📱

Get Our Mobile App

Take your business learning on the go!

Download on the App StoreGet it on Google Play

Allah Ki Nemat Aur Sabr Ka Inaam Jisne Taqdeer Badal Di | Islamic Moral Story #hindistory |

Mr. MR Voice 53:30

Transcription

صدियों پرانی بات ہے جب ہندوستان کی سر زمین پر بادشاہتوں اور ریاستوں کا دور ہوا کرتا تھا۔ اسی دور میں فدا نور نام کی ایک سلطنت ہوا کرتی تھی۔ جہاں کا بادشاہ سلطان اعظم علی خان ایک ایسا حکمران تھا جس کی تلوار کی کاٹ اور عقل کی دھاک سے بڑے بڑے دشمن تھراتے تھے۔ اس کی سلطنت میں ندیاں سونا اگلتی تھیں اور کھیت کھلیان اناج سے لدے رہتے مگر سلطان اعظم علی خان کے مزاج میں ایک بہت بڑی خامی تھی اور وہ تھا اس کا تکبر یعنی گھمنڈ۔ اسے لگتا تھا کہ اس کی رعایا کی خوشحالی، اس کے وزیروں کی عقل اور اس کی بیٹی کی شاندار زندگی صرف اور صرف اس کی وجہ سے ہے۔ اسے یہ وہم ہو گیا تھا کہ وہ رازق ہے۔ یعنی روزی دینے والا وہی ہے۔ سلطان کی ایک ہی اولاد تھی شہزادی زینب جو نہ صرف خوبصورتی میں چودھویں کے چاند کو شرمندہ کرتی تھی بلکہ اس کی روحانیت اور اللہ پر اس کا توکل بے مثال تھا۔ جہاں سلطان اپنی طاقت پر ناز کرتا۔ وہیں زینب اپنی پیشانی سجدے میں جھکا کر ہر نعمت کا شکر اپنے پروردگار کو ادا کرتی۔ زینب کے محل میں ہر وقت قرآن کی تلاوت اور اللہ کے ذکر کی گونج رہتی تھی۔ اس کی صحبت میں بیٹھنے والی کنیزیں بھی با ادب اور دیندار تھیں۔

ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ سلطنت میں موسم بہار کا جشن منایا جا رہا تھا۔ پورا شہر دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔ محلوں کی دیواروں پر ریشمی پردے لٹکائے گئے تھے اور فضا میں عطر اور گلاب کی خوشبو بسی ہوئی تھی۔ سلطان اعظم علی خان اپنے عالیشان تخت طاؤس پر بیٹھا تھا۔ جس کے پائے سونے کے تھے اور اس پر ہیرے جواہرات جڑے تھے۔ دربار میں بڑے بڑے وزراء، امراء، سپہ سالار اور پڑوسی ملکوں کے سفیر موجود تھے۔ ہر کوئی سلطان کی تعریف میں قصیدے پڑھ رہا تھا۔ "ظل الہی کی وجہ سے آج ہماری تھالیوں میں کھانا ہے"۔ ایک خوشامد وزیر نے جھک کر کہا۔ "اگر حضور نہ ہوتے، تو یہ سلطنت بنجر ہو جاتی"۔ سلطان نے اپنی مونچھوں پر تاؤ دیتے ہوئے ایک مغرور مسکان کے ساتھ دربار کی طرف دیکھا اور پھر اس کی نظر اپنی بیٹی شہزادی زینب پر پڑی جو اپنے مخملی لباس میں لپٹی، نگاہیں نیچی کیے تسبیحیں پڑھ رہی تھی۔ سلطان کو اچانک اپنی بیٹی کی آزمائش کرنے کی سوجھی۔ اس نے سوچا کہ دیکھوں تو سہی کہ میری بیٹی میری کتنی قدردان ہے۔

سلطان نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور محفل میں سناٹا چھا گیا۔ اس نے بھاری اور ربیلی آواز میں پوچھا۔ "میری پیاری بیٹی زینب ذرا دربار کو بتاؤ کہ تمہیں یہ ریشمی لباس، یہ لذیذ کھانے، یہ محفوظ محل اور یہ تمام خوشیاں کس نے عطا کی ہیں؟" شہزادی زینب نے اپنی تسبیح روکی۔ سر اٹھایا اور اپنی بڑی بڑی روشن آنکھوں سے اپنے والد کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں نہ تو کوئی خوف تھا اور نہ ہی کوئی دنیاوی لالچ۔ اس نے بڑے ادب اور دھیمے لہجے میں جو دربار کے ہر کونے میں سنائی دیا جواب دیا "ابا حضور! بیشک آپ میرے والد ہیں اور آپ کی محبت کا کوئی مول نہیں۔ لیکن یہ تمام نعمتیں، یہ عزت، یہ رزق اور یہ سانسیں صرف اور صرف اللہ رب العزت کی عطا ہے۔ آپ تو محض ایک ذریعہ ہیں۔ دینے والی ذات تو اوپر والے کی ہے۔" یہ سنتے ہی دربار میں ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی۔ جیسے کسی نے چلتی ہوئی سانسوں کو روک دیا ہو۔ سلطان کا چہرہ جو پل بھر پہلے فخر سے چمک رہا تھا۔ اب غصے کی وجہ سے تمتما اٹھا۔ اسے لگا جیسے بھرے دربار میں اس کی توہین ہو گئی ہو۔ اس کی اپنی ہی بیٹی نے اس کے خدائی کے دعوے کو جو وہ انجانے میں کر بیٹھا تھا، مٹی میں ملا دیا تھا۔

سلطان نے اپنے غصے کو دباتے ہوئے دانت پیس کر دوبارہ پوچھا۔ "ذرا سوچ سمجھ کر جواب دو زینب۔ اگر میں اپنی تجوریاں بند کر دوں۔ اگر میں اپنے سپاہیوں کو ہٹا لوں تو کیا تمہارا اللہ تمہارے لیے آسمان سے روٹیاں برسائے گا؟ بتاؤ یہ نوالہ جو تمہارے حلق سے نیچے اترتا ہے، اسے کون کما کر لاتا ہے؟" زینب کے چہرے پر اب بھی وہی سکون تھا جو کسی درویش کے چہرے پر ہوتا ہے۔ اس نے نرمی سے کہا۔ "بادشاہ سلامت! رزق کے دروازے تجوریوں کی چابیوں سے نہیں کھلتے۔ وہ اللہ کی مرضی سے کھلتے ہیں۔ اگر وہ چاہے تو پتھر کے اندر موجود کیڑے کو بھی رزق پہنچاتا ہے۔ اور اگر وہ نہ چاہے تو بادشاہوں کے دسترخوان بھی ویران ہو جاتے ہیں۔ میری عقیدت کہتی ہے کہ میرا اور آپ کا، ہم سب کا پالنے والا صرف اللہ ہے۔"

اب سلطان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ اس کا غرور چکنا چور ہو گیا۔ وہ اپنے تخت سے کھڑا ہو گیا۔ اس کی آنکھوں میں شعلے بھڑک رہے تھے۔ اس نے گرجتے ہوئے کہا۔ "خاموش! بہت ہو گئیں تمہاری یہ فلسفیانہ باتیں۔ تمہیں اپنے اللہ پر بہت بھروسہ ہے نا؟ تمہیں لگتا ہے کہ میری محنت، میری عقل اور میری بادشاہت کی کوئی اہمیت نہیں تو ٹھیک ہے۔ آج میں دیکھتا ہوں کہ تمہارا توکل تمہیں کیسے بچاتا ہے۔" پورا دربار تھرتھر کانپ رہا تھا۔ وزیر اعظم نے آگے بڑھ کر کچھ کہنا چاہا۔ "گستاخی معاف حضور! شہزادی ابھی نادان ہے۔" لیکن سلطان نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا۔ سلطان نے حکم دیا "ابھی اور اسی وقت ایک ایسے شخص کو تلاش کیا جائے جو اس پوری سلطنت میں سب سے زیادہ بدنصیب، سب سے زیادہ غریب اور سب سے زیادہ حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہو۔ میں اپنی بیٹی زینب کا نکاح اس شخص سے کروں گا اور اسے اسی وقت محل سے رخصت کروں گا۔ میں بھی تو دیکھوں کہ جب سر سے باپ کا سایہ اور جسم سے شاہی لباس اتر جاتا ہے تو کون سا غیبی فرشتہ اس کی مدد کو آتا ہے۔" پہرے دار اور سپاہی فوراً حکم کی تعمیل کے لیے دوڑ پڑے۔ شہزادی زینب اپنی جگہ ساکت کھڑی رہی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو ضرور تھے، مگر یہ آنسو خوف کے نہیں بلکہ اپنے والد کی اس حالت پر افسوس کے تھے۔ محل میں کہرام مچ گیا۔ زینب کی والدہ ملکہ عالیہ دوڑی دوڑی آئیں اور سلطان کے پاؤں میں گر پڑیں۔ "دہائی ہے مہاراج! ایسا ظلم نہ کریں۔ وہ ہماری پھول سی بچی ہے۔ وہ محلوں کے علاوہ کہیں اور سانس بھی نہیں لے پائے گی۔" مگر سلطان کے دل پر تو جیسے پتھر رکھا ہوا تھا۔ اس نے ملکہ کی ایک نہ سنی۔

