📱

Get Our Mobile App

Take your business learning on the go!

Download on the App StoreGet it on Google Play

Husn e Akhlaq-حسن اخلاق | Lesson 03 | Dr. Farhat Hashmi | The Islamic Knowledge

The Islamic Knowledge2:53:33

Transcription

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بسم اللہ الرحمن الرحیم [موسیقی] اور پھر انسان اس کے لیے دوڑ دھوپ کرنے لگتا ہے کوشش کرنے لگتا ہے اور صرف کوشش پر ہی بس نہیں دعاؤں کے ساتھ اللہ کا سہارا لیتا ہے اور خوب دعائیں مانگتا ہے اگر ہمیں واقعی اس بات کا احساس ہو جائے تو یقیناً ہم اس کے پیچھے دوڑیں گے اور پھر اس کے لیے نا صرف یہ کہ کوشش کریں گے اس کتاب میں لکھی [موسیقی] یہ دل [موسیقی] [موسیقی] [موسیقی] وہ دینی اور ہدایت دے مجھے یا رحمن بہترین اخلاق کی طرف یعنی اللہ تو مجھے بہترین اخلاق کی طرف رہنمائی عطا کر مجھے وہ راستہ دکھا جو بہترین اخلاق کی طرف لے جاتا ہو اس کے بہترین کی طرف یعنی اخلاق کے بہترین حصے کی طرف ہے تو ہی مجھے راستہ دکھا سکتا ہے اور یہ بہت بڑی حقیقت ہمیں اس بات کا عرفان کرنا ہوگا کہ ہماری جتنی بھی خرابیاں ہیں ان کو اللہ کے سوا کوئی بھی نہیں ہٹا سکتا کسی انسان کے بس میں نہیں کسی کی مجال نہیں کسی کی طاقت نہیں کیونکہ ایک روایت سے ہمیں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ اگر کوئی یہ پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل گیا کسی نے اپنی عادت چھوڑ دی ہے تو اس کا نہ مانو یعنی بری عادتیں چھوڑنا برے اخلاق کو ترک کرنا آسان کام نہیں یہ پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہلانے سے بھی زیادہ مشکل پہاڑ تو زمین میں گڑے ہوئے لیکن بری عادتیں ہمارے رگ و پے میں ہماری روح اور دسمبر جان کا حصہ بنی پڑی ملی ہوئی ان کو ان سے نکالنا اور چھڑانا اور باہر نکال کر پھینکنا آسان نہیں اللہ کی مدد کے بغیر یہ کام نہیں ہو سکتا اس لیے اللہ سے دعا کرنے کے ساتھ ساتھ کوشش بے حد ضروری ہے وہ دن [موسیقی] [موسیقی] پانی آج ہم پڑھتے ہیں نیا سبق اصول الم ان جسٹس میں کسی چیز کو اس کی جگہ سے ہٹا کر کسی دوسری جگہ رکھنا اسی طرح ہر وہ کام جس کو وقت سے پہلے کیا جائے اسے پر ظلم کا اطلاق ہوتا ہے ہر وہ کام جو وقت سے پہلے کیا جائے وہ کیا ہے تو اس کا معنی ہوتا ہے رات کا تاریک ہونا رات کا تاریک ہونا تاریک ہونے کا کیا معنی اندھیرا ہونا اس لیے ہم اردو میں بھی ظلم کو اندھیر سے تعبیر کرتے ہیں یہ تو بڑا اندھیر ہو گیا اسی طرح مخلوق کے ساتھ نا دینا یا کسی چیز کے ساتھ بے موقع انسانوں کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے ظلم ہواؤں کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے اور جنوں کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے کا حال اللہ تعالی و اللہ ھو یہ دلوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا لال لال کو پسند ہے [موسیقی] کل کہتے ہیں کل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس میں جو وہ روایت کرتے ہیں اپنے رب سے کون بات کرتے رسول اللہ اللہ ہے تو اللہ تعالی نے کیا فرمایا ان حرام تو بے شک میں نے حرام کر دیا اور اپنے بندوں پر نا تم ایک دوسرے پر ظلم کرو اسے مسلم نے روایت کیا کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب سے یہ نقل کیا نقل کیا مراد روایت کی کہ میں نے اپنے نفس پر ظلم کو حرام کیا ہے اور اپنے بندوں کے درمیان بھی اسے حرام کر دیا ہے تو تم آپس میں ظلم نہ کرو ان خالی ۲۰۱۹ ہے اور اسلم کو سلامت رکھیں نام کیا تھا ان کا ان کا نام بھی الگ سے آپ نے کئی ضرور سنا پڑھا ہوگا تو ہمیں ان کا راستہ معلوم کرنا ہے کہ وہ کون تھے کیا کرتے تھے کیا نہیں کرتے تھے ان کی زندگی کیسی تھی مکہ کے قریب ایک جگہ تھی وردان نامی ایک بستی تھی جو راستے پر پڑتی تھی تجارتی سہارا پر تھی یعنی مکہ کے لوگ جب شام کی طرف سفر کر کے جاتے تجارت کرتے تو راستے میں یہ بستی آئی ان کا قبیلہ جو تھا وہ ڈاکو جان کے لیے مشہور تھا ڈاکو لوگ تھے اور ان کا کام کیا تھا کہ جب بھی کوئی مسافر وہاں سے گزرے بستی میں قائم کریں تجارت کر کے یار ہوتے تھے جا رہے ہوتے تھے ان کے وہاں خرچ کریں اپنا کام چلائیں ان لوگوں سے تعلق رکھتے تھے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت دی لوگوں کو آپ نے نبوت کا دعوی کیا تو مکہ کی چوک ایک مرکزی حیثیت تھی تو یہ بہت جلد ادھر ادھر چرچا ہو گیا مکہ کے لوگ تاجر لوگ تھے کچھ اور روکتہ وغیرہ تو نہیں تھا وہاں تو ان کا آمدنی کا ذریعہ کیا تھا تو الہیم رحمان اور گرمیوں میں شام کی طرف اور سردیوں میں یمن کی طرف یہ سفر کرتے تھے اور تجارت کرتے تھے بہرحال اب جب یہ تجارت کر کے باہر کو جاتے ادھر ادھر نکلتے تو راستے میں بھی باتیں ہوتی راستے میں جو قبیلے آتے ہیں جو لوگ ملتے ہیں ان کو بھی بتاتے جو لوگ مکہ میں حج یا عمرے پر آتے ہیں ان کو بھی پتہ چلا کہ یہاں ایک شخص کا دعوی کر دیا ہے اس لیے میسج بہت جلدی ادھر ادھر سپریڈ ہوا اپنے بھائی کو بھیجا جو کہ شاعر تھے ان کا نام ۱۹ تھا ان کو بھیجا کہ جاؤ اور تم پتہ کرو کہ وہ شخص کیا کہتا ہے وہ گئے اور انہوں نے جا کر ان کی کچھ باتیں وہاں رسنی اور چونکہ مکہ والے آپ کے بہت خلاف تھے تو کچھ اچھا امپریشن نہیں لے کر گئے واپس گئے تو بتایا کہ مکہ والے یہ کہتے ہیں ہاں میں نے جو کچھ سنا ہے ان کا وہ یہ ہے کہ نیکی کا ہم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں وہ خود یہ کرتے ہیں اور لوگ ان کے بارے میں یہ کہتے ہیں تو ان کی تسلی نہیں ہوئی یہ خود سفر کر کے گئے لیکن چونکہ ماحول آپ کے خلاف تھا تو کسی سے پوچھنا گوارا نہیں کیا یا پوچھا نہیں جگہ تھی وہیں پر کئی دن رہے حضرت علی کہاں سے اکثر کیوں آیا اور روز ہی ہوتا ہے تو ان کو اپنے ساتھ لے کر گھر پر کھانا وانا ملا ہے پوچھا کہ تم یہاں کیوں آئے ہو کیا کہتا ہے دوبارہ معلوم کرنے کے لیے ان کا کہ ان تک پہنچانا آسان نہیں کیونکہ لوگوں کو اگر پتہ چل گیا کہ تم ان سے ملنے کے لیے آئے ہو تو تمہاری خیر نہیں ایسا کرو چپکے چپکے میرے پیچھے آؤ اگر کہیں خطرہ ہوا تو ادھر ادھر ہو جانا ورنہ جہاں میں جاؤں گا میرے پیچھے پیچھے آتے جانا اور جہاں میں پہنچوں وہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے تم ملاقات کر سکو گے بہرحال یہ چپکے چپکے وہاں پر پہنچے اور دیکھتے ہی کہتے ہیں السلام علیکم یا رسول اللہ یعنی یہ دیکھتے ہی پہچان گئے کہ یہ اللہ کے رسول ہی ہیں اور یہ شخص جھوٹ شخص نہیں ہو سکتا اور فوراً اسلام قبول کیا اور یہ چھوٹے مسلمان تھے یعنی بہت ابتدائی دور میں حضرت ابو بکرہ مسلمان ہوئے اور اس کے بعد ایک طرح سے لوگ چھپی چھپی دل میں مسلمان تو تھے لیکن اظہار نہیں کرتے آپ نے سخی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک نصیحت کی جو جو کچھ سیکھا ہے اپنے قبیلے کو سکھاؤ اور ہاں مکہ والوں کو پتہ نہ چلے ورنہ تمہاری صحت جائے گی اور ایک بات یہ ہے کہ تم اس وقت اپنے قبیلے کے پاس ہی رہو جب تک کہ تمہیں یہ خبر نہ ملے تو وہیں رہنا کیونکہ بہادر سے تھے جس قبیلے سے تعلق رکھتے تھے تو وہ نڈر قسم کا قبیلہ تھا کہ کیوں نہ میں اپنے اسلام کا اظہار کر کے جاؤں اعلان کیا اور ہوا وہی جو ہونا تھا لوگوں نے اتنا مارا کہ ان کی جان کے لالے پڑ گئے تو آخر کسی نے کہا تمہیں معلوم ہے جہاں سے تم گزرتے ہو تمہارا کوئی قافلہ سلامت نہیں گزرے گا اگر تم نے اس کو کچھ کیا کہا جاتا ہے مدینہ جانے کے بعد انہوں نے دن رات اپنے سیکھنے میں صرف کی بہت کچھ سیکھا اس لیے آپ دیکھیں گے کہ کون صاحب میں سے ہیں جن کی احادیث کافی تعداد میں روایت ہوئی ہیں دنیا کی دولت اور دنیا کے مال سے کوئی دلچسپی نہ تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تو بہرحال سیکھنے سے کھانے میں مشہور رہے لیکن جب آپ کی وفات ہوئی تو مدینہ میں ان کا دل نہیں لگتا تھا شام کی طرف سفر کر گئے وہاں پر امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی حکومت تھی ان کے ساتھ ان کے دیکھتے تھے کہ لوگوں کے اندر دین سے زیادہ دنیا کی دلچسپی بڑھتی چلی جا رہی ہے تو ان کی بنتی نہیں تھی کہ تم لوگ دنیا کی محبتیں جب حضرت عثمان نے دیکھا کہ لوگ ان کی وجہ سے پریشان ہوتے ہیں اور یہ لوگوں کی وجہ سے پریشان ہوتے ہیں تو ان کو مشورہ دیا کہ آپ ربس نام کی ایک بستی میں چلے جائیں یہ اور ان کی ایک بیٹی جن کا نام لیلیٰ تھا بی بی اور بیٹی کے ساتھ یہ مدینہ سے باہر ایک گاؤں میں زندگی بھر بسر کرنے لگے کہ میں دنیا کی فلموں میں نہیں رہ سکتا اللہ تعالی نے ہر ایک کی طبیعت بنائی ہے اور ہر ایک کا مزاج الگ ہے پر وہی رہتے اپنی عبادت کرتے اور اللہ اللہ کرتے ہوئے قافلے کے ساتھ گزر رہے تھے تو راستے میں پتہ چلا کہ ان پر نظر کا عالم ہے جنازہ پڑھا اور دفن کیا وہیں پر دفن کرنے کے بعد ان کی بی بی اور بیٹی کو واپس مدینہ لے آئے اور پھر جب تک انہوں نے ان کو لک افٹر کیا ایک دفعہ کہا جاتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سب سے بہت محبت کرتے تھے جب آپ معراج میں تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے آپ نے ان کو خاص طور پر بلوایا ان کا ہاتھ پکڑا اور اپنی جس سے لگایا دوست جب تک زندہ رہے کچھ نہیں رکھا اپنے پاس اور ساری فکر ٹھکانے پر جا پہنچی انہیں مسیح الاسلام بھی کہا جاتا ہے یہ گزر رسیا کیا کسی چیز کو اس کی اصل جگہ سے ہٹا دینا بے موقع رکھنا اپنی حد سے تجاوز کرنا اپنی حد سے آگے بڑھنا اپنے حق سے زیادہ طلب کرنا کیا ہے ظلم اپنے حق سے زیادہ لینا زیادہ مانگنا اپنے فائدے کے لیے یہ سب کچھ باقی رہ سکتا ہے نہیں ٹکراؤ اور ٹکراؤ کے نتیجے میں فساد اور ہر چیز کا ختم امن و درہم برہم ہو جائے گا لیکن افسوس یہ کہ جن انسانوں کے لیے یہ سب کچھ بنا ہے وہ یہ سب بھول گئے آج اگر ہم اپنے آپ کو دیکھیں تو ہم میں سے کتنے لوگ اپنے دائرے میں رہ کر اپنی ذمہ داری پوری کرنے والے ہیں اور اپنے دائرے سے نکال کر دوسروں کے دائرے میں کام نہیں رکھتے اکثر لوگ اپنے فرائض بھول جاتے ہیں ان کی کیا ذمہ داری ہے ان کا کیا کام ہے ان کو کیا کرنا چاہیے [موسیقی] کیا ہے اگر دیکھا جائے تو بہت سی بے چینی بد سکونی بد نظمی خرابی اسی وجہ سے ہوتی ہے کیونکہ اللہ نے ہر ایک کو اس کا ایک حق اور ایک مقام دیا تو دنیا میں امن نہیں ہو سکتا اور جو لوگ دنیا میں اس زمین پر اور امن طریقے ظلم کی قسم کا ہوتا ہے جیسے کسی کا خون بہانا یہ سب سے بڑی قسم کسی کی جان لینا پھر اسی طرح کسی کو مارنا ہٹ کرنا پھر اسی طرح جسمانی تکلیف کی قسم ہم جسمانی تکلیف دوسروں کو دیتے کسی سے بہت زیادہ کام لینا اس کی وہ ستر طاقت سے بڑھ کر اس پہ بوجھ ڈالنا پھر اسی طرح دوسروں کے جذبات کو نقصان دینا دوسروں کے جذبات کو مجبور کرنا یہ کسی کو مینٹلی ایموشنلی ٹارچر کرنا ایک ہے فزیکل ٹارچر کرنا یعنی کسی کو ہٹ کرنا مارنا پیٹنا یہ جان سے مار دینا یہ تو ہے اسی کے سامنے یا پیچھے دونوں طرح اس کو رسوا کرنا کسی کی پیٹھ پیچھے اس کی برائی کر کے اس کو نقصان پہنچانا اس کی عزت اور شہرت کو داغدار کرنا حکیم بچوں کے لیے کسی کمزوری یا ویکنس کو بار بار بیان کرنا تو یہ تمام چیزیں کیا جس سے دوسرے کو ایموشنل یا مینٹل ٹارچر ملے ایسے کام کرنا کہ جس سے دوسرا اذیت میں مبتلا ہو اور جان بوجھ کر ایسے کام کرنا جب پتہ بھی ہو کہ دوسرے شخص کو یہ چیز پسند نہیں تو بلا وجہ اس کو ستانے کے لیے اس کو پریشان کرنے کے لیے صرف مزے کی خاطر کیونکہ کچھ لوگوں کی عادت یہ ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کو ستا کر اس سے مزہ لیتے ہیں دوسروں کو پریشان کر کے اس پر خوش ہوتے تو یہ ظلم شامل ہو جاتا ہے پھر اسی طرح حکومت ہے رشتہ داروں کے ہم ہے پھر آپ دیکھیں ایک حق کو اتنا زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کرنا کہ دوسرے حق بھول جانا یہ عدل کے خلاف ہے یہ تو عدل کے خلاف ڈیمانڈ کر رہا کوئی نظر رکھے ہوئے اور اپنے رویے کو بھول چکا ہے دوسروں کو میں چھوڑوں گا نہیں میں معاف نہیں کروں گا مثال کے طور پر آپ دیکھیں کہ ہمارے وہاں عموماً گھروں میں لڑائی فساد کیوں ہوتے ہیں وہ ساس بہو کا جھگڑا ہی آپ دیکھیں ایک حدیث کہتی ہے کہ تم پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے تمہاری ماں کا ہے اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ کس کا ہے آپ نے فرمایا اپنی ماں سے کرو پھر تین دفعہ چوتھی دفعہ اس سے پتہ ہی چلا ہے کہ ماں کا حق جو ہے بہرحال زیادہ ہے ایک دوسری حدیث ہمیں یہ کہتی ہے کہ تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنی بیوی کے حق میں اچھا ہے اور میں تمہیں سب سے زیادہ اپنی بیویوں کے حق میں اچھا اب اگر ماں ایک حدیث لے لے اور بیوی دوسری لے لے تو کیا ہوگا تم نہیں ہو سکتا اب اگر ہر وقت بیوی یہی سنتی رہے کہ وہ سب سے زیادہ اپنی بیوی کے حق میں اچھے تھے لہذا میرا حق زیادہ ہے اور دوسری طرف ماں یہ سنتی رہے کہ سب سے زیادہ حق جو ہے وہ ماں کا ہے تو کیا ہوگا نتیجہ یاد یہ رکھیے ہے اسی لیے دوسری کی طلاق کا مطالبہ کرنا دوسری شادی کی تو کیا ہوتا ہے دوسری بیوی کیا کہتی کہ جب تک پہلے کو طلاق نہ دو گے تو میں نہیں بسوں گی اسی طرح ماں باپ کر دیتے ہیں جب تک تم اس بیوی کو طلاق نہیں دو گی تم ہماری شکل نہ دیکھنا میری بیٹے کو کہتے ہیں ہمارے لیے تو ماں ہو چکی اور اس گھر میں اس وقت کام رکھنا جب بیوی کو چھوڑ کر بہن بھائیوں کا خیال رکھتے رکھتے کیا ہوتا ہے کہ اپنے بچوں کو لوگ بھول جاتے ہیں اب اللہ تعالی نے بچوں کے اوپر خرچ کرنا اور دوسری طرف رشتہ داروں کا خیال رکھنا باقی خالہ ماموں چچا کو پی دیگر رشتہ داری اسی طرح بہن بھائی تو اس میں جو نکتہ میں سمجھنا چاہ رہی ہوں وہ کیا ہمارے موسم میں ظلم کی جو قسم پائی جاتی ہے کہ بازو کا ایک بندے کا حق اتنا زیادہ یاد کرتا ہے اس کے نتیجے میں دوسرے کا حق ختم ہو جاتی ہے یہاں ظلم کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے بہن بھائیوں کا خیال رکھنا رشتہ داروں کا خیال رکھنا ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ جو اور فرائض ہیں ان کی طرف توجہ دینا بھی ضروری ہے اس کے ساتھ ساتھ بہن بھائیوں کے اپنے بچوں کا خیال رکھنا ہو تو اس کا خیال ہی نہیں کرتے تیسری چیز ایک حق کی ادائیگی میں باقی حقوق مکس کر دینا اپنے فائدے کے لیے دوسروں کا نقصان کر دینا اسی طرح دوسروں کی ایک عام کے سمے کوئی لکھ رہا ہوں کیا لکھ رہے ہو تم ذرا مجھے دکھاؤ میں بھی پڑھوں یہاں تو خیر آپ کے پاس وقت نہیں ہوگا اس طرح کرنے کا لیکن جہاں لوگ اکٹھے رہتے ہیں اب وہ اگر بیٹھ کر کوئی کام کر رہی ہے کچھ پڑھ رہی تو ان کو بسا کر یوں لگتا ہے کہ جیسے کسی شخص کی کوئی پرائیویسی ہے ہی نہیں اس پر فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی ہر چیز کچھ لکھے یا کچھ کرے ہر چیز دوسروں کو بتائے کوئی فون ایا تو لگی بتائے کسی کا فون ایا تھا کچھ لکھا ہے تو لگی بتائے گھر سے واپس آئے تو لازمی بتائے کہ گھر میں کیا ہوا تھا ہر بات میں مداخلت کیا کھایا اس نے یہ تو جاسوس کی جو قسم ہے نا کیا چیز کہاں سے آئی ہے یہ کیا ہو رہا ہے وہ کیا ہو رہا ہے ان سب چیزوں میں دوسرے کی ذاتی زندگی میں ملاقات یہ بھی ظلم کی قسم ہے یہ اپنے دائرے سے باہر کام رکھنا ہے اسی طرح کام چھوڑ دینا دوسرے کو شروع کر دینا اس کو آپ اس مثال سے اگر سمجھیں کہ سارے سے سارے سیر کیا کر رہے ہیں اپنے راستے پر چل رہے ہیں مطلب بہت اچھی بات ہے دوسروں کے کام آنا بہت نیکی کا کام بہت بہترین بیمہ ہو اسپتال نہ لے کر جائے اور آپ ہم سائی اور رشتہ داروں کے بچوں کو دیکھنے کے لیے چلتے یہ ظلم ہے اسی طرح سب کا خیرات دوسرے پر صدقہ خراب کرنا بہت اچھی بات ہے لیکن اگر آپ کے اپنے بچے بھوکے جن کو کھلانا فرض ہے بیوی بچوں کا نام کا فرض ہے اگر اس کو چھوڑ کے آپ کسی اور کو ملا رہے ہیں صدقے کی نیت سے تو یہ بھی کیا ہو گیا ہاتھ ہے ان میں کمی بیشی کرنا جو ہے یہ بھی ظلم ہو جاتا ہے کسی دفتر میں اگر لوگ اکٹھے کام کر رہے ہیں ہر ایک اپنی اپنی ڈیوٹی ہے اب اگر کوئی شخص اپنی ڈیوٹی چھوڑ دیتا بس اگر کوئی چوکیدار گارڈ وہاں سے چھوڑ کر اپنا کام اور آکر ٹیلی فون کھڑے ہو کر ٹیلی فون اٹینڈ کرنا شروع کر دے تو یہ کیا سمجھتے ہیں اور دوسروں کے کام کرنا جو ہے یہ تو بہت خدمت خلق ہے اور یہ بھول جاتے ہیں اور گھر والے بھوکے بیٹھے رہے تو ظلم جو ہے عدل سے ہٹنے کا نام ہے چیزوں کو بے موقع رکھنے کا نام ہے دوسروں کو تکلیف دینے کا نام ہے اسی طرح انسانوں کے ساتھ کچھ اور ظلم بھی ہم کرتے ہیں مثلا کسی کا وقت ضائع کرنا کتنا بڑا ظلم ہے اس وقت کسی کو فون کال کر دیتے اور اس کو کیا کہتے ہیں کہ تم مجھے اس کھانے کی ریسپی بتاؤ اگر نماز کے وقت میں اعظم ہے کسی کی عزت چھین نہیں جاتی نہیں کسی کا وقت اور اس کی صلاحیتوں کو ضائع کرنا یہ بھی ذاتی ہے پھر اسی طرح اس میں کیا ہوتا ہے مثلا آپ کیا سمجھتے کہ آپ کا وقت قبضہ ہوتا ہے تو اس کو طعنہ دینا کہ ہم آئیں اور ہماری پرواہ نہیں اور اس طرف پھر ہم لوگوں کے ڈر سے کیا کرتے ہیں کبھی اللہ کا حق مارتے ہیں کبھی بندوں کو مارتے ہیں کبھی اس کا کبھی اس کا اور وہ ایک پورا سرکل چلا ہوا ہے ہر ایک دوسرے پر پھر کسی نہ کسی درجے میں آکر ذاتی کا مور تک ہو جاتا ہے پہلے شاید اتنا احساس نہیں تھا ہمیں کیونکہ احساس نہیں تھا نا کہ زندگی کتنی قیمتی چیز ہے اب وقت کے ساتھ ساتھ ہمیں سب کو احساس ہوتا چلا جا رہا ہے کہ وقت تھوڑی زندگی ہے زیادہ کام ہے اور پھر یوٹیوب پر ہے اس کا احساس ہونا شروع ہوتا ہے کہ یہ بھی فرض ہے یہ بھی ذمہ داری ہے یہ بھی کرنا ہے تو اس میں اگر تھوڑا سا بھی وقت کوئی بیکار میں زیادہ ہوتا ہے تو پھر زیادہ تکلیف ہو جاتی ہے اور شروع ہو جاتی ہے کہ جس سے وہ سبق تیار ہو جاتا ہے پھر اسی طرح ہم دوسروں کو اوپر اور کیا ظلم کرتے ہیں ان کو اپنی سانس سے کیسے تکلیف دیتے ہیں جیسے نہاتے نہیں یہ گندے کپڑے پہن کے دوسروں کے پاس بیٹھ جاتے ہیں اپنی سمیل سے پیاز لہسن کھا کر بیٹھ جاتے ہیں اس سے کیا ہے کہ اپنی سانس سے دوسروں کو اذیت دینا ان کے لیے بیٹھنا جینا دوبھر کر دینا پھر اسی طرح اپنی چیزوں پر ظلم ریسورسز کا غلط استعمال کرنا کیونکہ موجود تبھی ہے اس لیے انشاءاللہ ہم آج کے بعد یہی مکمل کرتے ہیں اس ایک حدیث پر اور اگلے ہفتے پھر انشاءاللہ آنے کی آپ نے کہاں کہاں کوشش کی اور کہاں کہاں جاتی ہوئی اس کو سامنے رکھ کر آپ دیکھیں کہ ہم دوسروں پر کس طرح بچوں کے ساتھ کیونکہ بچوں کے ساتھ جاتی کی ایک اور ٹیبل داستان ہے کہ ہم کہاں ان کے ساتھ ظلم کرتے ہیں شہر کے ساتھ پھر اسی طرح اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھانے پینے کی چیزوں کے ساتھ پھر ماحول کے ساتھ خود اپنے ساتھ اوریجنل اپنی سوچ سے لکھیے تم اپنی سوچ استعمال کریں گے تو اس سے کیا ہوگا احساس زیادہ ہوگا اور پھر جب یہ یاد رہے کہ جو کچھ ہم کسی کے ساتھ جاتی کرتے ہیں وہ قیامت کے دن عمل کی شکل میں دینا پڑے گی دنیا میں تو چھپ کر دیتے ہیں اور ہرجانہ بھر لیتے ہیں لیکن بھی بہت سے شروع کرنے والے کھڑے ہیں جو یہاں کچھ نہیں کہہ سکتے اور وہاں خوب خوب اپنا حق وصول کریں گے انشاء اللہ تعالی اسی موضوع پر مزید گفتگو کریں گے اور ہم سب اپنا حساب کریں اپنا جیسا لیں کہ ہماری زندگی میں دوسروں کے ساتھ جاتی کے کون کون سے ایسے کام ہیں جو ہمیں چھوڑنا ہے سبحان اللہ [موسیقی] ۲۰۱۸ ۲۰۱۸ دعا کیسے مانگتے آج ٹھیک ہے اور دل کی خوشبو کے ساتھ اپنے آپ میں غور کر کے پھر مانگے کہ واقعی اپنے لیے مانگ رہے تاکہ اگر ہم سب کو نصیب کرے جو ہماری حق کی خوبصورتی کا ذریعہ ہو پچھلے ہفتے کے کام میں آپ کو کیا دیا گیا تھا ڈائری نکال اور پڑھ کر بتائیے یہ ڈائری بنوانے کا مقصد کیا ہم اپنا پرسنل انالیسز الگ سے کرتے رہے اور جب یہ کورس ختم بھی ہو جائے تو اس ڈائری کو کسی وقت دیکھ کر پھر سے اپنا جائزہ لینے کی جو کچھ ہم نے سیکھا جو اپنا تجزیہ کیا وہ ہم جاری بھی رکھے ہوئے ہیں یا نہیں کیونکہ اگر آپ کا جو کے کھجور میں کہیں لکھ دیں گے تو بھی آپ کو دوبارہ نہیں ملے گا اور اگر آپ اپنے صرف آپ سے کم لیں گے تو بھی یاد نہیں رہے گا ہم بہت جلد بھولنے والے اور ویسے بھی کہہ دوں کہ قرآن کہتا ہے نا ایک بھول جائے تو دوسرا یاد کر ہے اس کو اگر آپ واقعی سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں جو کچھ آپ پڑھ رہے ہیں تو اس کے لیے آپ کو

