Transcription
وائس میل کو بالکل نہ سے اس سے پہلے لوگوں کی ہدایت کے لیے وہ انجیل، کتاب، اور اس کے علاوہ دیگر اقسام نازل کیں کہ اب ہمارے سامنے قرآن ہے جو حق اور باطل کے درمیان فرق کر سکتا ہے۔ ان آیات کو سامنے رکھیں تو پتہ یہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ حقیقی ہے اور جس نے انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے، اس نے انسان کو بھٹکنے کے لیے چھوڑ نہیں دیا، بلکہ ہر زمانے میں کتابیں بھیجیں اور جب انسانوں نے مختلف ہاتھ کی بنا پر ان کتابوں میں تبدیلی پیدا کر دی یا ان کے اندر تحریف کر دی تو اس کی درستگی کا انتظام بھی اس نے فرمایا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی کے طور پر بھیج کر لوگوں پر ہدایت کا پیغام مکمل کر دیا ہے، ہدایت کا پورا انتظام فرما دیا ہے۔ اب آپ ہی لوگوں کے درمیان یا خطاب، یہ قرآن حکیم ہی قول فیصل، فیصلہ کن چیز ہے جو لوگوں کے انجام کو بتانے والی ہے۔ اس لیے پروردگارِ عالم نے فرمایا: "تو وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا، کس کا کفر؟ کس کا انکار؟ اس پروردگار کا اور اس کتاب کا خاص طور پر، کیونکہ سورۃ الفرقان میں آتا ہے: "تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا" کہ بہت برکت والا ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیا تاکہ تمام انسانوں تک پیغام پہنچائے۔ اور جو لوگ اس کو نہیں مانیں گے، "إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ" اللہ کی آیات کا جو انکار کریں گے، ان کے لیے سخت سزا ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ قریش نے نہیں مانا تو کس طرح وہ ہلاک ہوئے، پتہ مکہ آد، ان کا نام و نشان تک ختم ہو گیا اور اسی طرح یہود مدینہ سے جلا وطن کیے گئے، خیبر سے جلا وطن کیے گئے اور اسی طرح نجران بھی جہاد دینے پر راضی ہوئے تو جن لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا، دنیا میں بھی ان کو ناکامی ہوئی اور آخرت میں بھی اگر وہ اس کو نہیں چھوڑیں گے، جاننے کے بعد نہیں مانیں گے تو عذاب کا شکار ہوں گے۔ بھلا ہو عزیز، غالب اور اللہ زبردست ہے، انتقام لینے والا ہے۔ اس بات کا انتظام، اس بات کا بدلہ، اس بات پر سزا، اللہ کو جھٹلانے پر، یا انکار پر۔