تھوڑی ہی دیر بعد سپاہی ایک عجیب و غریب شخص کو دربار میں گھسیٹتے ہوئے لائے۔ اس شخص کو دیکھ کر درباریوں نے اپنی ناک پر رومال رکھ لیے۔ اس کے جسم سے پسینے اور کوئلے کی بدبو آ رہی تھی۔ اس کے بال الجھے ہوئے تھے جیسے برسوں سے ان میں کنگھی نہ کی گئی ہو۔ کپڑے تار تار تھے اور کالک سے سنے ہوئے تھے۔ وہ کوئی معمولی فقیر نہیں تھا۔ بلکہ شہر کے کنارے شمشان اور بھٹیوں کے پاس رہنے والا ایک کوئلہ بیننے والا تھا۔ جسے لوگ کالا صادق کہہ کر چڑھاتے تھے۔ صادق نہ تو ٹھیک سے بول پاتا تھا اور نہ ہی سیدھا کھڑا ہو پاتا تھا۔ اس کی کمر جھکی ہوئی تھی اور چہرے پر ایک گہرا زخم کا نشان تھا جو اسے اور بھی ڈراؤنا بناتا تھا۔ سلطان نے اس کالے بدصورت اور دنیا کے ٹھکرائے ہوئے شخص کو دیکھا اور ایک ظالمانہ ہنسی کے ساتھ کہا۔ "ہاں! یہ بالکل صحیح ہے۔ زینب! دیکھو اپنے ہونے والے شوہر کو۔ آج سے تمہاری تقدیر اس کوئلے والے کے ساتھ جڑ گئی۔ ہمارا اللہ اس کالک میں سے تمہارے لیے کون سا نور پیدا کرتا ہے؟" قاضی کو بلایا گیا۔ قاضی کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اس نے ڈرتے ڈرتے نکاح پڑھا۔ "زینب نے کہا قبول ہے۔" کہا تو اس کی آواز میں ایک عجیب سی दृढ़تا تھی جیسے اس نے اللہ کے فیصلے کو دل سے قبول کر لیا ہو۔ نکاح کے فوراً بعد سلطان نے حکم دیا۔ "زینب کو ابھی محل سے باہر نکال دیا جائے۔ اسے ایک بھی زیور، ایک بھی اشرفی یا ایک بھی شاہی جوڑا ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یہ انہی کپڑوں میں جائے گی جو اس نے پہنے ہیں۔ خبردار اگر کسی نے اس کی مدد کرنے کی کوشش کی تو اس کا سر قلم کر دیا جائے گا۔"

زینب نے آخری بار اپنے والد کی طرف دیکھا۔ اس کی نظروں میں کوئی شکایت نہیں تھی۔ بس ایک خاموش دعا تھی کہ اللہ اس کے والد کو ہدایت دے۔ اس نے اپنی روتی بلکتی ماں کو گلے لگایا اور کہا۔ "امی جان! صبر کریں، اللہ اپنے بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ یہ بھی ایک امتحان ہے اور انشاءاللہ میں اس میں کامیاب ہوں گی۔" اور پھر فدا نور کی وہ نازک کلی شہزادی زینب اس بدحواس اور خاموش صادق کے پیچھے پیچھے عالیشان محل کی دہلیز لانگھ کر اندھیری رات اور انجان راستوں کی طرف چل پڑی۔ محل کے بھاری دروازے اس کے پیچھے بند ہو گئے۔ ایک طرف روشنی اور قہقہے تھے اور دوسری طرف گپ اندھیرا اور ویرانی۔ زینب کو نہیں پتہ تھا کہ صادق اسے کہاں لے جا رہا تھا۔ شہر کی گلیاں سنسان تھیں اور کتے بھونک رہے تھے۔ صادق لنگڑاتا ہوا آگے چل رہا تھا اور زینب ننگے پاؤں کنکرلے راستے پر اس کے پیچھے چل رہی تھی۔ اس کے کومل پیروں میں چھالے پڑنے شروع ہو گئے تھے مگر اس کی زبان پر صرف اللہ کا ذکر تھا۔

شہر کی آبادی ختم ہو گئی اور وہ ایک بنجر پتھریلے علاقے میں پہنچے جسے لوگ بدروحوں کی بستی کہتے تھے۔ وہاں دور دور تک کوئی آبادی نہیں تھی۔ صرف ٹوٹی پھوٹی پرانی قبریں اور جلتی ہوئی بھٹیوں کا دھواں تھا۔ صادق ایک ٹوٹی ہوئی جھونپڑی کے سامنے رکا جس کی چھت آدھی گری ہوئی تھی اور دیواریں کالی پڑ چکی تھیں۔ یہ ایک ایسی جگہ تھی جہاں دن میں بھی لوگ آنے سے ڈرتے تھے۔ صادق نے اشارے سے زینب کو بتایا کہ یہی اس کا گھر ہے۔ زینب نے اس ویران کھنڈر کو دیکھا جہاں اب اسے اپنی زندگی گزارنی تھی۔ ایک پل کے لیے اس کا دل دہل گیا۔ اسے اپنے مخملی بستر اور کنیزوں کی یاد آئی۔ لیکن فوراً اس نے اپنے خیالات کو جھٹک دیا اور دل میں کہا۔ "یا اللہ! اگر تیری یہی مرضی ہے تو میں اس کھنڈر کو بھی جنت بنا دوں گی۔"

"شہزادی!" زینب نے اپنی کانپتی ہوئی آواز میں یہ الفاظ کہے اور اس ٹوٹی پھوٹی جھونپڑی کی دہلیز پر اپنا پہلا قدم رکھا۔ اندر گپ اندھیرا تھا، ایسا اندھیرا جو انسان کی روح میں اتر جائے۔ فضا میں برسوں پرانی سی لن، جلتے ہوئے کوئلے کی کڑوی گندھ اور مایوسی کی ایک عجیب سی بو رچی بسی تھی۔ زینب جو کل تک شمعدانوں کی روشنی اور عطر کی خوشبو میں سانس لیتی تھی۔ اسے لگا جیسے اس کا دم گھٹ جائے گا۔ اس کے پاؤں کسی سخت چیز سے ٹکرائے۔ شاید کوئی مٹی کا ٹوٹا ہوا گھڑا تھا۔ تبھی پیچھے سے ایک ہلکی سی رگڑ کی آواز آئی۔ صادق، وہ کوئلہ بیننے والا ابھی بھی دروازے کے باہر کھڑا تھا۔ جیسے اسے اندر آنے میں جھجھک ہو رہی ہو یا شاید اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ اس کی بدنصیب کوٹیا میں ایک شہزادی داخل ہوئی ہے۔ اس نے اپنی پھٹی ہوئی جیب سے چقماق پتھر نکالا اور بڑی مشکل سے ایک چنگاری سلگائی۔ ایک کونے میں پڑے ہوئے ٹوتے سے دیے میں تھوڑا سا تیل باقی تھا۔ جیسے ہی بتی جلی جھونپڑی کی بدحالی کھل کر سامنے آ گئی۔ چھت پر مکڑی کے بڑے بڑے جالے لٹک رہے تھے جو ہوا میں کسی منحوس سائے کی طرح جھول رہے تھے۔ دیواروں پر کالک کی موٹی پرت جمی تھی اور کونے میں ایک چارپائی تھی جس کی رسیاں بیچ سے ٹوٹی ہوئی تھیں اور اس پر ایک میلا کچھیلا ٹاٹ بچھا تھا۔

زینب نے چاروں طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو گرنے ہی والے تھے کہ اس نے اپنی ماں ملکہ عالیہ کے الفاظ یاد کیے۔ "بیٹی! حالات چاہے جیسے بھی ہوں اپنی خودداری مت کھونا۔" زینب نے اپنے آنسوؤں کو پی لیا اور صادق کی طرف مڑی جو سر جھکائے مجرم کی طرح دروازے پر کھڑا تھا۔ اس کے چہرے پر لگے کوئلے کے داغ اور وہ گہرا زخم دیے کی مدھم روشنی میں اور بھی بھیانک لگ رہے تھے۔ زینب نے اپنی مخملی آواز میں جس میں شاہی روپ نہیں بلکہ ایک انسانیت کی نرمی تھی، کہا۔ "آپ باہر کیوں کھڑے ہیں؟ اب یہ گھر جتنا میرا ہے، اتنا ہی آپ کا بھی ہے۔" صادق چونک گیا۔ شاید اس نے اپنی زندگی میں کسی سے اتنی عزت بھرا لہجہ نہیں سنا تھا۔ وہ لنگڑاتا ہوا اندر آیا اور ایک کونے میں پڑی پرانی بوری پر سکڑ کر بیٹھ گیا۔ زینب نے اس ٹوٹی چارپائی کی طرف دیکھا۔ اس پر بیٹھنے کی ہمت جٹانا مشکل تھا۔ لیکن اس نے اپنے بھاری اور قیمتی لہنگے کو سنبھالا اور چارپائی کے ایک صاف کونے پر بیٹھ گئی۔