وہ کرنا پڑے گا جو آپ کو کہا جا رہا ہے اور اگر کھانے میں کوئی غلطی ہے تو آپ بتا سکتے ہیں لیکن اگر درست ہے اور وہ چیز آپ کی مدد کرنے والی تو آپ کو کرنی ہوگی کیونکہ یہ تجربہ میں اپنی ذات پر کر چکی ہوں۔ یہ جو چیز میں آپ سے کہتی ہوں، ذاتی زندگی میں ان چیزوں کو میں نے اختیار کیا ہے اور ان چیزوں سے مجھے بہت فائدہ ہوا ہے اور اپنا تجزیہ خود کیا ہے، اپنے لیے سوال خود لکھے، اپنے آپ کو خود جانتے ہو۔ ہم کچھ نہ کچھ اپنا محاسبہ یہاں بھی کرتے رہے اب دیکھئے اپنی ایک پاور حدیث، ہمت کی بات پر مبنی ہے اور زیادہ تر اس کا حصہ انسانی مزاج اور نفسیات کے ساتھ بے حد ضروری ہے اور صاف تجزیہ کے لیے آپ کو خود سے خود بات کرنے کی اور اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اور اگر آپ یہ نسخہ، یہ طریقہ اختیار نہیں کریں گے، ہوم ورک نہیں کریں گے، تھوڑا سا وقت اس کو نہیں دیں گے تو بھرپور فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔ ورنہ ان میں سے کون سی حدیث ہے جو آپ نے پہلی دفعہ سنی ہو؟ سب نے سب کچھ سننے کے لیے ہمیں اپنا علاج کرنا ہے اور جب ہم اپنا علاج کرتے ہیں تو اس میں دوا کو پابندی سے کھانا اور کچھ ایکسرسائز کرنا ضروری ہوتا ہے۔ پچھلے ہفتے ہم نے ظلم کے بارے میں پڑھا تھا ایک یہ بتائیے کہ یہ ظلم ہوتا ہے، یہ ظلم ہوتا ہے، ظلم ہوتا ہے، ٹھیک ہے تو اس لیے ساتھ ساتھ اپنا تلفظ بھی ٹھیک کرتے جائیے۔ اور وہ فرق سب سے پہلے گفتگو اس کلاس میں تو اس سے پہلے پچھلے ہفتے کے نوٹس دہرائیں کہ آپ نے کیا سنا تھا، کیا لکھا تھا؟ ایک دن کلاس ہوتی ہے تو اس لیے اگر آپ دہرائے بغیر آئیں گے تو پوری طرح فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے اور اس کے لیے اگر آپ کے پاس گھر میں وقت نہیں تو آپ اپنے ٹریولنگ ٹائم کو استعمال کریں۔ تو یہی آپ وہاں رک، آپ اندازہ کر لیں اور اتنی دیر کے لیے اپنا سبق دہرا لیں۔ پھر آپ رکھ دیں، پھر آگے، پھر آگے ہٹا کے جواب یہاں پہنچے۔ اور یہاں بھی اگر کلاس شروع ہونے میں ایک آدھ منٹ کا بھی وقت ہے تو اس وقت کو بھی ضائع نہ کریں۔ اپنی جگہ پر آ کر بیٹھیں، اپنے نوٹس نکال لیں، اپنے خیال کو مستحکم کریں، پچھلی باتوں کو یاد کریں اور دہرائے بغیر کوئی بھی علم پختہ نہیں ہوتا۔ بہترین دہرائی تو وہ ہے جو 24 گھنٹے کے اندر کر لی جائے۔ تو ایک تو آپ کلاس کے بعد کا کوئی وقت رکھیں 24 گھنٹے کے اندر اور دوسرا آنے سے پہلے یہاں بیٹھنے سے پہلے ایک مرتبہ پچھلی باتیں تازہ کر لیں۔ تو لغوی میں نے بتائی ظلم کی کسی چیز کو موقع رکھنا، عربی میں کہتے ہیں وہاں رکھنا، وہاں سے اٹھا کر کہیں اور رکھنا۔ اینیملز، کپڑے جہاں رکھنا چاہیے وہاں رکھنا چاہیے، وہاں کھانے پینے کی چیز رکھ دینا، کھانے پینے کی جگہ، مثلاً ماں باپ کا جو مقام ہے اس مقام پر اپنے دوستوں کو رکھ دینا کہ ہر وہ کام کرنا جو دوست چاہے اور وہ نہ سننا جو ماں باپ کا رہے ہو۔ تو یہ بھی کیا ہے؟ دوستوں کو ماں باپ کی جگہ لا کر رکھیں گے اور ماں باپ سے زیادہ ان کو، ان کی بات کو اہمیت دیں گے۔ اسی طرح باقی حکم اور باقی رشتوں میں بھی آپ دیکھ سکتے ہیں۔ تو کوئی بھی چیز اپنی جگہ سے ہٹا دینا اور دوسرے کی جگہ رکھ، حق سے کم دینا، کسی کو جتنا دینا چاہیے اتنا نہ دینا، مثلاً حق میں کمی کرنا جو ہے یہ بھی ظلم کی قسم ہے۔ اس کی کوئی مثال دیجئے کہ آپ کے بچے بھوکے ہیں اور آپ ان کا حق کاٹ کر دوسروں کو کھلا رہے ہیں، آپ کا بچہ بیمار ہے اور آپ کسی اور کے بچے کے علاج کے لیے ہسپتال پہنچے ہوئے ہیں تو یہ کیا ہے؟ ایک مقام ہے، سب سے پہلے ہمارے اوپر ذمہ داری اپنے اہل و عیال کی ہے، پھر اس کے بعد دوسروں کی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اپنے گھر والوں کی ذمہ داری دی جائے اور حق میں کمی کرنا، مثلاً جس کام کو جس وقت پر کرنا چاہیے یا جس چیز کی جب اہمیت ہو اس وقت کوئی اور کام کرنا۔ کیا کلاس میں بیٹھے ہوئے ہیں تو جو سبجیکٹ ہو رہا ہے وہ کرنے کی بجائے کوئی اور کام شروع کر دینا، مطلب تو یہ کیا ہوگا؟ اس کام کے حق میں کمی ہوگی۔ اسی طرح انسانوں کے حق میں کمی وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح کوئی مسافر یا کوئی مہمان یا بھوک کے لیے ان سے بات کیا جاتا ہے یا پھر یہ کہ وہ بیمار ہو گیا ہے اب اگر اس کو چھوڑ دیں گے تو مر جائے گا تو اس لیے سب کر دے تو بغیر کسی وجہ سے اونٹ جمع کرنا کیا تھا؟ ان کے نزدیک اس کے لیے بھی لفظ ظلم استعمال۔ ویسے ہم کم ہی کم وقت سے پہلے کرتے ہیں، زیادہ تو ہم وقت بعد ہی کرتے ہیں لیکن کب الگ ہے۔ تو کیا ہوگا؟ یہ تعریف یہی کتاب میں لکھی رہ جائے گی اور ہمارا عمل بالکل کسی اور ہی ڈھنگ پر چلا رہے گا۔ وقت سے پہلے سوال کرنا، ابھی بات مکمل نہیں ہوئی اور آدھے میں سوال کر دیا۔ کسی کی بات کاٹ کر بیچ میں بول پڑنا، یعنی اس کی بات پوری نہ ہونے دینا، اس سے پہلے اپنی شروع کر دینا۔ کچا کھانا، اتار لینا، وہ کس کس پر ظلم ہوگا؟ مثلاً بیوی اور ماں کے درمیان عام طور پر ایک کھینچا تانی رہتی ہے۔ ماں بھی حق مانگتی ہے، بیوی بھی اور دونوں کا حق ہے تو دونوں کو اپنے اپنے مقام پر رہنے کی ضرورت ہے۔ اگر ایک دوسرے کا حق ماروا کر اپنا کام کرواتا ہے تو یہ کیا ہے؟ یہ بھی ظلم کی ایک قسم ہے۔ اور آپ نے دیکھا ہوگا کہ ٹریفک لائٹس سے پہلے وہ جو کراس ورڈ لائن تو اس سے پیچھے رکنے کی ضرورت ہے، اس کے اوپر نہیں گاڑی کھڑی کرنی چاہیے۔ کیونکہ کیا ہے؟ آپ حق پر کر رہے ہیں، لمٹ پر کر رہے ہیں اور اس سے پیدل چلنے والوں کے لیے مشکل کھڑی کر رہے ہیں۔ تو اپنے حق سے زیادہ کی ڈیمانڈ کرنا، اپنی لائن پر نہ رکنا، دوسرے کی لائن میں جا کھڑے ہونا، پھر ایک سمے اپنے فائدے کے لیے دوسرے کا نقصان کر دینا، اپنے فائدے کے لیے دوسرے کا نقصان کر دینا، مطلب اگر آج ہم اللہ کے دیے ہوئے ریسورسز کو زیادہ ضرورت سے استعمال کر رہے ہیں تو ہم آنے والی جنریشن پر کیا کر رہے ہیں؟ زمین پر پولوشن کی جتنی بھی قسمیں ہیں وہ کیا ہے؟ کہ ہم اپنے راحت و آرام کے لیے، اپنے فائدے کے لیے دوسروں کی زندگی حرام کر رہے ہیں، خطرے میں ہوتی ہے یا یہ کہ پرندے یا جو نیچر کا ایک سائیکل ہے، لائف سائیکل اس کو انسان اپنے اپنے فائدے کے لیے ڈسٹرب کر رہے ہیں۔ اس قسم کے پیسٹیسائڈز بنائے جا رہے ہیں کہ جس سے پرندے اور انسیکٹس اور جانور ہلاک ہو رہے ہیں تو یہ بھی سب ظلم کی قسمیں ہیں۔ اللہ تعالی نے کائنات کو عدل پر قائم کیا ہے۔ سورہ رحمن کی ابتدائی آیات دیکھیں۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں [موسیقی] یہ جو عدل ہے جو کائنات کے اندر اللہ نے رکھا، انسانوں کے حق میں رکھا، انسانوں کے باہمی تعلقات میں رکھا، اس کو ڈسٹرب کرنا اور اس میں خلل ڈالنا اللہ تعالی کے کریشن پلان کے خلاف جانا ہے اور اسی کا نام ظلم ہے۔ پھر اپنے دائرے میں رہ کر کام کرنا اور دوسروں کو بے وجہ ڈسٹرب کرنا، دوسروں کی ذاتی زندگی میں مداخلت، بچوں سے معلوم کروانا، یہ جو ظلم کے معنی کے اندر جتنے پوائنٹس آتے ہیں اگر آپ اپنی یاددہانی والی ڈائری اس میں آپ نے ظلم کی تعریف 1، 2، 3، 4، 5، 6 اس سے کیا ہوگا؟ کبھی بھی آپ کو زندگی میں کہیں بھی ظلم کے بارے میں بات کرنی ہے یا اپنا جائزہ لینا ہے تو آپ فارم کیا کریں گے؟ اپنی ریفرنس ڈائری نکالیں گے، ظلم کا حصہ پڑھ لیں گے اور آپ کو یاد آ جائیں گی سب باتیں کہ کیا کیا ظلم میں آتا ہے۔ ان کو دینے کے لیے کیا ضروری ہے کہ ہمارے پاس اگر ہم جاہل ہیں تو آگے کیا پاس کریں گے؟ جہالت، اب بعض اوقات ہم سمجھتے ہیں کہ جو ہمارے دل میں آتا ہے ہم بچوں کو کہہ دیں اس کا نام تربیت ہے، اس کا نام تربیت نہیں ہے۔ صحیح کانسیپٹس کو آگے دینا ضروری ہے اور اس کے لیے یاد دہانی ضروری ہے کہ کیا بات کہی جائے کیونکہ اس کے لیے ہم انٹری پریپیئر نہیں ہوتے تو جو دل میں آتا بولتے جاتے ہیں تو اس کے لیے وقتاً فوقتاً اپنی ان خود لکھی ہوئی چیزوں کو پڑھ کر تازہ کر کے ٹارگٹڈ پلان چیز دینا کا آپ اپنے شاگردوں کو دیں یا آپ اپنے بچوں کو دیں یا آپ کسی کو بھی دیں کسی دائرے عام میں دیں کسی بہت بڑی گیدرنگ میں جا کر کتاب فرمائیں لیکن یہ بھی دوسروں کا حق ہے کہ جو انفارمیشن ان کو دی جائے جو علم ان کو دیا جائے وہ کس پر مبنی ہو؟ سچائی پر مبنی ہو، حقیقت پر مبنی ہو، ٹھیک ہے۔ دوسری چیز ہے وہ فوری طور پر تو بن نہیں اور ڈویلپ کرنی مشکل ہے لیکن ہر موجود سے مطلب ایک چیک لسٹ ڈویلپ کر لیجئے اور لیٹر آن آپ کو جو جو تیار ہوں دیتے جائیں کیونکہ انسان بار بار بھول جاتا ہے، نہیں کرنی پڑتی تو چند ایک سوالات آپ کے ساتھ شیئر کروں گی کہ ظلم ہم مختلف چیزوں پر کرتے ہیں۔ سب سے پہلے اپنی ذات تو اپنی ذات پر ظلم کی قسمیں کیا ہیں؟ مطلب دین سے غفلت برتنا، پورے ہو گئے ہیں جو ہم نے کسی غفلت سے یا کسی اور بیماری سے چھوڑے کیونکہ پرائز میں شامل ہے۔ اسی طرح اسی طرح اگر زکوٰۃ ہمارے اوپرڈیو ہے تو اگر ہم اپنے پرائز زیادہ نہیں کرتے تو ہم کیا کر رہے ہیں؟ دراصل اپنی جان پر ظلم کر رہے ہیں۔ تو سب سے پہلے ہمیں عبادت کا جائزہ لینا ہے۔ پھر اسی طرح اپنی صحت کا خیال رکھنا، صفائی کا خیال رکھنا، بہت سی چیزیں ہم کھانے کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں اور بظاہر ہم اپنا حق سمجھتے ہیں اور کیا کہتے ہیں؟ رات کا بھی تو حق ہے نا، انسان کے نفس کا بھی تو اس پر حق ہے اور نفس کا حق دینے میں ہم جنگ فوڈ کھانا شروع کر دیتے کیونکہ وہ ہمارے لیے ایک مزے کی چیز ہے اس پر ہم عادی ہیں، ہمیں اس کا نشہ ہو جاتا ہے تو جب تک وہ خاص چاکلیٹ نہ ملے تو پھر ہمیں لگتا ہے ہم نے اپنے اوپر کیا کیا ہے؟ تو اپنے ذات پر ظلم کی قسمیں، جنگ فوڈ کا استعمال ہم اپنے ہر ایک چیز کو صبح کل سے میں تو اور بھی زیادہ سوچ رہی ہوں کہ کہاں کہاں مصنوعی چیزیں شامل ہیں اگر ان کو نکال دوں تو مائی نہیں میں پھر بھی زندہ رہ سکتی ہوں تو ان کو کٹ ڈاؤن کرتے، ان کی جگہ ریپلیس کر لی جائیں وہ چیزیں ہیں کہ جہاں تھوڑا سا بھی استعمال ہے کہ وہ شک والی چیز میں آتی ہے کیونکہ صرف حلال ہم سے فوڈ کھانے کے لیے کہا گیا موجود دھوکہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو اس پر اتفاق کر کے انسان اگر سروائیو کرے تو ہو سکتا ہے ہماری عبادت، ہماری دعائیں، ہمارے باقی جو اچھے کام ہیں ان میں بھی مزید برکت ہو تو اس لیے ہاتھ سے بھی آپ اپنا بنا سکتے کہ ناشتے میں مثلاً ہم کیا لیتے ہیں؟ ہم دوپہر میں کیا کھاتے ہیں؟ دن میں کیا کھاتے ہیں؟ ان میں سے کون کون سی چیزیں جو ہیں اگر ایک ہفتے کی اپنے کھانے پینے کی ساری چیزیں لکھ لیں، کیا کیا کھایا اس طریقے سے دیکھ سکتے ہیں۔ پھر اسی طرح صحت اور صفائی، صفائی میں جو چیزیں ہمیں کرنی چاہیے اگر ہفتے میں ہر روز کبھی ایک چیز کو اٹھا لیا، کبھی دوسرے، کبھی تیسرے کچھ کاموں کے لیے دن فکس کر لیں۔ ہفتے میں فلاں ہمیں مثلاً ناخن اپنے تراش، ناخن تراش جو ہے وہ اپنے بال صاف کرنے، کپڑے صاف کرنے تو آپ دیکھیں گے کہ بہت زیادہ بورڈ پڑے بغیر ہم جس کا اپنی صحت کا خیال رکھ سکتے ہیں۔ پھر اسی طرح اپنی ذہنی صحت کے لیے ہم کیا کریں؟ الحمدللہ کرنے مزید پڑھ رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں چاہے ایک صفحہ پڑھیں چاہے آدھا صفحہ پڑھیں روز میرا زندگی کو گزارنے کے لیے، کھاؤ آپ صحت کے بارے میں کوئی کتاب پڑھیں گے، فوڈ اور نیوٹریشن کے بارے میں پڑھیں گے، ایکسرسائز کے بارے میں پڑھیں گے یا آپ ورلڈ ہسٹری کے بارے میں پڑھیں گے یا آپ کچھ بھی کہ ہم اس دنیا میں رہتے ہیں تو دنیا کے بھی مختلف چیزوں کے بارے میں ہمیں علم ہونا چاہیے۔ تو اس میں کچھ حصہ اپنی ذہنی صحت کے لیے الحمدللہ۔ پھر اسی طرح اپنی ایکسرسائز کے لیے وقت نکالنا، ان چیزوں کا اگر تھوڑا سا بھی تمام جو ہے وہ آپ کی جو کارکردگی کی صلاحیت ہے اس کو کہیں زیادہ بڑھا سکتا ہے۔ پھر اسی طرح رات بھر ہم کون کون سے ظلم کرتے ہیں اس میں ہمیں اپنا جائزہ لینا ہے۔ ٹھیک ہے اور ہم اپنے آپ کو کیسے کیسے ظلم سے نکالیں؟ اس میں میں سمجھتی ہوں کہ جن لوگوں کو اللہ نے اس میں مزید علم دیا ہے وہ آگے بڑھ کر ان چیک لسٹ سے بنوانے میں ہیلپ کریں جو پریکٹیکل قسم کی ہو مطلب صحت سے متعلق، ایکسرسائز تو اچانک میں کتاب پڑھ رہی تھی تو اس میں کیسے کر گیا اور آپ کی وہ حدیث آ گئی کہ آپ کس طرح اس کو استعمال کیا جاتا ہے بغیر کسی ملاوٹ کے تو میرا نکال کے اس میں ہم ہو سکتا ہے ان کی آنکھوں میں تکلیف ہوئی اور اس طرح انہوں نے صبح شام سرمہ استعمال کیا اور وہ تکلیف جاتی رہی تو بہرحال اور پھر ہم بہت سی باتیں کرتے کرتے اچانک چھوڑ بیٹھتے ہیں اور پھر سالوں چھوٹ جاتی ہیں اور بھول جاتی ہیں تو ہم کچھ یاد دہانی کے لیے ایسی چیزیں ڈویلپ کر لیں کہ جن کو ہم اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تاکہ ہم جتنے مریں اور اٹھیں تو ایمان کے ساتھ اٹھیں تو یہ ہمارے اوپر ہماری جان کا حق ہے۔ پھر اسی طرح جب انسانی تعلقات کی بات آتی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث جو پچھلی دفعہ آپ نے پڑھی تھی حدیث نمبر 14 دیکھیں۔ کل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو الانفس سے ظلم و العبادت میں نے اپنی جان پر ظلم حرام کر دیا تو تم بھی ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو، آپس میں ظلم نہ کرو یعنی بندے بندوں پر ظلم نہ کریں اور بندوں کا بندوں پر ظلم میں سب سے پہلے اللہ تعالی ہمیں اپنے حق کے بعد کس کا حق بتاتے ہیں؟ والدین کا حق بتاتے ہیں، ان کے ساتھ ظلم میں کیا باتیں آتی ہیں؟ ان کے لیے ہاتھ رکھا۔ تو اسی طرح ایک اور طرح سے اپنا کرتے ہیں، آپ کی ٹون کیا ہوتی ہے؟ اونچا تو نہیں بولتے ہیں اور ان کو جھڑکنا، ان کی بات کاٹنا، ان کو بیوقوف سمجھنا، آپ کو تو کچھ پتہ ہی نہیں اور ماں باپ کا حق صرف زندگی میں نہیں ہوتا، ان کے مرنے کے بعد بھی ہوتا ہے۔ ہم اپنے آپ کو پوچھیں کہ ہم ہفتے میں کتنی دفعہ اپنے والدین کے لیے دعا کرتے ہیں تو ان کے لیے کیا دعا کرتے ہیں؟ اللہ تعالی اس کے لیے اس کی اولاد میں آنکھوں کی ٹھنڈک رکھ دیتے ہیں۔ پھر اسی طرح آپ دیکھیں کہ پھر بڑوں میں دادا، دادی، نانی، نانا اور عام بزرگ لوگ جو آتے ہیں ان سب کے ساتھ عزت، آداب، احترام کا معاملہ۔ پھر دوسروں پر ظلم میں جیسے شوہر ہے تو شوہر پر کیا ظلم ہوتا ہے؟ ان کے ساتھ بدتمیزی کرنا، زور سے بولنا، ان کی بھی لمٹس ہیں، ان سے ہم ایسے مباحث شروع کر دیں جو ان کی وہ ظلم ہے اس سے زیادہ نہیں کام سکتے۔ ہم اتنے پریشر کے سامنے دوستوں کے ساتھ ان کی برائیاں کرتے رہنا ہر وقت، کوئی دیکھیں، باز اوقات تو آپ کو اگر کوئی مسئلہ سلجھانے میں مشکل پیش آ رہی ہے تو آپ کسی اپنی سمجھدار دوست سے بس ایک ہی کوئی شخص ہو جس سے آپ مشورہ لے لیں کہ یہ مسئلہ ہوا ہے میرے ساتھ، آپ مجھے آپ بتاؤ کہ میں کیا کروں؟ اس حد تک تو درست ہے لیکن یہ نہیں جو سامنے آ گیا ہر ایک کو پکڑ کے اس کو بھی سنا، اس کو بھی، اس کو بھی، وہ تمہارا لباس ہے اور تم ان کا لباس ہو اور لباس کا کیا کام ہے؟ پردہ پوشی، وہ انسان ہے، غلطیاں ان میں ہوں گی لیکن بیوی کا کام کیا ہے؟ اور نہ بہن بھائیوں کے سامنے اور نہ دوستوں کے سامنے بے عزت نہ کریں کیونکہ اس میں اپنی بے عزتی ہے۔ میاں کے ساتھ برابری کرنا، ہر چیز میں مقابلہ کرنا، اصل میں عورتیں کے دل چھوٹے ہوتے ہیں، نرم ہوتے ہیں یا جذباتی ہوتے ہیں تو پھر جلدی ہمیں غصہ آ جاتا ہے اور جلدی ٹھنڈا بھی ہو جاتا ہے تو وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھول کر ہم پھر جلدی ابھرنا چاہتے ہیں تو اس میں اگر تھوڑا سا برداشت کی عادت ڈال لیں کہ کوئی بات نہیں، اونچ نیچ ہو جاتی ہے، ہر گھر میں ہو جاتی ہے، ہر دو انسان کبھی بیسن میں ہو جاتی ہے کیونکہ جس کے آپ زیادہ قریب رہتے ہیں نا اس کی آپ کو چھوٹی چھوٹی خرابیوں کا پتہ چل جاتا ہے۔ جو لوگ آپ سے ڈسٹنس پر ہوتے ہیں نا ان کی تو آپ کو صرف ایک مجموعی زندگی، ایک وقتی گہری چیزیں آپ کو پتہ چلتی ہیں اور جو قریب رہتے ہیں، ایک جگہ بیٹھتے ہیں، ایک جگہ کھاتے پیتے ہیں، سوتے ہیں تو ان کی تو آپ کو 100 فیصد خرابیاں سمجھ آ جاتی ہیں، وہاں تو کچھ بھی نہیں چھپا سکتے تو پھر اللہ نے ہمیں کیا ہم دیا کہ جان کے پھر کیا کروں؟ چھپاؤ، پھر چھپاؤ، اب چھپاؤ جب پتہ چل جائے سب کچھ تو شوہر ہو یا بیوی یہ اب جو کی آپ میرے سامنے اس لیے آپ کہیں گے ہم ہی کہتی رہتی ہے اور آدمیوں کے لیے کچھ نہیں کہتی۔ دونوں کے لیے لازم ہے، بلکہ ہم اپنے بیٹوں کی بھی تربیت اس طرح کریں کہ وہ بھی بیوی کی غلطیاں راز اور کوٹیا ہم سے شیئر نہ کریں اگر ہمیں کھانے لگے تو ہم ان کو یہی سمجھائیں کہ یہ آپ دونوں کا معاملہ ہے، یہ دونوں کے راز ہیں، ایک دوسرے کو خود دام کو کیونکہ بیوی کو بھی اور شوہر دونوں کو منع کیا گیا ہے کہ اپنی ذاتی خاص اور پرائیویٹ باتیں کسی دوسرے سے شیئر نہ کریں۔ بعض لوگ دوستوں میں شیئر کرتے ہیں اور بعض بچیوں کو میں نے دیکھا ماں باپ کے ساتھ شیئر کرنے لگتی۔ پچھلے دنوں ایک شادی ہوئی کی جاننے والوں میں اور صرف ایک مہینے یہ ڈیڑھ مہینے کے بعد ختم سب۔ اب کیا تھا؟ پہلے رات سے لے کر جتنے دن وہ بچی وہاں رہی ایک ایک چیز ماں کو بتاتی رہی، کیا تحفہ دیا، کیا ہوا، پھر تمہارا تعلق ہوا یا نہیں ہوا، یہاں تک ڈیٹیلز پوچھی گئیں اور ظاہر ہے ماں کا دل ماں کا دل ہوتا ہے اس سے برداشت نہیں ہو سکتا، چھوٹا سا بھی کوئی معاملہ تو پھر کیا ہوتا کہ فوراً جذبات میں آ کر بولتی باتیں شروع ہو جاتی پھر یہ ہوتا ہے کہ جو داماد کی عزت ہے وہ نہیں رہتی جب داماد سے محبت اور عزت نہ ہو تو پھر اس کا نقصان کس کو ہوگا؟ بیٹی کو ہوگا۔ جو شوہر جو پورا کرنے کے قابل نہیں اس کا ذکر کرنا وہ ایک الگ بات ہے لیکن حدیث میں صاف منع کیا گیا ہے کہ جو تنہائی کی باتیں ہوں میاں بیوی کی وہ کسی سے بھی شیئر کی جائیں اور یہ بہت عام ہو گئی ہے تو ختم ہو گیا نا ہمارے معاشرے میں ماں اور بچے کے درمیان، ہاں نہیں، آپس میں دوستوں کے ایک دوسرے کے ساتھ، ہاں نہیں، لہذا وہ بالکل ہیں پرائیویٹ باتیں بھی شیئر کرتے ہیں اور بلکہ اس کو ایک لازمی بات سمجھی جاتی ہے کہ شادی کے بعد لڑکی سے یا لڑکے سے ہر بات پوچھی جائے اچھا پھر کیا ہوا؟ پھر کیا ہوا؟ پھر کیا ہوا؟ تو ایسے سوال کرنا بھی منع ہے اور ایسے جواب دینا بھی خیانت ہے اور اس سے سختی سے منع کیا گیا ہے اور اس میں کیا ہوتا ہے؟ ایک سال میں تو سب کچھ نہیں، ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ انڈرسٹینڈنگ ہو سکتی ہے۔ دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ایڈجسٹ ہوتے، آپ نے دیکھا ہوگا کہ اگر آپ دو چار کتابیں بھی گھر میں خرید کے لے جائیں تو ان کو بھی سیٹ کرتے کرتے کبھی آپ اٹھا کے یہاں رکھتے، پھر وہاں سے اٹھا کے لے جاتے، آپ سب میں کورس شروع کی آپ نے دیکھا ہوگا گھر میں ایک نئی چیز کے حساب ہوگا کتابوں کا تو کتنی جگہ بدلی، اوپر نیچے، ادھر ادھر جب جا کر ایک ایڈجسٹ میں پھر انسان کا تھا اب تک گیا، اب سیٹ ہو گئی، معاملہ کوئی نیا کار اس کو ایڈجسٹ کرتے کرتے ٹائم لگتا ہے، فرنیچر لے، کچھ بھی لے، ہر چیز کے ایڈجسٹمنٹ کا ایک ٹائم ہوتا ہے تو ہسبینڈ وائف کی بھی ایڈجسٹمنٹ کا ایک وقت ہوتا ہے اس وقت میں بہتر یہی ہوتا ہے کہ وہ دونوں آپس میں ایک دوسرے کو انڈرسٹینڈ کریں اور تیسرا کوئی بیچ میں انٹرفیئر نہ کرے اور وہ باتیں کسی تیسری سے شیئر نہ کریں تو پھر اور بات ہے۔ تو یہ چیز بھی عموماً مشکل ہوتا ہے ہمارے گھر میں تو یہ ہوتا تھا اور یہاں اس گھر میں یہ نہیں ہوتا، فلاں جگہ تو یہ ہوتا تھا اور میری بہن کے گھر تو یہ ہوتا ہے اور میرے بھائی کے ہاتھ تو یہ ہوتا ہے اور ہمارے یہاں نہیں ہوتا بھائی ہر ایک اپنا گھر ہے مت کمپیئر کرو اور ہو سکتا ہے تمہارے گھر کہیں ایسی چیزیں ہوتی ہیں جو وہاں نہ ہوتی ہوں، ہر ایک کا فرق ہے طریقہ تو یہ شیطانی حالات ہوتے ہیں جو انسانوں کو بھڑکاتے رہتے ہیں اور بھڑکتے بھڑکتے وہ چیز ادھر ادھر ہونے لگتی ہے اور اس سے پھر خرابی پیدا ہوتی ہے۔ اس طرح کی چیزیں شیئر کرنے سے کہ جس سے دوسرا بے وجہ سے کم تین میں مبتلا ہو اس سے بھی آپس میں خرابیاں پیدا ہونے شروع ہو جاتی ہیں۔ اصل میں یہ ہے کہ جب انسان کی زندگی میں کوئی مقصد ہوتا ہے نا تو بیکار گفتگو کا وقت ہی نہیں رہتا پھر لیکن جب ہمارے

