو اس میں ڈیٹیل مطلب ایگری انکم ان کی تھی ایک کوئی 1 کروڑ 70 کوئی لاکھ کے قریب تھی۔ اور پلس انہیریٹڈ وہ پراپرٹی ایگریکلچر لیکن اتنی کچھ زیادہ نہیں۔ پھر اس کے بعد اچھا پراپرٹی جو انہوں نے خریدی ہیں ہم اپنی بھی خریدی اور سروس کے درمیان ہی خرید رہے تھے۔ ساری چیزیں اس میں مزے کی چیز ہے۔ اور 2015 کے تک ان کی بیوی کے پاس کوئی بیرون ملک جائیداد نہیں تھی۔ ان کے مسز بھی ایکوز ہیں ویسے اس کیس میں منی لانڈرنگ میں ان میں بھی الزامات ہیں۔ ان کے نام پہ بھی خریدی گئی ہے۔ اور بے نامی اور بے نامی بھی خریدی گئی ہے۔ رشتہ داروں کے بھائیوں کے نام پہ ان کے بیگمات کے نام پہ ان کو بھی نیب نے نوٹس وغیرہ کیے ہوئے ہیں۔ اچھا ان کے نام پہ بھی خرید ان کے نام پہ بھی خرید۔ اچھا ان کو خرید کے دی گئی کہ کچھ عرصے بعد انہوں نے تیسرے بندے کو انہوں نے دے دی جو اپنے ہی بندہ تیسرے نے ان کو دے دی۔ سو اس طریقے کا بھی چکر چلایا گیا ہے۔ اب اس میں انہوں نے جو کام کیا وہ دیکھنے والا ہے۔ جو ان کی انہوں نے اپنی بیگم صاحبہ کی انہوں نے خریدی ہے۔ پاکستان میں خریدی ہے جو انہوں نے سلور اوک میں خریدا ہے جناب ایک اپارٹمنٹ لیا۔ پھر انہوں نے جناب اپ کو سیکٹر یہ بیریا انکلیو ہے وہاں پہ انہوں نے پلاٹ خریدا ہے۔ پھر انہوں نے گھر خریدا ہے جناب۔ ایف 74 میں خریدا ہے جناب۔ یہ 2011 میں خریدا ہے۔ پھر اس کے بعد انہوں نے دکانیں لی ہیں۔ ایک دکانیں لی ہیں انہوں نے۔ تین چار پانچ چھ دکانیں ہیں۔ یہ انہوں نے ایف 7 میں لی ہیں جناب۔ ایف 7 میں لیے۔ نیب کہتا ہے انہوں نے ٹوٹل قیمتیں کم بتائی ہیں۔ یہ ساری کی ساری اچھا 16 کروڑ مالیت کی دکانیں کہا جاتا ہے۔ اچھا وہ بتا رہا ہے لیکن اس سے وہ زیادہ بتا رہے ہیں کہ جناب کہ اس وقت انہوں نے نہیں کی۔ اچھا یہ تو پاکستان کے اندر ہیں۔ مزے کے اگے چلے۔ پاکستان سے باہر کہاں کہاں پہ ہیں۔ اس کے بعد ایک فلیٹ ان کا جناب یو اے ای میں ہے۔ دبئی میں ہے۔ پھر اس کے بعد ان کا مانچسٹر میں ہے۔ پھر ان کا اس میں چلے جائیں۔ اپ لٹن جو ہے یو کے میں وہاں پہ اس چیپل سٹریٹ ہے وہاں پہ لیا ہے۔ کوئز لینڈ پیلس ہے وہاں پہ لیا ہے۔ یہ اس میں لیور پول۔ انہوں نے جو اپ کہہ رہی پسند آ گیا۔ پھر اپارٹمنٹ لیا ہے جناب اپنے لیور پول میں اور پھر اپارٹمنٹ لیا ہے لیور پول میں ایک اور پھر انہوں نے جناب کوئی انفینٹی یا لیور پول یو کے جو ہے نا وہاں پہ لیا ہے اور اس کا پتہ چلا ہے کہ 12 کروڑ کے انہوں نے وہاں پہ وہ کیا ہے۔ یہ تو ان کے یہ ہو گئے۔ پھر اس کے بعد ان کے جناب موویبل ایسٹ جو تھے 200 تولہ سونا تھا 150 تولہ اور تھا۔ مرسڈیز گاڑیاں۔ انویسٹمنٹ پرائز پرائز بانڈ یہ پرائز بانڈز ہو گئے۔ بینک بیلنس یو کے بینک میں وہاں پہ تقریبا 2 کروڑ 63 لاکھ کا وہاں پڑا ہوا ہے۔ پاکستان میں تقریبا 12 کروڑ کا یہ 12 کروڑ کا بنتا ہے۔ کیش ان ہینڈز اینڈ ڈپازٹ پاکستان کروڑ کا۔ تین چھ تین۔ ہاں 12 کروڑ کا پاکستانی بینکوں میں پڑا ہوا ہے۔ یہ اپ کا گریڈ 21 کا افسر ہے۔ ہم یہ قوم کو گریڈ 21 کا افسر ہے۔ یہ دیکھتے ہیں ذرا چلتے ہیں آگے چلتے ہیں۔ پھر انہوں نے جناب اس کے بعد کوئی پراپرٹیز بیچی بھی ہیں۔ یہ نہیں ہے کہ انہوں نے نہیں کی۔ انہوں نے پراپرٹی بیچی بھی ہے۔ جناب اور موسٹلی جو باہر جائیدادیں لی بیگم کے نام پہ 2015 تک ان کے نام پہ کوئی چیز نہیں تھی۔ ہاں بیرون ملک سارے ان کے لیے ہیں۔ اچھا ان کی بیگم صاحبہ جو ہیں وہ خود ایک گھریلو خاتون ہیں۔ انہوں نے وہ نہیں کیا۔ کوئی ہوتا ہے نا چلو ان کی اپنی کوئی انکم ہوتی ہے۔ کوئی چیزیں ہوتی ہیں وہ بھی نہیں۔ سو ان سے پوچھا گیا کہ بھائی اپ نے کہاں سے خریدی گئی ہے۔ تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ انہی کے پاس تھا کہ ہسبینڈ صاحب جو ہیں یہ پیسے دے رہے تھے۔ یہ فنڈ کر رہے تھے۔ تو یہ جناب اس کے بعد اپ آگے چلیں۔ اللہ اپ کا بھلا کرے۔ جبکہ ان کی ملازمت میں کلاس صاحب 3 کروڑ 20 لاکھ تنخواہ ٹوٹل تنخواہ۔ یہ دیکھیں یہاں پہ وارداتیں دیکھیں۔ جو ڈی ایم جی کے میں سب نہیں کہہ رہا اچھے لوگ ایماندار بھی ہیں۔ اپ کو سمجھ انی چاہیے کہ ترقیاتی کاموں یہ کاموں میں دلچسپی بیوروکریٹ کو وزیر کو کیوں ہوتی ہے۔ اور بھائی اپ یہ کریں گے تو وہاں سے کمیشن آتے ہیں پیسے آتے ہیں۔ یہ تو خیر اور چیزوں میں کیونکہ پولیٹیکل ایجنٹ تھے اور بھی بڑی بڑی پوسٹیں تھیں۔ میں جنرل بات جن کے خواجہ آصف صاحب کہتے ہیں۔ ایک اور ان کی ان کی اس میں مزے کی بات جو ہے جو اس کی پراپرٹیز ان کے ان کے بتا رہے تھے۔ میں ایک اور چیز دیکھ رہا تھا۔ انہوں نے ہاں یہ جو یہ صاحب ہیں ہم انہوں نے کوئی ٹوٹل بیرون ملک 29 فارن وزٹ کیے ہیں۔ بیگم صاحبہ نے 19 کی کی ہیں۔ اچھا انہوں نے ان کی ڈیٹیل بنائی ہے۔ اس میں کہاں کہاں ٹوکیو گئے ہیں؟ بینکاک گئے، استنبول گئے، ابوظہبی گئے ہیں، دوحہ گئے ہیں، جدہ گئے ہیں۔ یو کے، فرانس، عمان، یو ایس اے، آذربائیجان، ملائیشیا۔ یہ کب سے ہیں؟ 2005 سے 2019 میں 14 سالوں میں یہ یہ ان کے وزٹ ہیں۔ اور پھر اس کے بعد ان سے پوچھا گیا کہ جناب اپ کی جو تنخواہ اور جو وسائل ہیں وہ اس کو سپورٹ ہی نہیں کرتے۔ اپ کیسے لے سکتے ہیں؟ تو جناب اپ نے اتنے سارے کیے ہیں۔ پھر اس کے بعد ان کے یہ فارن کرنسی اکاؤنٹ ہیں۔ جو ان کے فارن کرنسی اکاؤنٹ ہیں وہ کوئی $6,000 کا ایک ٹرانسفر ہے اور لمبی اس کی اس کی ڈیٹیل ہے۔ تو اس میں انہوں نے ان سے پوچھا ہے کہ اپ نے انہوں نے کہا جناب کہ ہمیں رینٹ آ رہا تھا۔ یا یہ دکانیں وغیرہ جو لی تھیں پہلے انہوں نے پوچھا دکانیں کہاں سے لی ہیں۔ پہلے تو جسٹیفائی کریں جن کا رینٹ اپ کو آ رہا تھا۔ چلو مان لیا پیسے اپ کا جینون ہے۔ یہاں سے۔ والی جائیداد جو اپ نے خریدی ہے یہ سات اٹھ جو بتائی ہیں دبئی مانچسٹر اور اس میں لیور پول میں یہ پیسہ اپ نے باہر کیسے بھیجا ہے؟ ان کے پاس اس بات کا کوئی سو منی لانڈرنگ کا بھی ان پہ ان کا یہ ہے۔ اور پھر ان کو بلایا گیا۔ انہوں نے جا کے جو کام کیا ہے وہ مزے کی چیز ہے۔ انہوں نے وہاں پہ وہ لے لیا۔ عدالت چلے گئے۔ جب ان کو نیب نے بلایا تو یہ عدالت چلے گئے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ چلے گئے۔ اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے جناب ان کو نیب کو ہدایت دی کہ اپ جو ہے کیونکہ انکوائری سے انویسٹیگیشن میں ٹرن کرنا تھا تو فالونگ انہوں نے 8-10 چیزیں بتائی کہ اپ نے یہ پورا یہ پروسیس پورا نہیں کیا۔ یہ کریں مطلب ان کے سروس ریکارڈ سے لے کہ ان کے فیملی کے اس سے کہ ہو سکتا ہے کہ سروس ریکارڈ میں پیسے ہو فیملی کے ہو یا باقی چیزیں۔ سو پورا انہوں نے پچھلے 30 سالوں کا انہوں نے کہا جی ڈیٹا نکال کے لائیں۔ سے ڈیٹا نکال کے لائیں۔ ایف بی آر سے، سی ڈی اے سے، یا ہاؤسنگ سوسائٹی سے، بینکوں سے ہر جگہ سے۔ سو پورا ڈیٹا مکمل کرنے کے بعد انہوں نے دوبارہ رپورٹ جو ہے وہ ہائی کورٹ میں جمع کروائی۔ وہاں پہ یہ ہائی کورٹ سے جا کے سپریم کورٹ چلے گئے۔ چلے گئے۔ ہاں ہاں۔ اتنا پیسہ ہے بھائی اتنا اس میں لاٹ از ایٹ سٹیک۔ وہاں پہ چلے گئے۔ تو سپریم کورٹ نے اس کے بعد نیب کو اب نوٹس کر دیا ہے کہ جناب اپ آئیں اور اس کا جواب دیں یہ کیسے کیا ہے۔ صحیح وہاں پہ۔ سو نیب جائے گا جواب دے گا۔ لیکن وہی والی بات چھ سال اسے پروسیس چل رہا ہے۔ اور وہ بندہ ریٹائرمنٹ کے بعد جو ہے یہ سارا کچھ وہاں پہ لے گیا۔ اچھا میری نا نیب سے بات ہوئی۔ صحیح اچھا میں نے کہا جناب اپ ذرا بتائیں کہ یہ اس میں لمبی ڈیٹیل میں لوگوں کو میں نے مطلب جنرلی بتا دیا ہے اور بھی بہت کچھ ہے۔ کہ کیسے اس نے وہ ساری دکان نیب نیب نیب کا کیا موقع تھا؟ ہاں نیب کا موقع بھی یہ تھا انہوں نے کنفرم کیا۔ ہمم اچھا انہوں نے کہا یس ہم ان کو انکوائری ہوئی تھی پہلے۔ ہم نے ان کو بھی بلایا تھا۔ پھر اس کو انویسٹیگیشن میں ٹرن کیا۔ ہائی کورٹ نے ہمیں بلایا تھا۔ ہائی کورٹ میں ہم گئے۔ وہاں پہ ہم نے جیسے ہمیں عدالت نے کہا تھا ویسے ہم نے ریائز رپورٹ اس کی لائٹ میں بنا کے دی۔ سارے ایویڈنس دیے۔ پھر اس کے بعد وہ کہتے ہیں جناب اگرچہ ان کو آدھا ریلیف اس نے دیا تھا ہائی کورٹ نے۔ اس کے بھی اگینسٹ گئے۔ ہیں سپریم کورٹ سے لیا۔ اب وہ کہتے ہیں ہمیں نوٹس وہاں سے آیا ہوا ہے۔ اس سپریم کورٹ سے آیا ہوا ہے۔ ہم جائیں گے اور اس کو وہ بھی خارج کروائیں گے۔ تو میں نے ان سے پوچھا کہ ان کا پوائنٹ آف ویو کیوں؟ کیونکہ ان کو میں نام اس لیے نہیں بتا رہا۔ بہت سارے لوگ کہیں گے نام نہیں بتا رہا کہ میں نے ان کو میسج کیا ہوا ہے۔ میں نے ان کو کال بھی کی ہے۔ میں نے ان کو میسج بھی کیا ہے۔ میں چاہتا ہوں بہت بڑا سکینڈل ہے۔ بہت بڑی سٹوری ہے۔ اور کیس سٹڈی ہے پاکستان میں بیوروکریٹ کیا کچھ کرتے ہیں۔ تو میں نے یہ چاہا ان کا موقف آ جائے۔ ایک دفعہ آ جائے۔ اگرچہ یہ ساری چیزیں یہ عدالت کے ریکارڈ پہ موجود ہے۔ ہم ویسے کہہ سکتے ہیں لیکن میں اس لیے نہیں کہہ رہا تاکہ ان کا موقف لے کے پھر کروں۔ تو انہوں نے مجھے جواب بھی نہیں دیا۔ میری ٹیلی فون کال بھی اٹینڈ نہیں کی۔ ائی ول ویٹ۔ ہم منڈے والے دن تک ان کو ائی ہوپ کہ ان کا جواب آ جاتا ہے۔ ہم پھر بات کریں گے اس پہ۔ تو انہوں نے کہا جناب کہ یہ انہوں نے اپنی پوزیشن یہ ہے کہ انہوں نے کنفرم کی ہے۔ منی لانڈرنگ کو وہ کنفرم کر رہے ہیں کہ ہمارے پاس ان کے منی لانڈرنگ کے ثبوت ہیں۔ اس میں بھی ان کو میرا خیال ہے بک کیا جا سکتا ہے۔ اور ان کو سپریم کورٹ نے روکا ہوا ہے فی الحال کہ اپ نے ابھی ان کو کچھ نہیں کہنا۔ تو نیب جائے گا نیب کہتا ہے ہم جائیں گے اور اپنے وکیلوں کے ذریعے ساری چیزیں پیش کریں گے اور سٹیج جو ہے خارج کروائیں گے۔ سو میں نے پوچھا اپ کو کیا بتایا انہوں نے؟ چلو مجھے نہیں وہ اپنا پوائنٹ آف ویو دے رہے۔ نیب کو تو کچھ بتایا ہوگا انہوں نے۔ ان کا یہ کہنا تھا انہوں نے نیب کو ایک ہی بتایا۔ ایک تو اپنے گوشوارے بھیج دیے تھے جس میں انہوں نے گوشواروں کو ایف بی آر سے ان کا ایک ایکسپرٹ آئے تھے جنہوں نے بیٹھ کے سارا دیکھا گوشوارے سارے۔ ان کا خیال ہے غلط ہے۔ کئی دفعہ ان کو چینج کیا گیا ہے۔ مسز کے گوشوارے ان کے گوشوارے ان کو انڈر ویلیویشن کی گئی لہذا گوشواروں پہ انہوں نے ہم نہیں مانتے کہ ڈکلیئر کرنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اپ سے پوچھا نہیں جا سکتا۔ سو یہ سورسز بتائیں ہمیں اپ سورسز نہیں بتا رہے۔ ایک تو چیز دوسرا ان کا یہ کہنا تھا کہ انہوں نے ایک ہی پلی لی ہے کہ کہ نیب کے قوانین کے تحت اب 50 کروڑ سے نیچے والی انکوائری نیب ٹیک اپ نہیں کر سکتا۔ جو انہوں نے جہاں زرداری صاحب ان کی تھی اپنے دیتے بھی چمک گئی ہے۔ بیوروکریسی نے کہا انہوں نے کہا کہ میرے جو ایسٹ اپ دے رہے ہیں میرے بنتے ہیں۔ انہوں نے جو اس میں ظاہر کیے ہوتے اس نے خود اپنے وہ میرے 45 یا 40 کروڑ کے قریب اس نے خود کیے۔ اس نے کہا 50 کروڑ تو نہیں ہے۔ تو اگر 50 ہوتا پھر انہوں نے جناب دوبارہ جیسے منی لانڈرنگ چیزیں کر کے اب وہ کہہ رہے ہیں 65 کروڑ 65 کروڑ ہے۔ ہاں 65 کروڑ ہے۔ اپ ساری جو بتائی وہ لیکن کہہ رہے تھے کہ اپ مجھے نہیں پوچھ سکتے۔ کیونکہ 50 سے نیچے ہیں۔ اپ نیچے ہیں کیونکہ نیب کا قانون بدل گیا۔ مطلب لوٹ مچ ہے۔ 50 سے نیچے جو بھی جو ہے نا اپ لوٹ لیں۔ ایک بیوروکریٹ یہ کیسا لایا ہے کہ ایک بیوروکریٹ نے بے نامی پہ بنائی ہے۔ جائیداد میں جائیداد نہیں سوری اپ کے دبئی میں بنائی ہے۔ پھر اپ کے لندن یو کے میں بنائی ہے۔ پاکستان میں وہ مارکیٹیں خرید لی ہیں۔ گھر خرید لی ہیں۔ دکانیں خرید لی ہیں۔ فلیٹس خرید لی ہیں۔ اور بینک بیلنس میں 12 14 کروڑ ایک گریڈ 21 کے افسر کے اس میں پڑا ہوا ہے۔ وہ جا کے کہتا ہے نیب کو کہ بھائی صاحب اپ مجھ سے پوچھ نہیں سکتے اپ لمٹ سے نیچے ہیں۔ کیونکہ قانون تو کسی اور کے لیے بنا تھا۔ بیوروکریٹس کی عیاشی لگی ہے۔ اب سب سے زیادہ جو ہے اپ خواجہ آصف کی بات کو سامنے رکھیں کہ جناب پرتگال میں لے لیں۔ اور اگر والے صاحب جو ہیں فنانس منسٹر کے اپ کا یا لون کدھر جا رہا ہے پیسہ کدھر جا رہا ہے۔ اور ڈویلپمنٹ کیوں ہوتی ہے۔ حمزہ شہباز نے ایک دفعہ نہیں کہا تھا وہ اس سکول گئے تھے بچے ان بچوں کو بیٹا جہاں پہ یہ ہوتی ہے ڈویلپمنٹ ہوتی ہے۔ جمہوریت ہوتی ہے۔ کرپشن ہوتی ہے۔ وہ بیچارہ ٹھیک کہہ رہا تھا۔ ہم اس سے ناراض ہو گئے۔ یہ دیکھ لیں ڈویلپمنٹ ہو رہی ہے۔ پیسہ آ رہا ہے۔ قرضہ آ رہا ہے۔ اور جہاں سڑکیں بن رہی ہیں اوور فلائی بن رہے ہیں۔ یہاں پہ جناب چیزیں ہو رہی ہیں۔ تو پیسہ تو انہی میں سے نکلتا ہے سارے کا سارا۔ تو جناب یہ صرف آج اپ کو ٹریلر دیا ہے۔ لا ٹو بہت لمبی رپورٹ۔