رات گہری ہو رہی تھی اور اس ویران بستی سے عجیب و غریب آوازیں آ رہی تھیں۔ کبھی دور روتے ہوئے سِیاڑ کی آواز تو کبھی ہوا کے جھونکوں سے کھڑکھڑاتے ہوئے ٹین کے ٹکڑے۔ بھوک اور پیاس سے زینب کا برا حال تھا۔ محل میں اس وقت شاہی دسترخوان بچھتا تھا۔ جہاں طرح طرح کے پکوان ہوتے تھے۔ لیکن یہاں پینے کے لیے پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا۔ صادق شاید اس کی حالت سمجھ گیا۔ اس نے اپنی کمر سے بندھا ایک چھوٹا سا مٹی کا کلھڑ نکالا اور کونے میں رکھے ایک گھڑے سے پانی انڈیلا۔ پانی صاف نہیں تھا۔ اس میں مٹی کے ذرے تیر رہے تھے۔ صادق نے کانپتے ہاتھوں سے کلھڑ زینب کی طرف بڑھایا۔ زینب نے ایک پل کے لیے اس گندلے پانی کو دیکھا۔ پھر بسم اللہ کہہ کر پی گئی۔ پیاس بجھی تو جان میں جان آئی۔ اس رات دونوں کے بیچ کوئی بات نہیں ہوئی۔ صادق زمین پر اسی بوری پر لیٹ گیا اور زینب اس سخت چارپائی پر۔ نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ اسے بار بار اپنے والد سلطان اعظم علی خان کا وہ غصیل چہرہ یاد آ رہا تھا۔ اور وہ سوچ رہی تھی کہ کیا واقعی اللہ اس کی مدد کرے گا؟ کیا یہ امتحان اس کی برداشت سے باہر تو نہیں؟ اسی ادھیڑ بن میں نہ جانے کب اس کی آنکھ لگ گئی۔

صبح ہوئی تو کسی مرغ کی بانگ سے نہیں بلکہ بھٹیوں کے شور اور بھاری ہتھوڑوں کی آوازوں سے زینب کی نیند کھلی۔ سورج کی کرنیں چھت کے چھیدوں سے چھن کر اندر آ رہی تھیں اور دھول کے ذرے ہوا میں ناچ رہے تھے۔ زینب ہڑبڑا کر اٹھی۔ صادق اپنی جگہ پر نہیں تھا۔ وہ اٹھ کر باہر آئی تو نظارہ دیکھ کر اس کا دل دہل گیا۔ رات کے اندھیرے نے جس بدصورتی کو چھپا رکھا تھا، دن کے اجالے نے اسے بے نقاب کر دیا۔ چاروں طرف کالے دھوئیں کے بادل تھے۔ دور دور تک اینٹوں کے بھٹے اور کوئلے کے پہاڑ نظر آ رہے تھے۔ ہوا میں راکھ اڑ رہی تھی جو سانسوں کے ذریعے سیدھے پھیپھڑوں میں اتر رہی تھی۔ یہ بدروحوں کی بستی نہیں بلکہ جیتے جاگتے انسانوں کا دوزخ تھا۔ زینب نے دیکھا کہ کچھ عورتیں جن کے کپڑے میلے تھے اور چہرے وقت سے پہلے بوڑھے ہو چکے تھے۔ سر پر بھاری ٹوکرا اٹھائے جا رہی تھیں۔ بچے ننگے بدن کیچڑ اور راکھ میں کھیل رہے تھے۔

زینب کو پیاس لگی تھی۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا تو تھوڑی دور پر ایک پرانا کنواں نظر آیا۔ اس نے جھونپڑی میں پڑا وہی مٹی کا گھڑا اٹھایا اور کنویں کی طرف چل پڑی۔ اس کا لباس اگرچہ اب میلا ہو چکا تھا اور جگہ جگہ سے پھٹ گیا تھا۔ لیکن اس کا ریشمی کپڑا اور اس پر جڑے موتی ابھی بھی چمک رہے تھے۔ جب وہ کنویں کے پاس پہنچی تو وہاں موجود عورتوں نے اپنا کام روک دیا اور اسے حیرانی سے گھورنے لگیں۔ ایک بوڑھی عورت جس کی کمر دوہری ہو چکی تھی اور جس کے چہرے پر جھریوں کا جال تھا۔ آگے بڑھی۔ اس کا نام مائی جونی تھا۔ بستی کے لوگ اسے منحوس سمجھتے تھے۔ لیکن وہ دنیا کی حقیقت کو جانتی تھی۔ مائی جونی نے اپنی دھندلی آنکھوں سے زینب کو اوپر سے نیچے تک دیکھا اور طنزیہ لہجے میں بولی۔ "ارے دیکھو تو یہ کون سی پری راستہ بھول کر ہمارے نرک میں آ گری ہے۔ یہ ریشم، یہ نزاکت! اے لڑکی! یہ کوئلہ بستی ہے۔ یہاں پھول نہیں کھلتے، صرف راکھ بنتی ہے۔ تو یہاں کہاں سے آئی؟"

زینب نے ادب سے سر جھکایا اور کہا۔ "اماں! میں اب یہیں رہتی ہوں۔ اس سامنے والی جھونپڑی میں۔" عورتوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور کانشہ پھونسی کرنے لگیں۔ "وہ تو صادق کی جھونپڑی ہے۔ کیا یہ اس گونگے اور کوڑھی کی زورُو ہے؟" ایک تیز ناک والی عورت جس کا نام بلّو تھا۔ زور سے ہنسی۔ "صادق کی قسمت! کوڑے کے ڈھیر میں ہیرا مل گیا۔ لیکن اے بیوی! یہ ہاتھ دیکھو اپنے۔" اس نے زینب کے مہندی رچے کومل ہاتھوں کی طرف اشارہ کیا۔ "یہ ہاتھ پانی کھینچنے کے لیے نہیں، شہزادوں کے لیے پان بنانے کے لیے ہیں۔ یہاں کی رسی تیری کھال ادھیڑ دے گی۔" زینب کو ان کی باتوں سے تکلیف ہوئی۔ لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری۔ اس نے ڈول کنویں میں ڈالا۔ محل میں اس نے کبھی ایک تنکا بھی نہیں اٹھایا تھا۔ بھری ہوئی بالٹی کھینچنا اس کے لیے پہاڑ توڑنے جیسا تھا۔ رسی اس کے نازک ہاتھوں میں چبنے لگی۔ ہتھیلیوں میں جلن ہونے لگی۔ لیکن اس نے دانت بھی کر پوری طاقت لگائی اور پانی اوپر کھینچ ہی لیا۔ اس کی سانس پھول گئی تھی۔ مائی جونی یہ سب دیکھ رہی تھی۔ اس نے دھیمے سے کہا۔ "حوصلہ تو ہے چھوکری میں۔ پر دیکھو کب تک ٹکتی ہے۔"

زینب پانی لے کر واپس جھونپڑی میں آئی۔ اب اصلی امتحان شروع ہوا۔ اسے گھر صاف کرنا تھا۔ اس نے اپنی ریشمی اوڑھنی کو کمر میں باندھا اور جھاڑو لگانے لگی۔ جس فرش پر کل تک وہ مخمل کے جوتوں کے بغیر نہیں چلتی تھی۔ آج اسے اپنے ہاتھوں سے صاف کر رہی تھی۔ دھول اور گرد سے اس کی کھانسی چھوٹ گئی۔ آنکھوں میں پانی آ گیا۔ لیکن وہ رکی نہیں۔ اس نے دیواروں کے جالے صاف کیے۔ برتنوں کو راکھ سے مانجا۔ دوپہر ہوتے ہوتے وہ پسینے سے تر بتر ہو چکی تھی۔ اس کا شاہی لباس اب ایک مزدور کے کپڑوں جیسا لگ رہا تھا۔ اور اس کا چہرہ جو کل تک گلاب کی طرح تھا۔ اب کوئلے کی کالک سے سج چکا تھا۔ لیکن عجیب بات تھی۔ اسے تھکن کے ساتھ ساتھ ایک روحانی سکون مل رہا تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ آج اس نے اپنی زندگی کی پہلی حلال محنت کی ہے۔

دوپہر ڈھلنے کو تھی کہ صادق واپس آیا۔ اس کے کندھے پر ایک چھوٹی سی پوٹلی تھی اور وہ لنگڑا رہا تھا۔ اس نے جب جھونپڑی کو دیکھا تو ٹھٹک گیا۔ وہ کھنڈر اب ایک گھر لگ رہا تھا۔ چیزیں سلیقے سے رکھی تھیں۔ فرش صاف تھا اور دروازے پر ایک پرانا پردہ لٹکا تھا جسے زینب نے اپنے پھٹے ہوئے دوپٹے سے بنایا تھا۔ صادق کی آنکھوں میں ایک چمک آئی۔ اس نے پوٹلی زینب کے آگے رکھ دی۔ اس میں دو سوکھی روٹیاں اور تھوڑی سی پیاز تھی۔ یہ اس کی پورے دن کی مزدوری تھی۔ زینب کے پیٹ میں چوہے کود رہے تھے۔ اس نے وہ سوکھی روٹی دیکھی جو شاید کئی دن پرانی تھی۔ لیکن اس نے ناک نہیں سکوڑی۔ اس نے روٹی کے دو ٹکڑے کیے۔ ایک صادق کی طرف بڑھایا اور ایک خود لیا۔ صادق نے اشارے سے منع کیا۔ جیسے کہہ رہا ہو کہ یہ صرف تمہارے لیے ہے۔ لیکن زینب نے ضد کر کے اس کے ہاتھ میں روٹی تھما دی۔ "ہم ساتھ کھائیں گے۔" اس نے کہا۔ جیسے ہی زینب نے پہلا نوالہ منہ میں ڈالا، سوکھی روٹی حلق میں اٹکنے لگی۔ آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ اسے محل کے قورمے اور بریانی یاد آ گئی۔ لیکن اس نے پانی کے ساتھ نوالہ نگلا اور دل میں اللہ کا شکر ادا کیا۔ "اے اللہ! تیرا شکر ہے کہ تو نے بھوکا نہیں رکھا۔" کھانے کے بعد صادق نے راکھ پر ایک لکڑی کے ٹکڑے سے کچھ لکیریں کھینچیں اور اشاروں میں سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ کل سے اور زیادہ کام کرے گا تاکہ کچھ بہتر لا سکے۔ زینب سمجھ گئی کہ صادق بول نہیں سکتا یا شاید بولتا نہیں۔ اس نے صادق کے ہاتھوں کو دیکھا جو پتھروں اور کوئلے سے چھل چکے تھے۔ ان میں گہرے گھاؤ تھے۔ زینب کا دل پسیج گیا۔ اس نے سوچا کہ مجھے بھی کچھ کرنا ہوگا۔ صرف گھر کی صفائی سے پیٹ نہیں بھرے گا۔