جہاں خالی ہے، نا کوئی زندگی میں کوئی کمی تو ہے نہیں۔ تو پھر باتیں بھی ساری اور ایک دوسرے سے ڈسکشن بھی صرف یہی رہ جاتی ہے۔ پھر اسی طرح شہر کے ساتھ اور ظلم کی بڑی قسم کیا ہے کہ ان کو ان کا جائز حق نہ دینا۔ اگر ہم اپنے شہر میں پرفیکشن چاہتے ہیں تو کیا ہم اپنے ساتھیوں میں ان کے لیے پرفیکشن رکھیں ہوئے ہیں؟ اور شہر کی طرف سے ظلم کیا ہو سکتا ہے کہ بیوی اگر بیمار ہے یا اسے کوئی تکلیف ہے تو اس کی کسی بیماری اور تکلیف کا لحاظ اور احساس نہ کرنا۔ لیکن بہرحال یہ ظلم کی ایک بڑی قسم ہے کہ جس کی قیامت کے دن پوچھ ہوگی۔ اگر اس وجہ سے کچھ اور بھٹکتا ہے، بھٹکتا ہے تو اس کے بارے میں بھی سوال ہوگا۔

پھر اسی طرح ساتھ رہنے والے مسائل۔ ایک جگہ بہت سے لوگ اگر ساتھ رہتے ہیں تو اس میں ظلم کیا ہے؟ مثلاً اپنا کام دوسروں پر ڈال دینا، اپنی ڈیوٹی وقت پر پوری نہ کرنا۔ ایک جگہ تو دوسرا دھم سے دروازہ بند کرے اور سوتے میں جگا دے۔ بے وجہ لائٹ کھول دینا اور دوسرے کی نیند ڈسٹرب کرنا۔ پھر اسی طرح بغیر پوچھے دوسروں کی چیز استعمال کرنا۔ پھر اسی طرح آپ دیکھیں کہ بغیر وجہ اونچی آواز میں بات کرنا، کوئی سو رہا ہے تو یہ بھی دوسروں کے لیے اذیت اور دوسروں کا حق مارنا ہے۔ اگر دو لوگ رہتے ہیں اور ایک پڑھ رہا ہے اور دوسرا کچھ اور کام کر رہا ہے، کچن میں کام کر رہا ہے تو اتنا لحاظ ضرور رکھنا چاہیے کہ ہم برتن آرام سے اٹھائیں، آرام سے رکھیں، یہ چلتے وقت آرام سے پاؤں اٹھائیں کہ دوسرا اگر ہر تھوڑی دیر کے بعد پڑھتے پڑھتے چونک جاتا ہے اور اپنا کام چھوڑ بیٹھتا ہے تو یہ بھی دوسرے کے وقت ضائع کرنا اور اس کے ساتھ زیادتی کرنا ہے۔

پھر اسی طرح بچوں کے ساتھ ظلم کی قسم میں بے وجہ بچوں کو مارنا، ڈانٹنا اور ان کو بھوک لگی ہے، وہ دودھ مانگ رہے ہیں اور ہم فون پر فون کیے جا رہے ہیں اور لمبی کال اٹینڈ کر رہے ہیں اور بچے جو ہیں وہ ہمارے ساتھ لپٹ لپٹ کے پاؤں میں سو جائیں۔ سلسلے میں ایک خط مجھے ایک اسٹوڈنٹ کا موصول ہوا ہے جو میں آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتی ہوں۔ اس میں ہو سکتا ہے کہ بہت سی بہنوں کے لیے ایک رہنمائی ہو۔ دنیا میں بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی اولاد کو اصلاح اور خیرخواہی کے نام پر ظلم و ستم کا نشانہ بناتے ہیں۔ میں اپنی تین بہن بھائیوں میں سب سے بڑی بہن ہوں۔ جب سے ہوش سنبھالا، خود کو ایسے ماحول میں پایا جہاں میں ناگہانی غلطیوں پر ڈانٹ اور مار سکتی تھی۔ کوئی چیز اگر بھائی توڑتا تو والدہ کو غصہ آتا اور وہ مجھے مارتی۔ ہم اپنے دادا کے گھر میں ایک بڑے گھر میں رہتے۔ اکثر میری دادی کی کسی بات پر والدہ برہم ہوتی تو میری ماں خوب لگتی۔ اگر کسی اور نے کچھ ماں کو کہہ دیا، گھر میں کوئی ایسی چیز نہ تھی جس سے میں نے مار نہ کھائی ہو۔ چمٹا، ڈنڈا، چمٹا، جوتی، بہت سی اور چیزیں، ان کے علاوہ گالیاں اور بددعائیں بھی سنتی تھی۔

میڈم، آپ تو صبر نہیں کر سکتی کہ جب اپنی ہی ماں اپنی اولاد کو منحوس کہتی ہے تو دل پر کیا گزرتی ہے؟ اور یہ بات بہت عام ہے۔ بہت سی مائیں اولاد کو کوسنا اور ڈانٹنا اور اس میں گالیاں دینا اور پھر منحوس کہنا، ان وانٹڈ ہونے کا احساس انسان کو اندر سے ختم کر دیتا ہے۔ میں تمام عمر اسی سوال کا جواب ڈھونڈتی رہی کہ آخر میرا کیا قصور ہے؟ مجھے تعلیم حاصل کرنے کا موقع تو ملا، میں اس پر اپنے اور اللہ سبحان اللہ۔ یہاں تک کہ اگر وہ کمرے میں بیٹھے ہوتے اور پنکھا چلانا ہوتا تو مجھے آواز دیتے۔ گھر میں اگر سالن پکتا تو روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے میں دیتی کیونکہ یہ کرنا وہ عار سمجھتے تھے۔ مجھے دوست بنانے اور لوگوں سے گھلنے ملنے کی قطعی اجازت نہ تھی۔ نہ کہ اسکول یا کالج کی دوست مجھے ملنے آئیں۔ اگر کوئی کل جو اسکول کی دوست مجھے ملنے آئی تو میری والدہ کو ناپسند ہوتا۔ میری والدہ خود بھی لوگوں سے کم ملتی تھیں۔ ان کے بقول نہ ملنے میں ہی خیر تھی۔ رشتہ داریوں کے پاس رکھنا، بڑوں سے اچھا معاملہ کرنا، سوشیلائزنگ کرنا مجھے سیکھنے کا موقع ہی نہ ملا۔ بھائیوں کو اچھے سے اچھے کپڑے، کھانا پینا، بچپن میں کھلونے ملے، مگر میں تو خوف سے کچھ پسند ہی نہ کر سکتی تھی اور نہ والدہ کے ڈر سے کچھ مانگ سکتی تھی۔ کسی بچے سے اس کا بچپن چھین کر یہ کہا جائے کہ تم تو بڑی ہو گئی ہو، کیا ضرورت ہے اور ان کے ساتھ کھیلنے کے لیے؟ میری زندگی کا ایک لمبا حصہ احساسِ کمتری میں گزرا ہے۔ میں اپنے رب کی، اپنے خالق کی بہت شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھ پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دیے۔ مجھے دین سمجھنے کا موقع دیا، مستقیم پر چلنے کے طریقے اور رب عزت سے مضبوط تعلق جوڑنے کا آسان طریقہ سکھا رہی ہیں۔ جہاں میں اپنے والدین کے لیے دعا کرتی ہوں، وہاں آپ کے لیے بھی کرتی ہوں۔ کیا ملا دے اور آپ کی تمام حاجات پوری کرے۔ ہمیں آپ کے لیے سہولتیں دے اور دنیا اور آخرت میں آپ کی مشکل راتوں کو آسان کرے۔ اور دنیا کو شروع کرتے ہیں۔

وائرل اس خط کو میں نے اس لیے آپ سب سے شیئر کیا تھا کہ ہم بہنیں ہوتے ہوئے اپنے بچوں کو اپنی پراپرٹی سمجھ لیتی ہیں اور یہ سمجھتی ہیں کہ ان کے ساتھ ہم جو کچھ بھی کریں وہ کیا ہے، وہ ہمارا حق ہے اور ہم بغیر یہ سوچے کہ اللہ کے ہاں ہماری اس پر بھی جواب دہی ہوگی۔ ایک بچے کے ہاتھ میں رو رہے ہیں، یہ کان کھینچ رہے ہیں یا اس کو مار رہے ہیں۔ اسلام میں تو 10 سال تک نماز کے لیے بھی کرنے کا حکم نہیں، جو کہ پہلا فریضہ انسان پر ہے۔ کہاں یہ کہ ہم اپنی چھوٹی چھوٹی نافرمانیوں اور خلاف ورزیوں پر جو بچے ہماری شان میں کر دیتے ہیں، ان پر ان کو مارنا پیٹنا شروع کر دیں۔ اگر اللہ تعالی نے 10 سال کی عمر تک رخصت دی ہے تو ہمیں بھی اس کا لحاظ رکھنا ہے۔ اور پھر یہ کرنا یہاں ایک اور مسئلہ جو نظر آ رہا ہے وہ کیا ہے؟ اگر میں کسی کو زیادہ دے سکتا تو بیٹی کو زیادہ دیتا، لیکن اجازت نہیں ہے زیادہ دینے کی۔ اسی طرح چھوٹا بچہ، لڑکی ہو یا لڑکا، ان کے اندر احساسِ کمتری یا عدل، بے حد ضروری ہے۔ عدل سے ہٹانا یہاں ظلم ہے۔ تو ہم اس کو کیا کرتے ہیں؟ ہر چیز اس پر ڈال دیتے ہیں اور باقی بچے جو ہیں وہ چھوٹ جاتے ہیں۔ تو اس میں تمام حالات کے ساتھ برابری کا سلوک، absolute، بے حد ضروری ہے ورنہ قیامت کے دن پوچھو گی۔ کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ یہاں ایک محل ہے بچوں کے روڈ بیہیویر کے بارے میں، ان کی طرف سے جو زیادتی ہوتی ہے وہ کس کس طرح۔

The topic is interesting because lately I have noticed that general speech is becoming devoid of risks and we are becoming too hard and mechanical. We are welcome. So if we can implement as much as possible from the many things we have learned for next week, but one thing, let's lower our voices, whoever we talk to. That is, let's not oppress anyone with our voice at least. Let's talk with softness. If we cannot do more favors for someone, then at least let's not do injustice to anyone. That is, let's not hurt others with our tongue or our attitude. Whether talking to elders or children, or amongst ourselves. Let's lower our voice, control our tone, rein in our inner self, so that we can have a peaceful and harmonious relationship with others.

I will read you a hadith so that today's day does not go by without a hadith. The hadith is Hadith number 15. "Whoever points with a piece of iron towards his brother..." What is a piece of iron? A theft, scissors, a rod, any sword, any gun, tongs, spoon. Even children need to learn that if you hold a spoon, from what angle should you hold it? If you hold scissors, how should you hold them? We say pointing with a piece of iron. "Whoever points with a piece of iron towards his brother, the angels curse him." Indeed, the angels curse such a person. Even towards his own brother. If he points it towards him with a piece of iron to scare or threaten him, or even jokingly, then the angels curse such a person. This is such a strict matter, but how many of us would know this if only they knew this, they would not hit children with spoons. We are taking many such things from other works and considering them minor. How to pass a sharp object or a piece of iron to someone?

Narrated by Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that Abu al-Qasim (peace be upon him) said: "Whoever points with iron towards his brother, the angels curse him until he desists from it, even if he is his own brother." That's enough for today. What is today's homework? That by next week, we will not oppress anyone with our voice, with our speech. Write it in your diary. Okay. Is it necessary to exaggerate anything? No, raising the volume of the voice too high, or lowering it too much to the point that the other person cannot understand the speech. So we need to keep an eye on this and control it. Assalamu alaikum wa rahmatullahi wa barakatuh. Rasulullah [Music] Allah [Music] Okay, here is a report from Islamabad Hostel. They have written that we have memorized the dua of Husn Akhlaq. So you should also memorize it. They have also written that the diary that has been made is benefiting us, and besides this, they have put up a soft board in the hostel, which is a soft board of Husn Akhlaq, and the homework related to Husn Akhlaq is put up there every time. If you put up a small soft board in your bedroom or kitchen or anywhere, and write the practical homework you get every time in big letters as a reminder, then by the grace of Allah, you will also get a chance to check yourself.

So the homework or assignment from last time was to lower our voice. And their teacher has written a report that most of the students are trying to control their voices. Sometimes it happens, but they realize it immediately. So they apologize to each other. And besides this, they are reciting the literal translation of the hadith to each other. Besides this, another sister of yours has sent a message. She says, "Can you request all students to memorize one hadith from each chapter every week?" Now it is known that in the past, people used to memorize hadith in addition to the Surahs of the Holy Quran. And in those days, the title of Hafiz was given to the person who memorized hadith. Not in the hundreds of thousands, but in thousands. People used to memorize entire books like Bukhari, just like they memorize the Holy Quran. And then they used to memorize not just the text of the hadith, but also the chain, meaning who narrated which hadith from whom. And you must have read the incident of Bukhari about it, how their test was taken, how they were presented together in front of them, and they corrected them and recited them with the correct chain. So this is that people also protected the hadith of the Prophet (peace be upon him) with their hearts and souls. If not much, then at least memorizing the shortest hadith of the chapter will be very beneficial for you in the future. As evidence, sometimes you are thinking about something or talking to someone, and the words of the hadith come to your mind, so it is also a strong reminder. The benefit of doing any work together is that we can support each other, we can remind each other. So, by the grace of Allah, in next week's homework, note this that memorize one hadith from each chapter. And when you recite the literal translation, recite one hadith by heart at that time. And if you also memorize the name of the companion, who narrated the hadith, and from which book it is. Today we start with a hadith, God willing, and then if there is some time left, I will discuss other things with you.

Hadith number, narrated by Abdullah bin Umar (may Allah be pleased with him). As the name suggests, he was the son of Hazrat Umar (may Allah be pleased with him). Abdullah bin Umar (may Allah be pleased with him) became very famous in his time. Abdullah, he was born in Mecca, two years after the Prophet (peace be upon him) claimed prophethood, and when your father Umar accepted Islam, you were about 6 years old. So he became a Muslim along with his father, although he was a child. And when he was 13 years old, his narration is 1600. Hazrat Abdullah bin Umar (may Allah be pleased with him) was particularly interested in the hadith of the Messenger of Allah (peace be upon him) and his actions. And in this matter, he was very meticulous. He used to follow even the slightest actions to such an extent that in whatever journey he accompanied the Prophet (peace be upon him), he kept pace with him and noted every action: where he stopped, where he prayed, where he went to relieve himself, which path he took. And after that, whenever he passed by that path, he would also stop there. He would stop where he stopped, and pray where he prayed. Even on the occasion of the conquest of Mecca, when he entered the Kaaba with Bilal, he entered immediately after they came out, and asked Bilal: "Tell me, where did the Messenger of Allah (peace be upon him) pray?" And who was on your right? He used to note every detail of yours like this. It is even narrated that in the narration of a hadith, he used to narrate with the upper button of his shirt open. So when someone asked him why he opened the button of his shirt for this hadith, he said: "When I heard this hadith from the Prophet (peace be upon him), the button of your shirt was open." That is, he loved you to this extent. And in the classes of Ulum al-Hadith, you must have heard that hadith. Such a son, and not only that, but he was also very angry with his father, and his son, on one occasion. And in a narration, it is mentioned that he was narrating a hadith from the Prophet (peace be upon him) that "No one should prevent the servants of Allah from coming to the mosque," meaning women from coming to the mosque. So his son said, "We will prevent them." Hazrat Abdullah became so angry and said, "I am narrating the hadith of the Messenger of Allah (peace be upon him) to you, and you say that I will definitely prevent them? I will not speak to you after today." And until his death, he did not speak to his son, because you dared to say that I will prevent them when I am narrating the hadith of the Messenger of Allah (peace be upon him) to you. He said that Abdullah bin Umar heard the sound of a flute, so he put both his fingers in his ears and went quite far to the other side of the road. And asked me, "Now, what are you hearing?" I said, "Nothing." Then he took his fingers out of his ears and said, "I was with the Messenger of Allah (peace be upon him) and I did this, just as I did." Hazrat Tufail said that at that time I was a young boy, meaning he kept me with him, and he was showing me that action. Then, in another narration, it is mentioned that a person sneezed in front of Hazrat Abdullah bin Umar and said, "Alhamdulillah, Rasulullah." On one hand, there was so much love for you, but in that love, there was no compromise. And he said, "It's okay, this is also a good sentence." There he stopped him. Then, similarly, the Prophet (peace be upon him) said: "Islam is founded on five things: the oneness of Allah, establishing prayer, paying zakat, fasting in Ramadan, and removing anything from its place and putting it in another place." So in this, we see that Hazrat Abdullah bin Umar's piety, his caution, and his precision in his actions and thoughts are unparalleled. And not only in the narration of hadith, but in the rest of his life, he had similar piety. And in this, we see that when he narrated hadith, his students also showed similar caution, and then his student was Imam Malik. So the hadith that Imam Malik narrates from Nafi and Abdullah bin Umar is called the Golden Chain, the chain of guidance. And you know that Nafi was with Abdullah bin Umar. I told you on the first day of the lecture. You have some idea. He came to Medina when he was 30 years old and spent his entire time in Medina in the service of the Prophet (peace be upon him). He kept watching what you said, how you did any work. And then Abdullah bin learned what he learned for 30 years with you. And then Imam Malik was in the service of Tufail for about 12 years. Abdullah bin Umar spent 10 years in Medina with you. And then the rest of the days you also saw. And your students spent 30 years with you. And then their students spent 12 years with them. And thus knowledge was transferred from one generation to another. From this, you can estimate how much patience and sacrifice they made for knowledge. They were very pious people. He says about himself that I was young at that time and used to sleep in the mosque. I saw in a dream that two angels came and took me and brought me to the edge of a fiery ditch or a ravine. And when I looked inside, I saw many of my acquaintances in that ditch. So he says that I was very scared. I was very scared. I saw many people whom I recognized. I started calling out loudly, saying, "I seek refuge in Allah from this." Then an angel came and said, "Do not fear." Then I went and told this dream to my sister and said, "You ask the Messenger of Allah (peace be upon him) for its interpretation. What is this dream that I saw?" So the dream was presented to the Messenger of Allah (peace be upon him). He said: "He is a good man, Abdullah. If he used to pray at night." Abdullah is a person. If he used to pray at night. And this is narrated in both Sahih and Muslim. Anyway, in the narration, it is mentioned that after that, Abdullah bin Umar never left Tahajjud, rather he used to sleep very little at night.