اگلے کچھ دن ایسے ہی جدوجہد میں گزرے۔ زینب نے خود کو اس ماحول میں ڈھالنا شروع کر دیا۔ لیکن مصیبتیں کم نہیں تھیں۔ ایک دن جب زینب کنویں سے لوٹ رہی تھی تو بستی کا ایک بدمعاش ٹھیکیدار جس کا نام شیرا تھا۔ راستے میں کھڑا ہو گیا۔ شیرا ایک بھاری بھرکم اور ظالم انسان تھا جس کی دہشت پوری بستی میں تھی۔ اس کی نظر زینب پر پڑی اور اس کی نیت خراب ہو گئی۔ اس نے اپنا راستہ روکا اور گندی ہنسی کے ساتھ بولا۔ "ارے واہ! کوئلے کی کان میں ایسا سونا۔ اے بی! صادق جیسا لنگڑا تیرے لائق نہیں۔ میرے محل میں چل، رانی بنا کر رکھوں گا۔" زینب ڈر سے پیچھے ہٹی۔ اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ آس پاس کوئی نہیں تھا۔ شیرا نے آگے بڑھ کر زینب کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی۔ زینب نے چیخنا چاہا لیکن آواز گلے میں پھنس گئی۔ تبھی اچانک ایک سائے کی طرح کوئی بیچ میں آ گیا۔ وہ صادق تھا۔ صادق جو ہمیشہ جھکا رہتا تھا آج شیر کی طرح تن کر کھڑا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک ایسا وحشت پن تھا جسے دیکھ کر شیرا بھی ایک پل کے لیے گھبرا گیا۔ صادق کے ہاتھ میں ایک بھاری کدال تھی۔ اس نے کوئی آواز نہیں نکالی۔ بس شیرا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑا رہا۔ جیسے کہہ رہا ہو کہ اگر ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو جان لے لوں گا۔ شیرا نے صادق کا یہ روپ کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اس نے تھوکتے ہوئے کہا۔ "پاگل کتے! آج تو چھوڑ رہا ہوں، لیکن یاد رکھنا اس بستی کا مالک میں ہوں۔ تیرا دانہ پانی بند کر دوں گا۔" شیرا وہاں سے چلا گیا۔ لیکن زینب کانپ رہی تھی۔ صادق نے کدال نیچے پھینکی اور زینب کی طرف دیکھا۔ اس کی نظروں میں فکر تھی۔ اس نے اپنے میلے کرتے سے زینب کا گرا ہوا گھڑا اٹھایا اور گھر کی طرف چلنے کا اشارہ کیا۔ اس دن زینب کو احساس ہوا کہ یہ شخص جسے دنیا پاگل اور کمزور سمجھتی ہے، اس کے اندر ایک رَکشَک چھپا ہے۔ ایک

ایک ایسا مرد جو اپنی عزت کے لیے جان کی بازی لگا سکتا ہے۔ گھر پہنچ کر زینب نے صادق کے زخموں پر جو کام کے دوران لگے تھے، گیلے کپڑے کی پٹی باندھی۔ وہ پہلی بار تھا جب صادق نے اسے چھوا محسوس کیا۔ اس کی آنکھوں میں نمی آ گئی۔ لیکن مصیبتیں ابھی شروع ہوئی تھیں۔ شیرا کی دھمکی خالی نہیں تھی۔ اگلے ہی دن سے صادق کو کام ملنا بند ہو گیا۔ وہ جس بھٹی پر بھی جاتا اسے دھکے مار کر نکال دیا جاتا۔ "شیرا بھائی کا حکم ہے تجھے کام نہیں ملے گا۔" لوگ کہتے دو دن گزر گئے۔ گھر میں کھانے کو ایک دانہ نہیں تھا۔ بھوک سے دونوں کا برا حال تھا۔ صادق مایوس ہو کر کونے میں بیٹھا رہتا۔ اسے اپنی مجبوری پر غصہ آ رہا تھا۔

تیسری شام جب بھوک برداشت سے باہر ہو گئی تو زینب اٹھی۔ اس نے اپنی گٹھری کھولی۔ اس میں ایک چھوٹی سی معمولی سی پوٹلی تھی جو اس نے اپنے کپڑوں میں چھپا رکھی تھی۔ یہ وہ زیور نہیں تھے جو بادشاہ نے منع کیے تھے۔ بلکہ یہ ایک بہت پرانا چاندی کا سکہ تھا جو اس کی دادی نے بچپن میں اسے عیدی میں دیا تھا اور اس نے تعویذ کی طرح سجا رکھا تھا۔ زینب نے وہ سکہ صادق کے ہاتھ میں رکھا اور کہا "اسے لے جائیے اور کچھ آٹا لے آئیے۔" صادق نے منع کرنا چاہا لیکن زینب نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا "اللہ نے چاہا تو یہ آخری سکہ ہماری تقدیر کی کنجی بنے گا۔ جائیے صادق۔" سکہ لے کر گیا۔ اور زینب مصلے پر بیٹھ کر دعا کرنے لگی۔ اس کی آنکھیں بند تھیں اور لبوں پر آیت کریمہ کا ورد جاری تھا۔ جھونپڑی میں گہرا سناٹا تھا۔ مگر باہر ہواؤں کی سائیں سائیں کسی انہونی کا پتہ دے رہی تھی۔ زینب کا دل ڈوب رہا تھا۔ اسے فکر اس چاندی کے سکے کی قیمت کی نہیں تھی۔ بلکہ اس بات کی تھی کہ وہ سکہ ایک شاہی نشانی تھا۔ جس پر فدا نور کی سلطنت کا نشان اور اس کے پردادا کا نام کندہ تھا۔ اگر کسی نے اسے پہچان لیا تو کیا ہوگا؟ کیا لوگ صادق کو چور سمجھیں گے؟ یہ خیالات اسے ڈس رہے تھے۔ لیکن پیٹ کی آگ اور صادق کی مجبوری نے اسے یہ خطرہ مول لینے پر مجبور کر دیا تھا۔

ادھر صادق اپنی لنگڑاتی چال اور جھکی ہوئی کمر کے ساتھ شہر کے مرکزی بازار، بازار خاص کی طرف بڑھ رہا تھا۔ بستی کا کالا دھواں پیچھے چھوٹ گیا۔ اور اب فضا میں مسالوں، عطر اور بھنے ہوئے گوشت کی ملی جلی خوشبو تیر رہی تھی۔ بازار میں چہل پہل اپنے شباب پر تھی۔ دکانیں گاہکوں سے اٹی پڑی تھیں۔ کہیں ریشم کے تھان کھولے جا رہے تھے تو کہیں حلوا ئی بڑی بڑی کڑھائیوں میں دودھ ہٹا رہے تھے۔ صادق اس رنگین دنیا میں ایک بدنما داغ کی طرح لگ رہا تھا۔ لوگ اسے دیکھ کر کتر ا کر نکل رہے تھے۔ کوئی اپنی ناک بند کر لیتا تو کوئی حقارت سے اسے جھڑک دیتا۔ "ہٹ جاؤ کوئلے والے۔ میرے کپڑے کالے کر دے گا۔" ایک رئیس زادے نے اسے دھکا دیتے ہوئے کہا۔ صادق چپ چاپ بغیر کسی شکایت کے ایک طرف ہو گیا۔ اس کی نظریں صرف ایک گرانے کی دکان تلاش رہی تھیں جہاں وہ اس سکے کے بدلے کچھ آٹا اور دال لے سکے۔ آخر کار وہ سیٹھ گِردھاری کی دکان پر پہنچا۔ گِردھاری ایک کنجوس اور چالاک بنیا تھا۔ جس کی نظر گِدھ جیسی تیز تھی۔ دکان پر بھیڑ تھی۔ صادق ایک کونے میں کھڑا اپنی باری کا انتظار کرتا رہا۔ جب بھیڑ تھوڑی جھٹی تو اس نے ہمت کر کے اپنی مٹھی کھولی اور وہ پرانا بھاری چاندی کا سکہ کاؤنٹر پر رکھ دیا۔ گِردھاری جو اب تک صادق کو بھگانے کے موڈ میں تھا، سکے کی کھنک سن کر چونکا۔ اس نے سکہ اٹھایا اور اسے دیے کی روشنی میں پرکھا۔ جیسے ہی اس کی نظر شاہی مہر پر پڑی، اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ یہ کوئی معمولی سکہ نہیں تھا۔ یہ شاہی ٹکسال کا وہ نایاب سکہ تھا جو سالوں پہلے بند ہو چکا تھا اور اب صرف شاہی خزانے یا رئیسوں کی تجوریوں میں ہی مل سکتا تھا۔ گِردھاری کی آنکھوں میں لالچ اور شک ایک ساتھ ابھر آئے۔ اس نے صادق کی پھٹی ہوئی قمیض، اس کے کوئلے سے سنے ہاتھ اور چہرے کے زخم کو دیکھا اور پھر اس بیش قیمت سکے کو۔ "اوہ، تو یہ بات ہے۔" گِردھاری نے ایک مکار مسکان کے ساتھ کہا اور پھر اچانک زور سے چلایا۔ "چور، چور! پکڑو اسے۔" بازار میں سناٹا چھ گیا۔ لوگ جمع ہونے لگے۔ "اس بھکاری نے شاہی خزانے میں نقب لگائی ہے۔ دیکھو یہ شاہی سکہ اس کے پاس کہاں سے آیا۔" گِردھاری نے سکہ ہوا میں لہراتے ہوئے کہا۔ "ضرور اس نے کسی امیر کی جان لی ہوگی یا چوری کی ہوگی۔" صادق گھبرا گیا۔ وہ کچھ بول نہیں سکتا تھا۔ بس نفی میں سر ہلاتا رہا اور اشاروں سے سمجھانے کی کوشش کرنے لگا کہ یہ اس کا ہے، اسے دیا گیا ہے۔ لیکن بھیڑ تو تماشا دیکھنے کی عادی ہوتی ہے۔ اسے سچ سے کیا مطلب؟ دو تین ہٹے کٹے آدمیوں نے صادق کو دبوچ لیا۔ "مارو سالے کو! کوتوال کے پاس لے چلو!" بھیڑ میں سے آوازیں آنے لگیں۔ صادق کی آنکھوں میں وہی بے بسی تھی جو اس وقت تھی جب سلطان نے اس کا ہاتھ زینب کے ہاتھ میں دیا تھا۔ اسے اپنی جان کی فکر نہیں تھی۔ اسے فکر تھی کہ اگر اسے قید ہو گئی تو زینب کا کیا ہوگا؟ وہ جھونپڑی میں اکیلی بھوک سے مر جائے گی۔

تبھی بھیڑ کو چیرتی ہوئی ایک بھاری اور رعب دار آواز آئی۔ "رکو!" سب نے مڑ کر دیکھا۔ وہاں ایک بزرگ شخصیت کھڑی تھی۔ سفید لمبی داڑھی، آنکھوں میں غضب کا جلال اور بدن پر ایک سادہ لیکن قیمتی سفید چوغہ۔ یہ شہر کے سب سے مشہور جوہری اور عزت دار انسان مرزا یوسف تھے۔ مرزا یوسف کی شہر میں اتنی عزت تھی کہ خود وزیر بھی ان کے آگے سر جھکاتے تھے۔ مرزا یوسف بھیڑ کے بیچ آئے اور صادق کو ان لوگوں کی پکڑ سے چھڑوایا۔ انہوں نے گِردھاری کے ہاتھ سے وہ سکہ لیا اور غور سے دیکھا۔ پھر انہوں نے صادق کی آنکھوں میں جھانکا۔ صادق کی آنکھوں میں ڈر تھا لیکن بے ایمانی نہیں۔ مرزا یوسف جنہوں نے اپنی پوری زندگی انسانوں اور ہیروں کو پرکھنے میں گزاری تھی۔ ایک پل میں سمجھ گئے کہ معاملہ کیا ہے۔ انہیں یاد آیا کہ کچھ دن پہلے ہی شہر میں خبر پھیلی تھی کہ شہزادی کا نکاح ایک فقیر سے کر دیا گیا ہے۔ "یہ سکہ چوری کا نہیں ہے۔" مرزا یوسف نے اپنی دم دار آواز میں فیصلہ سنایا۔ گِردھاری سکپک گیا۔ "لیکن حضور، یہ شاہی سکہ اور یہ کوڑھی..." مرزا نے اسے گھورتے ہوئے کہا۔ "یہ سکہ پرانا ہے۔ ممکن ہے اسے کسی نے خیرات میں دیا ہو۔ اور اگر یہ چور ہوتا تو یہ اسے کھلے عام تمہاری دکان پر بیچنے نہیں آتا بلکہ کسی اندھیرے کونے میں سودا کرتا۔" مرزا یوسف نے اپنی جیب سے چمڑے کی ایک تھیلی نکالی اور اس میں سے سونے کی دو اشرفیاں نکال کر گِردھاری کے کاؤنٹر پر پٹک دیں۔ "اس غریب کو اس سکے کی جو قیمت چاہیے وہ میں دے رہا ہوں اور خبردار جو کسی نے اب اسے تنگ کیا۔" مرزا نے صادق کے کندھے پر ہاتھ رکھا جو اب بھی کانپ رہا تھا۔ مرزا یوسف نے سکہ اپنی جیب میں رکھ لیا اور صادق کو سونے کی اشرفیاں نہیں بلکہ روزمرہ کے استعمال کے لیے ڈھیر سارے چاندی کے چھوٹے سکے اور ایک بڑی تھیلی دی۔ انہوں نے صادق کے کان میں جھک کر دھیمے سے کہا۔ "بیٹا، مجھے نہیں پتہ یہ سکہ تمہارے پاس کیسے آیا۔ لیکن اس شہر میں بھیڑیے بہت ہیں۔ اگلی بار ہوشیار رہنا۔ جاؤ اپنے گھر جاؤ۔" صادق کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔ اس نے جھک کر مرزا کے ہاتھ کو چومنے کی کوشش کی۔ لیکن مرزا نے اسے گلے لگا لیا۔ صادق نے جلدی جلدی آٹا، دال، تیل، نمک اور کچھ سبزیاں خریدی۔ اس نے زینب کے لیے تھوڑا سا گڑ بھی لیا اور پھر لنگڑاتا ہوا جتنی تیزی سے ہو سکے بستی کی طرف بھاگا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں کوئی اس کا پیچھا نہ کر رہا ہو۔

ادھر جھونپڑی میں زینب کا دل بیٹھا جا رہا تھا۔ کافی وقت گزر چکا تھا۔ "یا اللہ، ان کی حفاظت فرما۔" وہ بار بار دعا مانگ رہی تھی۔ تبھی دروازے کی آڑ سے صادق اندر داخل ہوا۔ اس کی سانسیں پھول رہی تھیں اور پسینے سے وہ شرابور تھا۔ لیکن اس کے چہرے پر ایک فتح مسکان تھی۔ اس نے سامان کی گٹھری زینب کے سامنے رکھ دی۔ زینب نے جب آٹا اور کھانے کا سامان دیکھا تو اس نے راحت کی سانس لی۔ اس نے صادق کو دیکھا۔ اس کے پھٹے ہوئے کرتے کی آستین اور بھی پھٹ گئی تھی۔ لیکن زینب نے سوال نہیں کیے۔ وہ سمجھ گئی کہ کچھ برا ہوتے ہوتے بچا ہے۔ اس رات اس کھنڈر جھونپڑی میں چولہا جلا۔ کئی دنوں بعد اس گھر سے تازہ روٹی کی خوشبو اٹھی۔ یہ خوشبو محل کے چھپن بھوگوں سے کہیں زیادہ قیمتی تھی۔ زینب نے اپنے ہاتھوں سے روٹی پکائی اور صادق کو پروسی۔ دونوں نے پیٹ بھر کھایا۔ کھانے کے بعد جب رات کا سناٹا گہرا گیا، زینب چارپائی پر بیٹھی سوچ میں ڈوبی تھی۔ صادق کونے میں بیٹھ کر ایک پرانے لوہے کے تار کو پتھر پر گھس کر نوکیلا بنا رہا تھا۔ شاید وہ اسے سوئی کی طرح استعمال کرنا چاہتا تھا اپنے پھٹے کپڑے سینے کے لیے۔ زینب نے اسے دیکھا اور ایک گہرے خیال نے اسے گھیر لیا۔ "یہ پیسہ کتنے دن چلے گا؟" اس نے خود سے پوچھا۔ "دو دن، چار دن یا ایک ہفتہ۔ پھر کیا ہوگا؟ کیا ہم پھر سے بھیک مانگیں گے؟ کیا پھر کوئی شاہی نشانی بیچیں گے؟ نہیں!" "یہ ذلت کی زندگی ہم کب تک جئیں گے؟" شہزادی زینب کی رگوں میں بادشاہوں کا خون تھا۔ لیکن اس کی تربیت میں فقیروں کا صبر اور ہنرمندوں کی قدر بھی شامل تھی۔ اسے یاد آیا کہ بچپن میں اس کی ایک دایہ جو بہت بوڑھی تھی اسے زر دوزی اور کشیدہ کاری کے وہ نایاب ٹانکے سکھاتی تھی جو اب ناپید ہو رہے تھے۔ "ہنر!" زینب بڑ بڑائی۔ "انسان کا اصل خزانہ اس کا ہنر ہوتا ہے۔" اس نے صادق کو بلایا اور اشارے سے اسے اپنے پاس بیٹھنے کو کہا۔ "سنو۔" زینب کی آواز میں ایک نئی امید تھی۔ "ہم کب تک اس ایک سکے کے سہارے جئیں گے۔ ہمیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہوگا۔ مجھے ایک کام آتا ہے، کڑھائی کا۔ اگر مجھے کپڑا اور دھاگا مل جائے تو میں ایسے کپڑے تیار کر سکتی ہوں جو بازار میں اچھی قیمت پر بکیں گے۔" صادق نے اپنی خالی ہتھیلیاں دکھائیں جیسے کہہ رہا ہو۔ "لیکن سامان خریدنے کے لیے پیسے کہاں ہیں؟ جو پیسے بچے تھے وہ تو کھانے میں خرچ ہو جائیں گے۔" زینب مسکرائی، ایک درد بھری لیکن پر سر مسکان۔ "ہمیں نئے سامان کی ضرورت نہیں۔" اس نے کہا۔