I saw in a dream that I had a piece of silk in my hand, and wherever I pointed with it, it would carry me to Paradise in that way. He says that from the first knowledge, if I testified for someone that he would be in Paradise, then even knowing that, he was very cautious in giving knowledge. It is narrated about him that when he was narrating hadith, his face would turn pale, meaning out of fear that perhaps I might attribute something wrong to the Messenger of Allah (peace be upon him) that you did not say. That is, he was so afraid that perhaps I might fall into error. A person came to him and asked him some questions, so he lowered his head. People said, "Perhaps you did not hear." So he said, "Did you not hear?" He said, "Yes, but we will do more about his question, and if we get an answer."

تو جواب دیں گے ورنہ اللہ تعالیٰ ہم سے اس بڑے میں پوچھے گا نہیں۔ میں کسی کے ساتھ جواب نہیں دینا چاہتا، بغیر سوچے سمجھے کچھ نہیں بتانا چاہتا۔ جب ان سے کچھ پوچھا جاتا تھا تو جواب دینے میں جلدی نہیں کرتے تھے۔ آج آپ دیکھیں کہ ہمیں کوئی بات نہیں بھی پتہ ہوتی تو محض اپنی بڑائی ثابت کرنے کے لیے جو بات منہ میں آتی ہے کہنا شروع کر دیتے ہیں۔ اللہ کے راستے میں بہت کچھ خرچ کرنے والے تھے۔ ان کے بارے میں تھا کہ انہوں نے ایک ہزار غلام آزاد کیے تھے۔ اور جب ان کے چھوٹے غلام حضرت تفع سے جو امام مالک رحمة اللہ علیہ کے استاد بنے تھے، اب اس سے اندازہ لگائیے کہ وہ کیا دور تھا کہ جس میں ہر شخص کو دوسروں کی بھلائی کی فکر تھی۔ غلام سے تو لوگ جانوروں جیسا سلوک کرتے تھے، جیسا چاہتے کام لیتے، لیکن انہوں نے اپنے غلام کے اندر دیکھا کہ وہ زمین ہے، سیکھنے والا ہے، ہوشیار بچہ ہے تو اسے پوری توجہ کے ساتھ سکھایا اور جو کچھ علم اپنے پاس تھا سارے کا سارا اس کے سپرد کر کے دنیا سے گئے کہ جو ہم جانتے ہیں وہ ہم اگلی نسلوں کو پہنچا جائیں۔ اور پھر اس کے بعد انہوں نے آگے پہنچایا اور پھر وہ سلسلہ چلا تو ایک طرف علم بانٹنے والے اور دوسری طرف مال بانٹنے والے اور خاص طور پر غلام آزاد کرنے والے۔ مہمان نوازی میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس 22000 دینار تقسیم کر دیے، اپنی جگہ سے اٹھے نہیں جب تک وہ سب کا سب تقسیم نہ کر دیا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ خاص طور پر قرآن پاک کی تلاوت کے بعد بہت روتے تھے۔ سورہ بقرہ سب کو یا ان کو چھپا کے رکھو، یہاں سے گن کے ملا۔ اللہ تمہارا حساب لے کر پوچھے گا تم سے۔ اسی پر پھر صحابہ بہت پریشان ہوئے۔ ان کے تقویٰ اور ان کے اخلاق کے بارے میں بہت سی چیزیں ہمیں ملتی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کی تعریف کیا کرتے تھے۔ اور خاص چیز جو آپ سب کو یاد رکھنی ہے اپنے عمر کے بارے میں وہ ہے آپ کا اتباع سنت اور سنت میں ہر وہ کام کرنے کی کوشش کرتے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔ اور باریکی کے ساتھ جہاں آپ نے کھڑے ہو کر دعا مانگی، یہ وہاں کھڑے ہو کر دعا مانگتے۔ جہاں آپ نے بیٹھ کر دعا مانگی، عمر وہاں بیٹھ کر دعا مانگتے۔ جس راستے سے آپ گزرے، اس راستے سے گزرتے۔ جہاں آپ نے لیٹے ہوئے دن کی خدمت کا انداز ہمارے لیے بھی اس میں سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے ہی صالحین کے راستے پر جن پر اللہ نے اپنا انعام کیا، چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

قیامت کے دن ظلم اندھیرے کی شکل میں ہوگا۔ جس کو اندھیرے سے محبت ہے، اسے وہ اندھیرا پسند ہے۔ اندھیرے سے گھبراہٹ ہوتی ہے، خوف ہوتا ہے۔ اور نئی جگہ کچھ جان پہچان کے لیے روشنی چاہیے۔ لیکن جن لوگوں نے دنیا میں اپنے پورے دوسروں پر ظلم کرتے ہوئے، قیامت کے دن روشنی سے محروم ہوں گے۔ حدیث نمبر 17۔ وہاں کا گورنر بنا کر پکار کو کہتے ہیں، لیکن اس کانٹیکسٹ میں معنی بد دعا ہے۔ المظلوم میں مظلوم کی مفعول کے وزن پر جس پر ظلم کیا یعنی اگر کسی شخص پر ظلم کیا، اس کو ضرور ڈانٹا یا بغیر قصور کے اس کو کوئی الزام دیا، کوئی زیادتی ہو جس میں دوسرے کا نقصان ہو، جس میں دوسرے کو تکلیف پہنچی ہو اور اس کے دکھی دل کے ساتھ اس کے منہ سے کوئی بات نکل گئی تو یہ بات فوراً اللہ تعالیٰ تک پہنچ جائے گی۔ کوئی چیز درمیان میں رکاوٹ نہیں بنتی اور پھر فوراً قبول بھی ہوتی ہے۔ ان کے پاس اتھارٹی تھی۔ عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ جس شخص کے پاس اتھارٹی ہو، جس کے پاس تم وقت ہو، وہ دوسروں کا لحاظ کم کرتا ہے۔ یہ دوسروں کو اپنے مقابلہ میں کچھ نہیں سمجھتا۔ اور شیطان کے کام کیا ہیں؟ شیطان کے دو کام نہیں مانے تو ہمیں کیا کہا گیا؟ کسی بھی اعتبار سے اللہ تعالیٰ جب ایک انسان کو دوسرے کسی انسان پر کچھ بھی فضیلت دیتا ہے یا درجہ دیتا ہے، ہاں وہ ایک درجہ کیوں نہ ہو یا کسی بھی طرح ایک شخص کو دوسرے پر کوئی اتھارٹی مل جائے اور وہ اس کا ناجائز استعمال کرے، وہ اسے استعمال کرتے ہوئے دوسرے کو دبائے، زیادتی کرے، اس پر سختی کرے، اس کی بے عزتی کرے اور وہ شخص جواب میں کچھ نہ کر سکے تو ایسی صورت میں اگر وہ اللہ کو فریاد کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کی سن لے گا۔ اور پھر ظالم دنیا میں بھی اس کے انجام سے بچ نہ سکے گا۔ کچھ چیزیں تو ایسی ہیں نا کہ جن کا بدلہ انسان کو قیامت کے دن ملے، کچھ چیزیں ایسی ہیں کہ جو دنیا میں بھی انسان کو بھگتنا پڑتی۔ تو وہ منصب تیار ملتا ہے تو انسان اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھنے لگتا ہے کہ میں دوسرے سے اب کیا ہوا، بڑا ہو گیا، دوسرے سے بہتر ہو گیا۔ لہذا مجھے حق پہنچتا ہے کہ میں دوسرے کے ساتھ جو چاہوں کروں۔ انسان کو اس معاملے میں اللہ سے ڈرنا چاہیے کیونکہ اللہ کا ڈر ہی ایسی چیز ہے جو انسان کو زیادتی سے روک سکتا ہے۔ یہ سوچ کر کہ مجھے کوئی پوچھنے والا نہیں، دوسرا میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، سامنے والا میرے مقابلہ میں کمزور ہے، مجبور ہے، کہاں جائے گا۔ حدیث نمبر 18۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے اللہ کے رسول، ہم مدد کریں گے اس مظلوم کی جو مظلوم ہے، اس کی تو ہم مدد کریں گے، اس کی مدد تو ہمیں سمجھ میں آ رہی ہے۔ تو کس طرح منصور ہوں، ہم مدد کریں اس ظالم کی۔ ظالم کی مدد کیسے کریں؟ کیونکہ لوگوں نے سمجھا کہ شاید ہمیں ظالم کے ظلم میں اس کا ساتھ دینا ہے۔ تو آپ نے فرمایا تم پکڑ لو ہاتھوں پر، یعنی ظالم کے دونوں ہاتھ پکڑ لو، اس کو ظلم سے روک دو۔ صحیح بخاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائی کی مدد کرو، خواہ ظالم ہو یا مظلوم۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم مظلوم کی مدد تو کر سکتے ہیں، لیکن ظالم کی مدد کس طرح کریں؟ آپ نے فرمایا کہ ظلم سے اس کا ہاتھ پکڑ لو۔ تو اس سے کیا پتہ چلا ہے کہ ظلم کرنے کے لیے چھوڑ نہیں دینا چاہیے۔ اگر ہم دیکھ رہے ہیں کسی کے بارے میں کہ وہ دوسرے کے ساتھ زیادتی کر رہا ہے تو ہاں وہ آپ کا عزیز، رشتہ دار کیوں نہ ہو، آپ کے والدین کیوں نہ ہوں، آپ کی بہن بھائی کیوں نہ ہوں، آپ کے بچے کیوں نہ ہوں، آپ کے دوست کیوں نہ ہوں، راستے میں کیوں نہ جا رہے ہوں، ضروری نہیں کہ اس وقت بیچ میں انسان خود پڑے اور خود بھی شکار ہو جائے ظلم کا۔ مار رہا ہے اور دوسرا اس کو بچانے لگتا ہے تو بازو کٹ کیا ہوتا ہے؟ بچانے والا خود بھی کمزور ہوتا ہے، وہ بھی پٹ سکتا ہے۔ آپ کمزور ہوتے ہوئے بھی کود پڑے۔ ہاں اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے اندر طاقت ہے تو اس وقت آپ پوچھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ اس وقت سمجھتے ہیں کہ نہیں تو آپ کسی اور کو ساتھ مل کر دو گنا طاقت کر کے، تین گنا تو پھر آپ آگے بڑھیں۔ یا پھر آپ یہ کہ اس برائی سے نفرت کریں اور اس کے ساتھ جواب کی ایک لانگ ٹرم پلاننگ کریں۔ اس میں آپ دیکھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فطرت پر تھے، یعنی ایک صحیح راستے پر تھے۔ اس وقت بھی کہ جو اللہ نے فطرت میں ہمارے خیال رکھے نا، تو اس پر تھے۔ تو مکہ میں اور عرب کے اندر ظالمی ستم بہت کم تھا۔ جو طاقتور ہوتا تھا بس اس کی چلتی تھی۔ باقی کمزور جو تھے ان کے لیے کوئی ٹھکانہ تھا۔ غلام کا برا حال تھا۔ عورتوں کا برا حال تھا۔ بعض اوقات قافلوں کو لوٹ لیا جاتا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند اور نوجوانوں کے ساتھ مل کر جن کے نام میں فصل آتا تھا، یہ کس لیے تھی تاکہ ظالموں کو ظلم سے روکا جا سکے۔ یعنی جس شخص کے اندر ایک ایمان ہے، ایک خیر ہے، انسانوں کی بھلائی کا جذبہ ہے، یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ جس کا دل حاسد اور جاہل ہو وہ کسی دوسرے کو ظلم کرنے کے لیے چھوڑ دے۔ وہ چین سے نہیں بیٹھ سکتا۔ وہ ضرور کچھ کرے گا۔ کوئی بھی تدبیر اور طریقہ اختیار کرے۔ وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس سے میرا کوئی کنسرن نہیں، جو جس کا جی چاہے کرے، نہیں ایسا کرنے کا کیا نقصان ہوگا؟ اگر آپ دوسرے کو ظلم کے لیے چھوڑ دیں تو کیا ہوگا؟ نہیں پر لوگوں کی ضرورت بڑھتی چلی جائے گی اور پھر پلٹ کر ہو سکتا ہے اگر کسی دوسرے پر ظلم ہو رہا ہو تو اسے روکنا بھی دینی فرض ہے۔ ایک اور بات اس سے جو پتہ چلتی ہے کہ جو ظالم ہے اس کو بھی آپ نے اپنا بھائی کہا ہے۔ یعنی مظلوم تو بھائی ہے، لیکن ظالم بھی بھائی ہے۔ کیوں ظالم کو کیوں بھائی کہا؟ آپ کسی کو محبت ہیں کہ اگر کسی کو برائی سے روکنا ہے تو لازماً کیا طریقہ؟ نفرت کا، شدت کا تو اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ تو کرنا کیا چاہیے؟ حدیث نمبر 19۔ یہ حدیث عبداللہ کہتے ہیں۔