زینب اٹھی اور اس کونے میں گئی جہاں اس نے اپنا وہ بھاری میلا ہو چکا شاہی جوڑا طے کر کے رکھا تھا۔ جسے پہن کر وہ محل سے نکلی تھی۔ یہ وہ لباس تھا جو سلطان نے بہت چاہو سے بنوایا تھا۔ اس میں اصلی سونے اور چاندی کے تار استعمال ہوئے تھے اور ریشم بھی بہترین تھا۔ زینب نے ایک قینچی جیسا لوہے کا ٹکڑا اٹھایا اور اس بیش قیمت لباس کا ایک کنارہ کاٹنا شروع کیا۔ صادق کی آنکھیں پھیل گئیں۔ وہ آگے بڑھا اور اس نے اشارے سے پوچھا۔ "یہ کیا کر رہی ہو؟ یہ تو تمہاری آخری شاہی نشانی ہے۔" زینب نے رک کر صادق کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا۔ "ماضی کو اوڑھ کر مستقبل نہیں سنوارا جا سکتا۔ یہ لباس اب میرے کسی کام کا نہیں۔ لیکن اس کے دھاگے ہماری زندگی بدل سکتے ہیں۔" اور پھر پوری رات ایک عجیب منظر دیکھنے کو ملا۔ شہزادی زینب جو کبھی اس لباس کو پہن کر آئینے کے سامنے اتراتی تھی، اب ایک ایک کر کے اس کے ریشمی دھاگوں کو ادھیڑ رہی تھی۔ اس نے سونے کے تاروں کو الگ کیا۔ چاندی کے تاروں کو سیدھا کیا اور رنگین ریشم کے دھاگوں کے گالے بنائے۔ صادق یہ دیکھ کر حیران تھا۔ اسے زینب میں ایک ایسی عورت دکھائی دے رہی تھی جو حالات کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے بجائے حالات کو اپنے حساب سے ڈھالنے کا ہنر جانتی تھی۔

اگلی صبح جب سورج کی کرنیں جھونپڑی میں داخل ہوئیں تو زینب کے پاس سنہرے، روپہلے اور رنگ برنگے دھاگوں کا ڈھیر لگا تھا۔ لیکن اب ایک اور مسئلہ تھا۔ کڑھائی کس پر کی جائے؟ مخمل یا ریشم خریدنے کی تو اوقات نہیں تھی۔ تبھی صادق باہر گیا اور تھوڑی دیر بعد ایک پرانی لیکن صاف ستھری ٹاٹ کی بوری دھو کر لایا۔ یہ وہ بوری تھی جس میں اناج آتا تھا۔ صادق نے اسے پتھر پر رگڑ رگڑ کر صاف کیا تھا۔ اس نے وہ ٹاٹ زینب کے سامنے رکھا، شرماتے ہوئے۔ زینب نے اس کھردے ٹاٹ کو چھوا۔ کہاں وہ شاہی مخمل اور کہاں یہ چبُھنے والا ٹاٹ؟ لیکن اس نے مسکرا کر کہا۔ "یہ بہترین ہے۔ ہم اسی پر شروعات کریں گے۔" زینب نے کام شروع کیا۔ صادق نے لوہے کے تار کو گھس کر جو سوئی بنائی تھی، وہ تھوڑی موٹی تھی، لیکن زینب کی انگلیوں میں جادو تھا۔ اس نے ٹاٹ کے اس ٹکڑے پر کوئلے سے ایک ڈیزائن بنایا۔ نا کوئی محل، نا کوئی مور، بلکہ ایک کنول کا پھول جو کیچڑ میں کھلتا ہے۔ دن گزرتے گئے۔ زینب گھنٹوں سر جھکائے اپنی نازک انگلیوں کو اس کھردے ٹاٹ پر چلاتی رہی۔ کئی بار سوئی چُبھی بھی، خون کی بوندیں نکلیں لیکن وہ رکی نہیں۔ صادق اس کے پاس بیٹھتا، کبھی اسے پانی پلانا، کبھی ہوا کرتا اور کبھی سوئی کی نوک کو پتھر پر گھس کر تیز کرتا۔ دونوں کے بیچ خاموشی تھی۔ لیکن اس خاموشی میں محبت اور ساتھ کی ایک نئی داستان لکھی جا رہی تھی۔ چار دن بعد وہ نمونہ تیار تھا۔ یہ ایک کرشمہ تھا۔ اس بھدے کھردے ٹاٹ کے ٹکڑے پر سنہرے اور روپہلے تاروں سے بنا وہ پھول ایسا چمک رہا تھا جیسے اندھیرے میں جگنو۔ زینب نے ٹاٹ کی کمیوں کو ہی اس کی خوبی بنا دیا تھا۔ اس نے سونے کے تاروں کا استعمال ایسے کیا تھا کہ ٹاٹ کا کھردرا پن ایک ٹیکسچر بن گیا تھا۔ یہ فن کا ایک ایسا نمونہ تھا جو شاید شاہی کارندوں نے بھی کبھی نہیں دیکھا تھا۔ زینب نے وہ کپڑا صادق کے ہاتھوں میں دیا۔ "اسے بازار لے جائیے۔" زینب نے کہا۔ "لیکن اسے کسی کباڑی کو مت دکھا ئیے۔ اسے اس دکان پر لے جائیے جہاں رئیس لوگ آتے ہوں۔ اور ہاں، قیمت آپ طے نہیں کریں گے۔ انہیں بولنے دیجیے گا۔" صادق نے وہ کپڑا ایک پرانے سوتی کپڑے میں لپیٹا اور سینے سے لگا لیا۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ یہ صرف کپڑا نہیں، زینب کی روح اور محنت کا نچوڑ ہے۔

صادق پھر سے بازار خاص پہنچا۔ اس بار اس کے قدموں میں جھجھک نہیں تھی۔ وہ سیدھا شہر کی سب سے مشہور کپڑوں کی دکان، رنگ محل کی طرف گیا۔ جہاں صرف وزیر اور امیر گھرانے کی عورتیں خریداری کرتی تھیں۔ دکان کے مالک سیٹھ منیلال نے جب صادق کو دکان کی سیڑھیوں پر چڑھتے دیکھا تو نوکروں کو اشارہ کیا کہ اسے بھگا دو۔ "اے فقیر، یہاں خیرات نہیں بٹتی۔ آگے بڑھ۔" ایک نوکر نے ڈنڈا پھٹکارا۔ صادق نے پیچھے ہٹنے کے بجائے وہ کپڑا نکالا اور اس کا ایک کونہ کھول کر سیٹھ کی طرف کر دیا۔ سورج کی روشنی اس سونے کے کام پر پڑی اور ایک پل کے لیے سیٹھ کی آنکھیں چوندھیا گئیں۔ سیٹھ منیلال جو کپڑوں کا بڑا پارکھ تھا، اپنی گدی سے اچھل پڑا۔ وہ ننگے پاؤں دوڑتا ہوا باہر آیا۔ اس نے صادق کے ہاتھ سے وہ کپڑا لیا اور اسے الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا۔ "یہ، یہ کام..." سیٹھ بڑ بڑائی۔ "یہ ٹاٹ پر زر دوزی اور ٹانکے اتنے باریک کہ سوئی کی جگہ بھی نہ دکھے۔ یہ تو شاہی گھرانے کا کام لگتا ہے۔ 100 سال پہلے ہوتا تھا۔" سیٹھ نے حیران ہو کر صادق کو دیکھا۔ "یہ تمہیں کہاں سے ملا؟ سچ سچ بتاؤ۔" سیٹھ نے پوچھا۔ لیکن اس بار اس کی آواز میں پولیس کی دھمکی نہیں بلکہ ایک عجیب سا آداب اور لالچ تھا۔ صادق نے اپنی چھاتی پر ہاتھ رکھا اور پھر گھر کی طرف اشارہ کیا۔ "مطلب میرے گھر سے؟ تمہارے گھر سے؟ تمہاری بیوی نے بنایا ہے؟" سیٹھ کو یقین نہیں آ رہا تھا۔ تبھی دکان کے اندر بیٹھی ایک بہت امیر اور مغرور خاتون جو وزیر خزانہ کی بیگم تھی، باہر آئی۔ اس کی نظر اس کپڑے پر پڑی۔ "آہ، منیلال، یہ کیا چیز ہے؟" بیگم نے لپک کر وہ کپڑا لے لیا۔ "اتنی نایاب چیز، یہ ڈیزائن تو میں نے آج تک نہیں دیکھا۔ یہ کھردرا پن اور یہ نزاکت۔ یہ تو بالکل نیا فیشن بن سکتا ہے۔ مجھے یہ چاہیے ابھی۔" بیگم نے بغیر دام پوچھے ایک بھاری بھرکم تھیلی سیٹھ کی طرف پھینک دی۔ سیٹھ منیلال کی باچھیں کھل گئیں۔ اس نے تھیلی میں سے اپنا منافع رکھا اور باقی پیسے جو صادق کی امید سے 10 گنا زیادہ تھے، صادق کے ہاتھ میں رکھ دیے۔ "سُنو۔" سیٹھ نے صادق کا ہاتھ پکڑ لیا۔ "اپنی بیوی سے کہنا ایسے اور ٹکڑے بنائے۔ جتنا مال لاؤ گے اتنا پیسہ ملے گا۔ کل ہی دوسرا ٹکڑا چاہیے۔" صادق جب پیسوں کی تھیلی لے کر دکان سے نکلا تو اس کا دل خوشی سے ناچ رہا تھا۔ وہ دوڑتا ہوا گھر جانا چاہتا تھا اور زینب کو یہ خوشخبری سنانا چاہتا تھا۔ لیکن اسے خبر نہیں تھی کہ ایک اور آفت اس کے پیچھے لگ چکی ہے۔ بستی کا غنڈہ شیرا جو پچھلے کچھ دنوں سے صادق پر نظر رکھے ہوئے تھا۔ اس نے صادق کو سیٹھ کی دکان سے نکلتے اور پیسوں کی تھیلی چھپاتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ شیرا نے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا اور پان کی تھوک تھوکتے ہوئے کہا۔ "دیکھا، میں نے کہا تھا نا یہ لنگڑا کوئی خزانہ چھپائے بیٹھا ہے۔ پہلے شاہی سکہ اور اب سیٹھ منیلال کے پاس سے نوٹوں کی گڈی۔ آج رات اس کی جھونپڑی کی تلاشی لی جائے گی۔ اور اگر اس نے زبان نہیں کھولی تو اس کی وہ خوبصورت بیوی تو ہے ہی حساب برابر کرنے کے لیے۔" شیرا اور اس کے غنڈے صادق کے پیچھے پیچھے بستی کی طرف چل پڑے۔ جبکہ صادق بے خبر اپنی دھن میں مگن تھا۔

ادھر جھونپڑی میں زینب بے چینی سے ٹہل رہی تھی۔ اچانک اسے لگا جیسے کسی نے دروازے پر دستک دی ہے۔ اس نے سوچا صادق آ گئے۔ وہ لپکی اور دروازہ کھولا۔ لیکن سامنے صادق نہیں تھا۔ سامنے ایک بوڑھا، کوبڑا فقیر کھڑا تھا۔ جس کی آنکھیں سفید تھیں اور ہاتھ میں ایک عجیب سا کٹورا تھا۔ "بیٹی،" فقیر نے گھر گھراتی آواز میں کہا۔ "اللہ کے نام پر کچھ دے دے۔ بہت بھوکا ہوں۔" زینب کے پاس دینے کو کچھ نہیں تھا۔ گھر میں ایک بھی روٹی نہیں بچی تھی۔ اس نے افسوس سے کہا۔ "بابا، ابھی گھر میں کچھ نہیں ہے۔ میرے شوہر آنے والے ہیں، تب آئیے گا۔" فقیر نے ایک عجیب سی ہنسی ہنسی جس سے زینب کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ "تیرے شوہر تو آ رہے ہیں بیٹی، لیکن ان کے ساتھ موت بھی آ رہی ہے۔" فقیر نے کہا اور مڑ کر دھوئیں میں غائب ہو گیا۔ زینب کا دل زور سے دھڑکا۔ یہ کیا اشارہ تھا؟ اسے صادق کی بہت فکر ہونے لگی۔ وہ باہر نکل کر دیکھنے ہی والی تھی کہ اسے دور سے صادق آتا دکھائی دیا۔ لیکن اس کے کچھ ہی قدم پیچھے اندھیرے میں چھپتے ہوئے شیرا اور اس کے آدمیوں کی پرچھائیاں بھی رینگ رہی تھیں۔ شہزادی سمجھ گئی کہ آج رات قیامت کی رات ہونے والی ہے۔ زینب نے صادق کو اندر کھینچا اور جھونپڑی کا کمزور دروازہ بند کر کے بھاری صندوق اڑا دیا۔ لیکن وہ جانتی تھی کہ یہ لکڑی کا دروازہ شیرا کے وحشی پن کو نہیں روک پائے گا۔ باہر قدموں کی آہٹ رکی اور پھر ایک زور دار لات دروازے پر پڑی۔ "کھولو ورنہ آگ لگا دوں گا۔" شیرا کی آواز گونجی۔ صادق نے گھبرا کر زینب کو پیچھے کیا اور خود ایک ڈھال بن کر کھڑا ہو گیا۔ اس نے پاس پڑا ہوا لوہے کا چمٹا اٹھا لیا۔ اس کی آنکھوں میں موت کا خوف نہیں بلکہ اپنی زینب کی حفاظت کا جنون تھا۔ دروازہ دوسری ہی ٹکر میں چرمر ا کر ٹوٹ گیا۔ شیرا اور اس کے تین غنڈے اندر داخل ہوئے۔ ان کی آنکھوں میں ہوس اور لالچ کے شعلے تھے۔ "تو یہ ہے وہ خزانہ۔" شیرا نے صادق کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھیلی اور زینب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ "لنگڑے، یہ پیسہ اور یہ چھوکری دونوں اب شیرا کے ہیں۔" صادق شیر کی طرح ان پر جھپٹا۔ ایک کمزور، بھوکا اور معذور جسم۔ لیکن روح ایک محافظ کی تھی۔ اس نے چمٹا گھمایا اور ایک غنڈے کے سر پر دے مارا۔ غنڈہ چیخ کر گرا۔ لیکن شیرا طاقتور تھا۔ اس نے صادق کی لاٹھی پکڑ لی اور اسے اتنی زور سے دھکا دیا کہ صادق دیوار سے ٹکرا کر گر پڑا۔ اس کے ماتھے سے خون بہنے لگا۔ "نہیں!" زینب چیخی اور صادق کی طرف دوڑی۔ شیرا نے زینب کا ہاتھ پکڑ لیا۔ "چل میرے ساتھ۔ مہلوں کی رانی کو اب میں اپنی داسی بناؤں گا۔" زینب نے پوری طاقت سے विरोध کیا۔ لیکن وہ بے بس تھی۔ تبھی جھونپڑی کے ٹوٹے ہوئے دروازے سے ایک جلتا ہوا کوئلہ اڑتا ہوا آیا اور سیدھا شیرا کی گردن پر لگا۔ شیرا چیخا اور پیچھے ہٹا۔ وہاں دروازے پر مائی جونی کھڑی تھی اور اس کے پیچھے بستی کی وہ تمام عورتیں تھیں جو دن بھر کوئلے کی کانوں میں کام کرتی تھیں۔ ان سب کے ہاتھوں میں جلتے ہوئے مشعل، گرم چمٹے اور پتھر تھے۔ "خبردار جو ہماری بیٹی کو ہاتھ لگایا۔" مائی جونی کی آواز میں شیرنی جیسی دہاڑ تھی۔ "ہم کوئلے میں رہتی ہیں شیرا۔ ہمیں جلانا مت سکھا ورنہ راکھ کر دیں گی۔" یہ وہ غیر متوقع موڑ تھا جسے کسی نے نہیں سوچا تھا۔ وہ غریب، دبی کچلی عورتیں جو شیرا کے نام سے کانپتی تھیں۔ آج زینب کے اخلاق اور صادق کی محبت نے انہیں ایک فوج بنا دیا تھا۔ شیرا نے دیکھا کہ پورا محلہ اس کے خلاف کھڑا ہے۔ عورتوں نے پتھر برسانے شروع کر دیے۔ شیرا اور اس کے غنڈے جو صرف کمزوروں کو دبانا جانتے تھے۔ اس منظم طاقت کو دیکھ کر دم دبا کر بھاگ کھڑے ہوئے۔

زینب دوڑ کر مائی جونی کے گلے لگ گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ مائی جونی نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ "رو مت پاگل۔ تو نے ہمیں عزت دی، ہمیں انسان سمجھا تو کیا ہم تجھے جانوروں کے حوالے کر دیتے؟ آج سے تو اس بستی کی بیٹی ہے۔" اس رات کے بعد فدا نور کی اس اندھیری بستی میں ایک نیا سورج اُگا۔ صادق اور زینب نے اس حادثے کو اپنی طاقت بنا لیا۔ زینب نے مائی جونی اور بستی کی دوسری عورتوں کو ٹاٹ پر سونے کی کڑھائی کا ہنر سکھانا شروع کیا۔ وہ عورتیں جو کل تک صرف کوئلہ ڈھوتی تھیں، اب कलाकार بن گئیں۔ صادق نے ایک سمجھدار تاجر کی طرح کام سنبھالا۔ وقت تیزی سے گزرا۔ 2 سال بیت گئے۔ ٹاٹ زری کا کام اتنا مشہور ہوا کہ دور دراز کے ملکوں سے لوگ اس نایاب کپڑے کو خریدنے آنے لگے۔ لوگ اسے "جلت" کہتے تھے۔ بستی کی کا یا پلٹ گئی۔ اب وہاں پکے مکان تھے۔ بچے مدرسے جاتے تھے اور ہر گھر میں خوشحالی تھی۔ صادق اور زینب اب بھی اسی جگہ رہتے تھے۔ لیکن اب وہ جھونپڑی ایک خوبصورت گھر بن چکی تھی۔ صادق کا علاج زینب نے شہر کے سب سے بڑے حکیم سے کروایا جس سے اس کا لنگڑا پن کافی حد تک ٹھیک ہو گیا تھا اور اچھا کھانا کھانے سے اس کا چہرہ بھی بھر گیا تھا۔ وہ اب ایک رعب دار اور خوبصورت جوان لگتا تھا۔