مثلاً اگر آپ اکٹھے کھانا کھا رہے ہیں، ایک پلیٹ سے کھا رہے ہیں، کھجور کھا رہے ہیں، انگور کھا رہے ہیں، یا کوئی بھی چیز جو دانہ دانہ کر کے اٹھائی تو آپ کے لیے اخلاق کا تقاضا کیا ہے کہ آپ کیسے کھائیں؟ ایک ایک کھائیں اور سب ایک ایک کھائیں۔ لیکن اگر اسے جلدی ہے، جان کی کوئی بھی وجہ جس میں وہ ایک کی بجائے دو کھانا چاہتا ہے تو اس کو اجازت نہیں جب تک کہ وہ اپنے ساتھیوں سے اجازت نہ لے۔ تو ایسا نہیں کر سکتا جب تک اوروں کی رضامندی نہ لے لے۔ اب دیکھیں کہاں تک جا کر اس لڑکی کو سمجھایا گیا۔ اب ہمارے یہاں کیا ہوتا ہے؟ جب کوئی دعوت ہوتی ہے، پارٹی ہوتی ہے، شادی ہوتی ہے اور ہم اپنی پلیٹ بھر رہے ہوتے ہیں اور ہمیں پتہ ہوتا ہے کہ فوڈ لمیٹڈ ہے اور ہمارے پیچھے ایک لمبی لائن ہے اور ان سب کو یہیں سے لینا ہے۔ تو میں اتنا ہی لوں جتنا انصاف کا تقاضا ہے۔ صرف اپنی پلیٹ بھرنے کی فکر نہ کروں۔ ان سب کو بھی پیچھے دیکھوں کہ انہیں بھی یہیں سے لینا ہے۔ اسی طرح جو لوگ اکٹھے رہتے ہیں، ہاسٹل میں بچے اکٹھی رہتی ہیں۔ اگر ایک ڈونگے سے سالن ڈال رہے ہیں اور پتہ ہے کہ 10 لوگ ہیں اور 10 بوٹیاں ہیں، پہلے شروع کر رہا ہے وہ اگر دو ڈال لے اور آخری والے حصے میں ایک بھی نہ چھوڑے تو یہ کیا ہے؟ ظلم ہے۔ اور 10 ہیں تو دو سب میں نہیں آئیں گی۔ اور دوسروں کا مذاق اڑا کر ہم سنتوں کا اس طرح بھی مذاق اڑانا شروع کر دیتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ وتر نماز پڑھی یا کوئی نیکی کا کام کیا تو کوئی ان کے پاس تھا تو کہنے لگا اللہ آپ کی یہ نیکی قبول کرے۔ تو اس نے شاید انداز کوئی ایسا افطار کیا گیا تو کہنے لگے کیا تم جانتے ہو کہ ان کا اللہ من المتقیین، اللہ سے ہی نیکی قبول کرتا ہے کہ صرف یہ نہیں ہے کہ ہم کوئی بھی کام کر لیں اور پھر غرور کا شکار ہو جائیں کہ ہم نے بڑا کیا۔ نہیں جب تک وہ ساتھ نہ ہو، خدا کا ڈر نہ ہو تو نیکی بھی قبول ہے۔ ویسے تو آپ یہ شو کرنے کا آپ حدیث سے عمل کر رہے ہیں اور آپ اونچی آواز میں مذاق اڑا کر دوسروں سے پوچھ رہے ہیں اور تقویٰ کہاں گیا؟ تو ایسے میں بازو کو دوسروں کو شرمندہ کرنا بھی ہوتا ہے۔ تو مجھے نہیں جا سکتے ہو کہ دیکھو میں تو پھر کرنے لگا ہوں۔ ہے تو مقصد حدیث کا کیا ہے کہ انسان جہاں اکٹھے رہتا ہو وہاں صرف اپنا اپنا دیکھے، خود غرضی سے کام نہ لے، بلکہ دوسروں کی ضرورت کو بھی سامنے رکھے۔ اور یہ اصول دے دیا گیا دو چیز کاٹھی کھانے کا۔ اس میں صرف کھانے کے معاملے میں ہی نہیں، کوئی بھی چیز آپ استعمال کر رہے ہیں اور جب آپ دیکھ رہے ہیں کہ ایک سے زیادہ لوگ اس کی ضرورت مند ہیں تو پھر انصاف کے ساتھ خود اپنے دل سے فیصلہ لے کر اتنی ہی چیز استعمال کریں جتنی آپ کے ہاتھ میں آئی ہے۔ مطلب کوئی فری آئٹم ڈسٹری بیوشن ہو رہا ہوتا ہے تو اس میں کیا ہوتا ہے کہ اگر ہم موجود ہیں اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ کچھ ایکسٹرا ہے تو ہم کوشش کیا کریں کہ ہم ایک اور لے لیں۔ یا یہ کہ ہمیں زیادہ اچھی مل جائے۔ یہ سب زیادتی کی قسم ہے۔ اگر کسی چیز کے بارے میں کہہ دیا کہ ایک سب کا حق ہے تو بس پھر ایک ہی حق ہے۔ دوسرا تو میرا ہے ہی نہیں۔ اگر وہ بچ بھی جاتا ہے تو وہ پھر جس کو چاہے دیا جائے، وہ میرا حق نہیں۔ لیکن ایسے چھوٹی چھوٹی کتنی چیزیں ہوتی ہیں کہ جس میں لوگ خود غرضی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنا فائدہ تو سوچ لیتے ہیں، لیکن دوسروں کو بھول جاتے ہیں۔ تو ہمیں ان کو بھی نہیں بھولنا جو ہمارے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کو بھی نہیں بھولنا جن کا ہاتھ اور حصہ ہے اس چیز میں جو اس وقت ہمارے ساتھ نہ ہو۔ کسی وجہ سے غائب ہو۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ کوئی شخص دو دو کھجوریں ایک ساتھ ملا کر نہ کھائے یہاں تک کہ اپنے ساتھیوں سے اجازت لے لے۔ کوئی چیز تو انسان پوچھ سکتا ہے۔ کسی اور کو کچھ کھانا جو بچے وہ لا کر سامنے رکھ۔ دوبارہ اس میں سے لینے کو یا کھانے کو اور اگر کسی کو طلب ہے تو وہ اخلاق کا تقاضا کیا ہے کہ وہ چیز اٹھائے اور پوچھے کسی اور کو چاہیے؟ آپ کو چاہیے؟ اگر نہیں تو میں کھا سکتا ہوں یا نہیں؟ بھی اس وقت اگر کہیں تو یہ پوچھنا بھی کافی ہے۔ کسی اور کو چاہیے؟ تو یہ مینرز میں سے ہے، اخلاق میں سے ہے۔ اور صرف اپنا الو سیدھا کرنا اور دوسروں کو بھول جانا یہ بدلہ کے بھی ہے اور ظلم بھی ہے۔ کسی کو تھپڑ مارنا یا کسی کو کچھ اذیت دینا ہی نہیں، بلکہ کسی کا حصہ، خزانہ یا لے جانا یا اڑا جانا یا دوسرے سے زیادہ وصول کر لینا کہ بھی اس میں شامل ہو جاتا ہے۔

حدیث نمبر۔ کتاب سیدنا سالم اپنے والد سے بات کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی زمین میں سے کچھ بھی ناحق لے لیا تو قیامت کے دن اسے سات زمینوں تک دھنسا جائے گا۔ اندر تک اس کو جہنم میں مارا جائے گا۔ بخاری کی ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ ہم سے عبداللہ نے بیان کیا اور وہ کہتے ہیں کہ ہمیں شعیب نے خبر دی، انہوں نے جوہری سے کہا، مجھے طلحہ بن عبداللہ نے بیان کیا اور ان کو عبدالرحمن صاحب نے خبر دی کہ سعید بن زید نے کہا کہ میں نے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے جو کوئی کچھ زمین ظلم سے چھین لے تو سات زمینوں کا طوق اس کے گلے میں ڈالا جائے گا۔ یہاں زمینوں تک دھنسا جائے گا اور وہاں تک ایک ہی بات کو دو طرح سے کیا گیا ہے۔ زمینوں کا طوق اگر اس کے گلے میں ڈالا جاتا تو گویا وہ زمینوں کے اندر ہی دھنسا ہوا ہے۔ تو اس سے کیا پتہ چلا ہے کہ ہاں نہ جائے اور کوئی بھی شخص گزرتے ہوئے کہے کہ چلو کوئی بھی اس کا کوئی وارث دکھتا نہیں تو میں اس پر اپنے نام کا پتا لگا لوں تو یہ بھی ظلم ہے۔ اور اسی طرح وراثت کی تقسیم میں ظلم کے بھائیوں کو، بہنوں کا حصہ بھی دے دیا جائے یا یہ تین کو جائیداد میں سے کچھ بھی نہ دیا جائے تو شوہر کی جائیداد میں سے خواہ زمین ہو یا کچھ اور عورت کو اس کا حق دار نہ سمجھا جائے اور اس کو آؤٹ کر دیا جائے گھر سے یا کوئی بھی اس قسم کی چیز کی جس میں ظلم ہو تو قیامت کے دن انسان کے لیے وہ والے جان بن جائے گا۔ اپنا حصہ آگے کو کر لیتے ہیں۔ یا سرکاری۔ 21 نمبر ہے۔ 30۔ ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بس چاہیے کہ آزاد کر لے اس کو۔ منہا اس سے یہ کام ہوتا ہے۔ تورات پس ڈال دی اس پر راوی۔ بخاری اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اپنے کسی بھائی پر ظلم کیا ہو تو اسے چاہیے کہ اس سے دنیا میں معاف کر لے، یہیں پر اس کو حل کر لے، یہیں اس کو راضی کر لے۔ اس لیے کہ وہاں روپے پیسے نہیں ہوں گے۔ اس سے پہلے کہ اس کے بھائی کے لیے اس کی نیکیوں میں سے حق دلایا جائے۔ اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوں گی تو سمجھ لو کہ برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی۔ انسان بچ کے جھوٹ کے بھاگ نہیں سکتا۔ اگر کسی نے دنیا میں دوسرے کے ساتھ زیادتی کی ہے، اس کا حق ادا نہیں تو ہونا کیا چاہیے کہ دنیا میں ہی انسان ان سے معافی مانگ لے۔ کیونکہ قیامت کے دن انسان کو اپنی نیکیوں میں سے بدلہ دینا ہوگا۔ اب دیکھیں دنیا میں آپ کسی کا کچھ بھی اگر ہتھیار لیتے ہیں، کوئی بھی چیز کسی کی کچھ لے لیتے ہیں کتنے دن ساتھ رہے گی۔ ایسا کسی کا کچھ مال چورا لیا آپ نے، کسی کی کوئی چیز۔ بیماری ہوتی ہے کہ وہ کسی چیز دیکھ لیں تو پھر ان کو چین نہیں آتا جب تک وہ اسے حاصل نہ کر لیں۔ اگر جائز طریقے سے نہیں کر سکتے تو پھر چورا کے، دوسرے کے ستی کر کے، کہیں نہ کہیں سے وہ انہیں اپنے دل کی تمنا پوری کر لیتے جب تک کہ وہ کچھ چورایا نہیں۔ بچپن سے بات لوگوں کو عادت ایسی پڑ جاتی ہے اور کہتے ہیں تو یہ سب دھو کر ہم اپنے آپ کو یہ دوسروں کو دنیا میں تو دے سکتے ہیں۔ اللہ کے ہاں اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ اور نہ ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چوری کو یا کسی کے ساتھ زیادتی کو کوئی نفسیاتی بیماری کر دیا اور اگر نفسیاتی بیماری بھی ہے تو اس کا علاج کرنا ضروری ہے۔ بہرحال دنیا میں اگر کسی کے ساتھ کوئی بھی زیادتی کی ہے، اس کی کوئی بھی چیز اٹھائی ہے یا اس کا حق نہیں دیا تو انسان یہی دے دے، اس کو واپس کر دے اور توبہ کرے۔ دوسرے سے معافی مانگ لے۔ اگر کسی کا دل دکھایا ہے تو معافی مانگ لے۔ اگر کسی کی ہمت کی ہے، چغلی کی ہے، اس کو بدنام کیا ہے تو یا تو اس سے معافی مانگے یا پھر یہ ہے کہ اس کا کفارہ کرے۔ کسی بھی طرح اس کو حل کرے۔ اگر کسی کے ساتھ کوئی تلخی ہو گئی تو دوسرے لفظوں میں کیا کرے؟ اچھا کر دے۔ تو کیا ہوتا ہے؟ ان الحسنات یذھب السیئات۔ نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں۔ کبھی غصے میں ہوتے ہیں، کبھی کسی طرح ہوتے ہیں۔ ہم کتنی بھی کوشش کریں، ہم سے دوسروں کے ہاتھ میں کوتاہیاں ہو ہی جاتی ہیں۔ کبھی جان بوجھ کر ہو جاتی ہیں، کبھی انجانے میں ہو جاتی ہیں۔ ایسی ساری چیزیں دنیا میں ہی صاف ہو جائیں تو بہتر ہے۔ ورنہ قیامت کے دن دینا پڑے گا۔ اس میں وہ حدیث بھی آپ کو یاد ہوگی کہ جس میں آپ نے فرمایا کہ مفلس کون ہے؟ کیا تم جانتے ہو کہ وہ مفلس کون ہے؟ لوگوں نے کہا کہ جس کے پاس دینا اپنے فرمایا نہیں، مفلس وہ ہے کہ جو قیامت کے دن پہاڑ برابر نیکیاں لے کر آئے لیکن کسی کو مارا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا، کسی کے ساتھ زیادتی کی ہوگی، کسی کو گالی دی ہوگی تو ایسے سارے مظلوم بدلہ لینے کے لیے پہنچ جائیں گے۔ حق ختم ہو جائے گی تو انسانوں کے ساتھ زیادتی کرنا اور ان کو تکلیف دینا معمولی چیز نہیں۔ اس معاملے میں انسان کو بہت محتاط رہنا چاہیے۔ اگر ایک وقت میں غصے میں اس کے منہ سے کچھ نکل گیا تو وہ کیا کرے گا؟ ضرور پلٹے گا۔ اور جس کے اندر اکڑ ہو، شیطان کے قدموں پر بھی کر رہا ہو تو ایسا شخص کبھی سوری نہیں کر سکتا۔ اس کے شان کے خلاف اگر اس کو کوئی کہے بھی نا کہ معافی مانگ لو تو اس پر بھی اکڑ جاتا ہے اور معافی نہیں مانگتا۔ اگر کوئی ایسا ہو جو دنیا میں نہ ہو اور وہ ان کے سامنے بدتمیزی کے ساتھ بولتے رہتے ہیں یا ان کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں۔ اب وہ دنیا سے جا چکے ہیں تو ان کے حق میں کثرت سے دعا کریں، ان کی طرف سے صدقہ اور اپنی بھی مانگے کے لیے کوشش کریں۔ ٹھیک کر کے رکھ کے جاتے ہیں۔ یہ چیز کتنی عام ہے نا؟ کسی دکان پر گئے، خرابی کر دی، بتایا نہیں، چپکے سے نکل آئے۔ تو پتہ نہ چلے، پکڑ ہو جائے گی۔ دنیا میں تو چپکے سے بھاگ گئے، نہیں پکڑے گئے۔ آپ لیکن کیا واقعی بھاگ سکتے ہیں؟ ایک شخص نے کسی کا کچھ ہتھیار لیا، شاید اس کی زمین پر قبضہ کر لے، اس نے نکال دیا فقیر چاچا بیچارہ تو آنکھیں قبرستان کے دروازے پہ بیٹھ گیا۔ تو کسی نے اس سے پوچھا کہ بھائی اس نے تو میں نکال دیا تم یہاں آ کر بیٹھ گئے۔ کہا ہاں، یہاں تو آئے گا، سب کے اندر جان کا اس سے کوئی بھی چوک نہیں سکتا۔ اور کئی لوگ مارے گئے۔ اسی طرح پاکستان میں آپ دیکھیں گے کراچی میں جو مسٹر پارک میں ہوا، یہ ساری ظلم کی قسمیں ہیں۔ اب اگر ایک شخص کسی کو خرید کے چاہے کسی بھی طرح کسی بھی طرح سپورٹ کر کے دوسروں کی جان ناحق، بے گناہ لوگوں اگر آپ کے نزدیک اچھے لوگ نہیں ہیں جن کو آپ مار رہے ہیں تو آپ کو تو کسی نے ہاتھ کو رشتہ دار نہیں دیا یعنی بھلے اگر کوئی گناہ کو مارا وہ جو بڑا خراب تھا تو قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی تو کسی کو بھی اجازت نہیں۔ ایسے کسی بھی واقعے کے پیچھے کسی بھی طرح اگر کوئی شریک ہوتی ہے تو پھر کیا ہوتا ہے؟ اور اسی طرح دوسروں کی پراپرٹیز کو نقصان پہنچایا جاتا ہے، پیٹرول پمپ جلا دیے جاتے ہیں اور لوٹ مار شروع کر دی جاتی ہے۔ کوئی دکھ نہیں بنتی۔ کوئی پچھلے دنوں جو کارٹون کنٹروورسی تھی اس میں جب بہت سی ایسی ریلی ہوئی تو بعض اوقات غریب تھیلی والوں کی تھیلی توڑ دی، فروٹ پھینک دیا گیا اور ان سب چیزوں کا حساب دینا ہوگا۔ قیامت کے دن۔ حدیث نمبر۔ دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس کا اسلام افضل ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی زبان اور ہاتھ سے سارے مسلمان سلامتی میں رہے یعنی انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ نہ ان کی جان کو، نہ مال کو، نہ عزت کو، نہ آبرو کو۔ تو کیا دوسروں کو دکھ دینے سے بچانا جو ہے یہ بھی بہت ضروری ہے کہ جس میں ہم دوسروں کی رائے سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ہم مسلمان آبادی والے علاقے میں رہتے ہیں اور پھر اسے استعمال کر کے رسید کے ساتھ واپس لوٹا دیتے ہیں۔ جسے شادی پر جانا ہے تو کوئی نیا ڈریس پہن لیا اور پھر اس کے بعد آ کر طے کر کے واپس کر دیا۔ چھوٹی چھوٹی حقیر چیزوں کے لیے انسان اپنا نامہ اعمال کل کرتا ہے اور قیامت کے دن وہ سب کچھ اسے نیکیوں سے دینا ہوگا۔ بدلے میں یعنی اپنی نیکیوں سے ہاتھ دھونا ہوگا۔ کتنی نیکیاں، کتنا دور ہوتا ہے اس میں نیت پتہ نہیں کیسی ہوتی اور پھر ساتھ ساتھ ایسے کام کرتے ہیں کہ جس سے دنیا میں بھی صفائی ہوتا ہے اور پھر اگر کوئی بچہ کچھ ساتھ لے بھی گئے تو وہاں جا کر ان چیزوں میں اگر سب کچھ بانٹ دیا تو ہاتھ میں کیا رہے گا؟