لیکن دوسری طرف شاہی محل میں ایک عجیب قیامت آئی ہوئی تھی۔ سلطان اعظم علی خان جس نے اپنی بیٹی کو فقیر کے حوالے کیا تھا۔ ایک لا علاج بیماری کا شکار ہو گیا تھا۔ یہ بیماری جسمانی نہیں، روحانی تھی۔ جس دن اس نے زینب کو نکالا، اسی دن سے اسے نیند آنی بند ہو گئی۔ اسے ہر وقت اپنی بیٹی کی معصوم آنکھیں یاد آتی۔ اس کا غرور ٹوٹ چکا تھا۔ اوپر سے پڑوسی ملک نے حملہ کر کے اس کی آدھی سلطنت چھین لی تھی۔ اس کا خزانہ خالی ہو رہا تھا اور وزیر اسے چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔ سلطان اب بوڑھا اور لاچار ہو چکا تھا۔ اس کی آنکھوں کی روشنی تقریباً جا چکی تھی۔ حکیموں نے جواب دے دیا تھا۔ کسی نے سلطان سے کہا۔ "حضور، سنا ہے شہر کے باہر، کالی بستی میں ایک بی بی نور رہتی ہیں۔ جن کے ہاتھ کی بنی چادر اوڑھنے سے بے چین روح کو سکون ملتا ہے۔ وہ بہت نیک خاتون ہیں۔ ان کی دعا میں بہت اثر ہے۔" مرتا کیا نہ کرتا۔ سلطان نے حکم دیا کہ اسے اس بی بی نور کے پاس لے جایا جائے۔ ایک شاہی پالکی جو اب پھٹے حال تھی، کالی بستی میں پہنچی۔ سلطان نے دیکھا کہ جس جگہ کو وہ جہنم سمجھتا تھا، وہ جگہ آج اس کے محل سے زیادہ صاف اور خوشحال تھی۔ سلطان کو سہارا دے کر اس مکین گھر کے آنگن میں لایا گیا۔ صادق جو اب وہاں کا سردار تھا، چبوترے پر بیٹھا حساب کتاب کر رہا تھا۔ سلطان اسے پہچان نہیں پایا۔ لیکن صادق نے سلطان کو فوراً پہچان لیا۔ صادق کی آنکھوں میں ایک پل کے لیے پرانا غصہ آیا۔ لیکن پھر زینب کی دی ہوئی تعلیم یاد آ گئی۔ زینب گھر کے اندر سے باہر آئی۔ اس نے جب اپنے بوڑھے، بیمار اور لاچار باپ کو دیکھا تو اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔ "ابو جان!" سلطان چونک گیا۔ یہ آواز، یہ لہجہ۔ اس نے اپنی دھندلی آنکھوں کو پھاڑ کر دیکھا۔ سامنے زینب کھڑی تھی، لیکن وہ ڈری ہوئی شہزادی نہیں بلکہ ایک باوقار ملکہ لگ رہی تھی۔ "زینب، میری بیٹی!" سلطان گھٹنوں کے بل گر پڑا۔ "کیا میں خواب دیکھ رہا ہوں؟" زینب دوڑ کر آئی اور اپنے باپ کو تھام لیا۔ سلطان پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ "مجھے معاف کر دے بیٹی۔ میں نے تجھے جہنم میں دھکیلا اور تو نے اسے ہی جنت بنا دیا۔ میرا غرور خاک میں مل گیا۔ میں نے کہا تھا کہ میں رازق ہوں، لیکن آج میں تیرے در پر بھکاری بن کر آیا ہوں۔" تبھی صادق آگے بڑھا۔ اس نے سلطان کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ سلطان نے نظر اٹھا کر اس شخص کو دیکھا جسے اس نے "کالا کوڑھی" کہا تھا۔ صادق نے اپنی جیب سے ایک شاہی مہر نکالی اور سلطان کے سامنے رکھ دی۔ سلطان نے وہ مہر دیکھی اور سن رہ گیا۔ یہ اس کے سب سے وفادار سپہ سالار منصور کی مہر تھی جو برسوں پہلے ایک جنگ میں غائب ہو گیا تھا۔ سلطان نے کانپتی آواز میں پوچھا۔ "یہ، یہ تمہارے پاس کہاں سے آئی؟ یہ تو میرے بیٹے جیسے سپہ سالار منصور کی ہے۔" صادق نے جو برسوں سے خاموش تھا، پہلی بار اپنے ہونٹ کھولے۔ सदمے اور جذبات نے اس کی آواز واپس لوٹا دی تھی۔ اس نے بھاری اور بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔ "میں ہی منصور ہوں، سلطان۔" سب سن رہ گئے۔ زینب بھی حیران تھی۔ صادق نے کہا۔ "یاد کیجیے حضور، اس جنگ میں جب بارود پھٹا تھا، میرا چہرہ جل گیا تھا اور آواز چلی گئی تھی۔ میں اپنی جان بچا کر آپ کے پاس واپس آیا تھا لیکن میرے جلے ہوئے چہرے اور گندے کپڑوں کی وجہ سے آپ کے پہرے داروں نے مجھے دھکے مار کر نکال دیا تھا۔ میں نے آپ سے ملنے کی بہت کوشش کی لیکن آپ نے حکم دیا تھا کہ بد صورت بھکاریوں کو میرے شہر سے دور رکھا جائے۔ میں وہی وفادار منصور تھا جسے آپ نے اپنی رئیسیت کے نشے میں پہچاننا تو دور، جانور سمجھ کر اپنی بیٹی کے ساتھ سزا کے طور پر بیاہ دیا۔" سلطان کے پیروں تلے زمین کھسک گئی۔ اسے احساس ہوا کہ اس کا گناہ کتنا بڑا تھا۔ اس نے جس فقیر کو حقارت سے دیکھا تھا، وہ اس کا اپنا ہی کھویا ہوا ہیرو تھا۔ اس نے جسے مٹی سمجھا، وہ سونا تھا۔ سلطان نے شرمندگی سے اپنا سر جھکا لیا۔ "یا اللہ، تو نے مجھے میرے ہی کیے کی کیا خوب سزا دی۔ میں نے ہیرے کو پتھر سمجھا۔" سلطان نے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی۔ زینب اور منصور نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ "معافی مانگنے والا بادشاہ، ظلم کرنے والے بادشاہ سے بڑا ہوتا ہے۔" زینب نے کہا۔ سلطان نے کہا۔ "چلو واپس محل چلو۔ یہ سلطنت اب تم دونوں کی ہے۔ تم ہی اس کے اصلی حقدار ہو۔" لیکن زینب اور منصور نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور مسکرائے۔ "نہیں، ابا جان۔" زینب نے کہا۔ "ہمیں وہ پتھر کا محل نہیں چاہیے۔ ہم نے اپنی محنت سے ان غریب لوگوں کے بیچ جو دنیا بسائی ہے، اصلی سکون یہی ہے۔ بادشاہت تخت پر بیٹھنے سے نہیں، لوگوں کے دلوں میں راج کرنے سے ملتی ہے۔" بادشاہ بچی ہوئی زندگی اسی بستی میں اپنی بیٹی اور داماد کی خدمت میں گزارنے لگا۔ اس نے اپنا تاج اتار کر رکھ دیا اور اپنی آخری سانس تک وہیں رہا۔ یہ گواہی دیتے ہوئے کہ اللہ ہی دینے والا ہے اور انسان کا گھمنڈ بس ایک پانی کا بلبلہ ہے۔

پیارے دوستو، یہ کہانی ہمیں زندگی کا انمول سبق سکھاتی ہے کہ انسان چاہے تو چھین سکتا ہے، لیکن اگر اللہ دینا چاہے، تو وہ بنجر زمین سے بھی سونا اُگا سکتا ہے۔ رزق اور عزت کا مالک صرف وہی ایک ذات ہے۔ زینب نے رونے دھونے کے بجائے حالات کا سامنا کیا۔ صبر اور حلال محنت ہی وہ کنجی ہے جو ہر بند دروازے کو کھول سکتی ہے۔ ایک عورت اگر ٹھان لے تو وہ کھنڈر کو بھی محل بنا سکتی ہے۔ زینب نے ثابت کیا کہ اصلی شہزادی وہ نہیں جو ریشم پہنے، بلکہ وہ ہے جس کا کردار اونچا ہو۔ پیارے دوستو، اگر اس کہانی نے آپ کے دل کے کسی کونے کو چھوا ہے تو ویڈیو کو لائک ضرور کریں اور کمنٹ میں اپنی رائے لکھنا نہ بھولیں۔ ایسی ہی بہترین سسپنس اور جذبات سے بھری کہانیوں کے لیے ہمارے چینل کو ابھی سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن کو دبانا بالکل نہ بھولیں تاکہ ہماری ہر نئی کہانی سب سے پہلے آپ تک پہنچے۔ اپنے دوستوں اور خاندان کے ساتھ اس ویڈیو کو شیئر کریں۔ اگلی بار پھر ملیں گے ایک نئی داستان کے ساتھ۔ تب تک کے لیے اپنا خیال رکھیں۔ اللہ حافظ۔