سہادوں میں سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ان نیا بیشک انا میں بشرون ایک انسان ہوں۔ و انتم اور بے شک تم تخت سے منا جھگڑنے والا۔ اللہ اور شاید باد عمر میں بولنے والا اپنی عزت کے ساتھ۔ لہذا میں کٹتا ہوں۔ لگو اس کے لیے اتقا ایک ٹکڑا ملنا۔ نہ اج میں سے۔ بخاری۔ مسکرایا۔ بس لوگوں کا طریقہ یہی ہوتا ہے کہ وہ جھوٹی بات کو بھی سچ بنا کر پیش کر سکتے ہیں۔ زمین آسمان کے قلابے ملانا چاہتے ہیں اور باتوں میں اس طرح دوسرے کو دھوکہ۔ یعنی سچے کو بھی جھوٹا بنانا جانتے ہیں۔ اگر کوئی جانتا ہو اور پھر وہ مقدمے جیت سکتا ہو اور عدالت کے سامنے غلط دلائل لا کر اپنے حق میں کوئی فیصلہ کر لے، کسی کی چیز کو اپنا بنا لے۔ کیونکہ جج کا کیا کام ہوتا ہے کہ وہ تو صرف ظاہر دلائل کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے۔ کیا سمجھنا ہے کہ میرا فیصلہ تو اس شخص کو چاہیے کہ وہ چیز نہ لے۔ اگر اس نے وہ چیز لے لی تو گویا اس نے آپ کا ایک ٹکڑا لے لیا۔ شخص کسی کی زمین پر ناجائز قبضہ کر لیتا ہے۔ اب کیا ہے؟ ایسے میں بہت خوش ہو رہے ہوتے ہیں۔ ناجائز کسی کا مال ہتھیار، لیکن اس چیز کی حقیقت کو نہیں جانتے اور سمجھتے کہ جو کچھ انہوں نے لیا وہ کیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح میں اس جہنم کا ایک ٹکڑا دے رہا ہوں۔ آپ کا ٹکڑا کاٹ کے دے رہا ہوں۔ دنیا کا مال ہو، یہ زمین کا ٹکڑا ہو یا کوئی بھی دنیا کی چیز ہو، لیکن اب دیکھیں یہ چیز بھی خود مسلمانوں کے اندر کتنی ایسا ہوتا ہے اور وہ جھگڑا ختم ہوتا ہے طلاق پر۔ اب جب طلاق ہوتی ہے تو پھر امونیا اس کے بعد کس چیز کے بٹوارے ہوتے ہیں؟ مال کے، بینک بیلنس کے اور بھی جو کچھ مل کر پتہ ہے کہ اتنا پیسہ میرا تھا اور اتنا نہیں۔ لیکن اگر وہ کسی بھی طریقے سے عدالت کے سامنے کوئی بھی جھوٹا ثبوت پیش کر کے یہ ثابت کر دیتا کہ بیوی کو پتہ ہے یہ چیز میری نہیں تھی اور میرا حق نہیں اور کسی بھی قانون کا سہارا لے کر وہ چیز اپنے حق میں کروا لیتی ہے جو اس کی نہیں تھی۔ تو دنیا میں تو ہو سکتا ہے کہ ایک شخص ایسا مقدمہ جیتنے کے بعد بہت خوش ہو، لیکن اگر اس کو پتہ ہے کہ کوئی چیز میری نہیں تھی اور میں نے ظلم لے لی تو وہ اس پر خوش نہ ہو، بلکہ خوب روئے۔ کیونکہ اس نے اپنے لیے تفع کا سودا نہیں کیا۔ بہت بڑا نقصان کمایا۔ جہنم کی آگ خریدی۔ وضاحت دنیا میں کچھ چیزیں کتنی خوشنما لگ رہی ہوتی ہیں۔ اب لوگ اپنے آپ کو بہت عقلمند سمجھنا ہے دوسروں پر زیادتی کر کے۔ یہ دوسروں کی چیز ایسی کوئی مثال یا کوئی بات نہیں۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ میرے ہسبینڈ کے ایک دوست ہیں تو وہ کسی جگہ کام کرتے تھے تو اس کے مالک نے اس کو پیسے نہیں دیے۔ دو دن کے کہتے ہیں تم نے چھٹی کی ہے نا؟ تو کہتے ہیں میں نے کوئی چھٹی نہیں کی تو اس نے صاف جو اس کے ساتھ کام کرتا تھا اس کو اپنے ساتھ ملا لیا۔ وہ کہتا ہے کہ مجھے پتہ ہے کہ آپ نے چھٹی کی ہے نا؟ تو اس نے اس کو پیسے نہیں دیے۔ نا جی ہاں۔ بازو کٹ کسی کی ضرورت روک لینا یہ بھی ظلم میں آتا ہے۔ جب ہم مشترکہ فیملیز میں رہ رہے ہوتے تو ایک ماں ہوتی ہے وہ اپنی بچے سے آپ ہمیں لڑائی کر لیتے ہیں تو وہ کوئی چیز لے لی، کسی کا کچھ کر دیا تو اکثر ماں کو پتہ ہوتا کہ ان کے اپنے بچے کی غلطی ہے اس کے باوجود بھی وہ یا جیسے کوئی چیز چھین لیتے ہیں وہ کسی دوسرے بچے سے تو لے کے بھی اور پھر لے چیز بھی دے دیتی ہوں۔ ان کو پھر اس کے بعد مار بھی پھیک کرواتی ہیں۔ یہ ڈالتے ہی زیادہ کس بچوں کو ڈانٹیں گے کہ تم نے ایسا کیوں کیا تھا اس کے ساتھ اور اپنے بچوں کی غلطی کبھی کچھ چھپا دیتی ہیں۔ اس کا نقصان کیا ہوتا ہے؟ اپنا بچہ جھوٹ پر، ظلم پر، ظلم پر ڈالر ہو جاتا ہے۔ جب ہم اپنے بچوں کی غلطیوں پر ان کو منع نہیں کرتے تو وہ پختہ ہوتے ہوتے کل کو وہی بچے ظالم بن جاتے ہیں۔ السلام علیکم۔ ہمارے جاننے والے میں انہیں جانتی ہوں کہ وہ کافی اچھے سے ایک کرایہ کے گھر میں پاکستان میں رہتے تھے اور انہوں نے کچھ سالوں کے بعد جو اونر تھے اس کے اوپر کورٹ میں کیس کر دیا کہ گھر ہمارا ہے اور اس طرح کئی واقعے میں نے سنے ہیں جو لوگ کرایہ کے گھروں پر خود قبضہ کر لیتے ہیں، اونرز کو نکال دیتے ہیں وہاں سے۔ اب دنیا میں تو رہنے کا ایک گھر مفت میں مل گیا، لیکن نتیجہ کیا ہوگا؟ قیامت کے دن جو چیز ہماری نہیں وہ دنیا بھر کی عدالتوں میں مل کر اگر کہیں کہ یہ ہماری ہے تو بھی ہماری نہیں۔ وہ ہم اپنے جان پر خود ظلم کر رہے ہیں۔ سلام علیکم۔ یہ بہت پہلے کی بات ہے تو وہاں جھگڑا چل گیا تمہارا زبردستی دے رہی ہے ڈالی گئی ہے تو یاد رکھ کے اب تک تیرے گلے میں رہ توک پہنایا جائے گا۔ میں نے چھوٹی سی اس وقت یہ حدیث سنی تھی اور آج سنی ہے تو مجھے یاد آ گیا کہ فتویٰ دینے والے بھی عالم بھی ہیں اور بات سننے والے بھی ہیں۔ بات یہ ہے کہ ہم جب تک اس ظلم کو اگلی زندگی سے ریلیٹ نہیں کریں گے تو بڑوں کا کیا ہوتا ہے کہ ہمیں سمجھ ہی نہیں آتی۔ ہم سمجھتے نہیں ہیں۔ ہم تو اس میں سے کسی چیز میں بھی فٹ نہیں ہو رہے۔ زمین ہے سب بانٹ دیا بنے اور سب کو دے دی، لیکن لڑکیوں کا نام نہیں دیا۔ جہاز میں ہمیں دو دو مربع زمین ملی۔ آپ نے بھی تھوڑی سی ناانصافی کی کہ دریا والی زمین ہمیں دے دی اور خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ دریا بھی راستہ چھوڑ گیا اور زمین بہت اچھی نکل تو بھائی جیسے جیسے دریا چھوڑنا جا رہا ہے وہ کرتا ہے کیونکہ زمین ہمارے نام ڈگری ہو چکی، لیکن ہم نے کوئی پیار بھی نہیں کی، کوئی کچھ نہیں کیا۔ تو اب مجھے تو اللہ کی مہربانی میرے میاں کیا چھوڑو، چھوڑو ہم کچھ نہیں کرتے۔ میری بہن کو ضرورت ہے تو میں کہتی ہوں کہ اس کو تو دے دو۔ تو کہتے میرے کو نظر نہیں آتا۔ پیپر سائن کروا لیتے تو ابو سن رہے ہیں، ابو کو پتہ ہے، سب کچھ ہو رہا ہے۔ بڑے بھائی بھی ہیں، بہن ہم سب بیٹھنے ہیں۔ نے باتیں ہوتی ہیں، کوئی سائیڈ کوئی بات ہی نہیں کرتا۔ تو میں سوچتی ہوں یہ ہمارے گھر میں غیروں کی باتیں تو ہم کیا کریں؟ میں سوال کرنے لگی تھی کہ آپ نے کہا تھا نا سادے آپ کرتے ہیں وہ ہیلپ فل فضول جوڑا کیا طریقے کیا ہے اس ظلم کو روکنے کے لیے؟ بیسکلی لام اور خدا خوف ہی نہیں۔ انہیں مسلمان خود اپنے دین سقافل ہیں اور اپنے انجام سے بے خبر ہیں۔ اگر انسان کو یہ پتہ چل رہا ہے کہ جو کچھ یہ کہا جا رہی ہے یہ سچ ہے اور ایسا ہوگا تو انسان اپنی بھی ڈر ڈالے۔ کیونکہ جب خاندان کے بہت سے لوگ مظلوم کی وجہ ظالم کے ساتھ ہو جاتے ہیں کہ وہ طاقتور ہے تو پھر بازو کا تو دوسرا اس کو روک بھی نہیں سکتا جو بولے یا کہے تو وہ بھی بڑا بنتا ہے۔ یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ آپ کا احسان کرنا ان کے ساتھ ان کے دل پھیر دے۔ ان پر اور بھائی کی مدد کرنا ہو ضروری ہے تاکہ اس کو ظلم سے روکا جا سکے۔ اب اس ہفتے کا ہوم ورک نوٹ کر لیجئے۔ اپنی بلانگز کا جائزہ لینے، سٹور، کچن، برتن جو بھی چیزیں آپ کے پاس ہیں ان سب کا جائزہ اور دیکھیں کہ کیا آپ کے گھر میں آپ کے پاس کسی تو نہیں جو اسے واپس لوٹانا ضروری ہے؟ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عاری لی ہوئی چیز واپس کی جائے گی۔ یعنی دودھ پینے کے لیے کسی کی گائے بھینس وغیرہ واپس کی جائے گی۔ قرض ادا کیا جائے گا۔ اور زمین ضمانت بھرنے والا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خبردار ظلم نہ کرو۔ خبردار مسلمان آدمی کا مال حلال نہیں مگر اس کی خوشی سے۔ کسی کی کوئی چیز جو آپ نے اس کی مرضی کے بغیر اپنے پاس رکھی ہوئی ہے وہ آپ کے لیے حلال نہیں جب تک کہ وہ آپ کو اجازت نہ دے۔ تن رکھے ہوئے ہیں اور میں سب کو اعلان کر چکی ہوں اور کوئی قوالی وارث نہیں بن رہا تو اب میں کیا کروں؟ میں کیا کرنا چاہیے؟ 1 سال تک رکھنا ضروری ہے۔ حتیٰ کہ کسی نے فون کیا نام نہیں بتایا اور وہ کہتی ہے کہ ہمیں کہا گیا تھا کہ ہمیں اگے کی سیٹس پر گروپ وائز بیٹھنے کی اجازت ہوگی لیکن اس کے باوجود ہمیں ہماری بڑی پر بیٹھنے نہیں دیا گیا۔ کیا یہ ضرور نہیں؟ جی ہاں، اگر آپ کسی کا حق لے لیتے ہیں، خان سیٹ کا ہی کیوں نہ ہو، جگہ کہیں کیوں نہ ہو، تو وہ بھی ظلم میں شمار ہوتا ہے۔ ایک چیز اپنے آپ کو رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم دوسرے کی جگہ۔

خود کو رکھ لینے کسی بھی چیز پر جب اپنا حق سمجھنا لگے تو فوراً دیکھیں کیا کی جس کا یہ حق ہے کیا وہ مجھے چھوڑو اس چیپٹر میں سے کون سی حدیث یاد کریں گے آپ چلیے میں آپ کو کہلوا دیتی ہوں تاکہ آپ کے لیے یاد کرنا آسان ہو جائے حدیث نمبر 1680 یاد کرنے میں سپیلنگ کا دوست ہونا ضروری ہے [موسیقی] یاہو ملکیا ماٹی راؤ البخاری کتاب